'قدرت اور حکومت پراعتماد نہیں رہا' | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں ہونے والی امدادی کارروائیوں کے تناظر میں مانسہرہ میں موجود کینیڈین ریڈ کراس کے رکن شہریار سرور کا جائزہ: میں یہاں کینیڈین ریڈکراس کی جانب سے بارہ ہزار کمبل لے کر آیا ہوں جو اب عالمی ریڈ کراس کے حوالے کیے جاچکے ہیں اور جلد ہی ان کی تقسیم شروع ہو جائے گی۔ امداد کے حوالے سے یہ کہنا بہت مشکل ہے کہ اب تک کیا کچھ ہوا ہےگ البتہ جو بھی ہوا ہے وہ بھی کم لگتا ہے۔ یہاں بہت سے لوگ رضاکارانہ طور پر کام کر رہے ہیں۔ ان میں ڈاکٹر ہیں، انجینیئر ہیں اور عام لوگ ہیں جو اپنا کام کاج چھوڑ کے ملک کے بہت سے شہروں سے آئے ہیں۔ یہاں ان لوگوں نے کیمپ لگائے ہیں جن میں رضائیاں تقسیم کی جا رہی ہیں۔ کچھ لوگ نقد رقم بھی تقسیم کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ فوج نے بھی کیمپ لگائے ہیں جن میں میڈیکل کیمپ بھی شامل ہیں جہاں زخمیوں کا علاج کیا جا رہا ہے۔ فوجیوں نے مجھے بتایا ہے کہ انہوں نے علاقے کے متاثرہ گھروں کا دورہ کیا ہے اور ان کے مکینوں سے معلومات حاصل کی ہیں کہ ان گھروں میں کتنے افراد رہائش پذیر تھے، ان کا کتنا نقصان ہوا ہے اور انہیں کس چیز کی ضرورت ہے۔ فوج اب متاثرین میں پرچیاں تقسیم کر رہی ہے جن کی بنیاد پر امداد حاصل کی جا سکتی ہے۔ یہ پرچیاں قریبی علاقوں میں تقسیم کی گئی ہیں اور وہ لوگ مشتعل ہیں جو یا تو دور رہتے ہیں یا انہیں یہ پرچیاں نہیں ملی ہیں۔ تاہم قریبی آبادیوں کے لوگوں کو پرچیاں بھی ملی ہیں اور انہیں امداد بھی مل رہی ہے۔ جہاں تک امداد کی تقسیم میں تاخیر کا سوال ہے اس کی قدرتی وجوہات بھی ہیں اور انسانی بھی۔ انسانی وجہ امداد کی تقسیم میں مختلف محکموں کا عمل دخل ہے جس کی وجہ سے امداد کی فراہمی میں تاخیر ہو رہی ہے۔ دوسری وجہ سڑکوں کا بند ہونا ہے۔ جو راستے کھلے ہیں ان پر ٹریفک بہت زیادہ ہے جس کی وجہ سے ٹریفک جام ہو رہا ہے۔ آج کل اسلام آباد سے مانسہرہ پہنچنے میں آدھا دن لگ جاتا ہے۔ امداد کی ترسیل میں بھی کافی مشکلات ہیں جو کہ مستقبل قریب میں حل ہوتی نظر نہیں آتیں۔ اسلام آباد ائرپورٹ پر کسٹم سے لے کر متاثرہ علاقوں میں امداد پہنچانے کے لیے ٹرانسپورٹ کے انتطام تک شدید مشکلات پیش آتی ہیں تاہم یہ بدانتظامی ہر بڑے سانحے کے ابتدائی دنوں میں ہوتی ہے۔ ابتدائی دنوں میں حالات بدلتے ہیں اور ساتھ ساتھ پلان بدلنا پڑتا ہے۔ دو تین ہفتے بعد ہی حالات میں نظم وضبط پیدا ہوگا۔ تب تک تکلیف ہے جو برداشت کرنا ہوگی۔ مانسہرہ کے امدادی کیمپوں میں موجود متاثرین خاصے خوفزدہ لگتے ہیں۔ یہاں کوئی بھی زیادہ جوش کا مظاہرہ نہیں کر رہا۔ لوگ سہمے ہوئے ہیں اور اب انہیں اپنے مستقبل کی فکر کھائی جا رہی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ لوگ اپنا اعتماد کھو چکے ہیں۔ انہیں نہ تو اپنے آپ پر بھروسہ ہے نہ ہی قدرت پر اور فوج اور حکومت پر سے بھی ان کا اعتماد اٹھ چکا ہے۔ یہاں مقامی لوگوں کو تسلی دینا سب سے مشکل کام ہے۔ ہم نے فوج سے بھی درخواست کی ہے کہ عالمی ریڈ کراس کے نمائندوں کو مانسہرہ یا بالاکوٹ سے ہیلی کاپٹروں کی مدد سے دوردراز علاقوں میں اتارا جائے تاکہ ہم اس بات کا جائزہ لے سکیں کہ وہاں متاثرین کو کس پیمانے پر امداد کی ضرورت ہے اور پھر ان ضروریات کو پورا کرنے کے لیے کارروائی کی جا سکے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||