'ہمیں خیموں کی اشد ضرورت ہے' | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کاغان کے رہائشی سردار جمعہ خان نے بی بی سی کو بتایا: زلزلے کے بعد ہر دن افراتفری میں گزرا ہے۔ زلزلہ کے روز سے زیادہ تر بارش ہوتی رہی ہے۔ کاغان منفی درجہ حرارت کا علاقہ ہے اور زلزلے سے پہلے برف آبادیوں کے قریب پہنچ چکی تھی۔ بوڑھے بچے، اور کئی لوگ سردی کی وجہ سے نمونیا کا شکار ہو کر ہلاک ہو چکے ہیں اور جو بچ گئے ہیں ان کو سر چھپانے کے لیے خمیوں کی ضرورت ہے جومل نہیں مل رہے ہیں۔ ہیلی کاپٹر کے ذریعے کبھی خیمے آتے ہیں کبھی دوائیاں آتی ہیں لیکن اس وقت لوگوں کو سب سے زیادہ ضرورت خمیوں کی ہے۔ کاغان میں مرنے والوں کی تعداد: کاغان یونین کونسل ساٹھ ستر کلو میڑ کے علاقے پر پھیلی ہوئی ہے اور اتنے قلیل وقت میں مرنے والوں کی صحیح تعداد کے بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا ہے۔
لوگوں کے مکان گر چکے ہیں، اور جو کچھ بچا ہے وہ اس کو سنبھالنے کو کوشش میں لگے ہوئے ہیں اور گھروں سے باہر کم ہی جاتے ہیں البتہ اگر کسی عزیز رشتہ دار کی موت کی خبر ملے تو وہ گھر سے نکلتے ہیں۔ اموات کے بارے میں سب سنی سنائی باتیں ہیں۔ زلزلے کے روز ایک گاؤں میں ایک شخص کی تدفین کے موقع پر بہت سے لوگ ہلاک ہوئے جن میں اکثریت عورتوں کی تھی۔ کوئی کہتا ہے کہ ساٹھ ستر عورتیں ہلاک ہوئی تھیں جبکہ کچھ کا کہنا ہے کہ ڈیڑھ سو لوگ ہلاک ہوئے ہیں۔فل الحال اموات کے صحیح اعداد وشمار نہیں بتائے جا سکتے۔ مردم شماری کا ایک محکمہ ہے۔انہیں سے یہ اعداد وشمار مل سکتے ہیں ۔ زلزلے میں شاید وہ بھی ہلاک ہو گئے ہوں گے۔ علاقے کے محکمہ مال کے لوگوں کی اکثریت کا تعلق بالا کوٹ سے تھا، شاید وہ بھی مر چکے ہیں ہمیں ان کا پتہ نہیں چلا ہے۔ کاغان میں مرنے والوں کی صحیح تعداد کا پتہ نہیں چلایا جا سکتا۔انہوں نے کہا کہ علاقے میں کاشتکار اور کسان ہی آباد ہیں جبکہ علاقے کے بڑے شہروں میں منتقل ہیں۔ روڈ کے بارے میں ایسا لگتا ہے کہ جیسے یہ کبھی بنا ہی نہیں تھا۔ جب روڈ ہی نہیں ہو گا لوگ کیسے آئیں گے۔ یقین مانیں جو لوگ نسوار ڈالتے ہیں ان کو نسوار بھی نہیں مل رہی ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||