BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 17 October, 2005, 07:33 GMT 12:33 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ڈاکٹر کی ڈائری: ہر جگہ ایک ہی کہانی
متاثرہ بچہ
متاثرہ بچےشدید نفسیاتی دباؤ کا شکار ہیں

پاکستان کے صوبہ سرحد میں زلزلہ زدگان کی مدد کرنے والی ٹیم کے رکن ڈاکٹر عرفان نور بی بی سی ویب سائٹ کے لیے علاقے کے حالات پر ایک ڈائری تحریر کر رہے ہیں۔

اس ڈائری سے کچھ اقتباسات نیچے دیے جارہے ہیں۔

مانسہرہ، پندرہ اکتوبر، شام 20 : 8

اب پہاڑوں کی چوٹیوں پر برف دکھائی دینے لگی ہے جو کل تک موجود نہیں تھی۔ آج ہم کالا ڈھاکہ کے علاقے میں پہنچے۔ یہ ایک قبائلی آبادی ہے اور ہم گزشتہ روز سے یہاں آنے کی کوشش کر رہے تھے۔

اس علاقے میں تیس سے چالیس گھر مکمل تباہ ہوچکے ہیں جبکہ ہلاکتوں کی تعداد تین سو کے قریب ہے۔ اس آفت میں زندہ بچ جانے والے افراد اب جائے پناہ کی تلاش میں ہیں۔ ہم جہاں بھی گئے ہیں ہمیں پناہ کی تلاش میں سرگرداں افراد ہی ملے ہیں۔

پہاڑوں کی چوٹیوں پر برف دکھائی دینے لگی ہے

علاقے کے قبائلی سردار بہت پر سکون تھے اور انہوں نے ہم سے بہت تعاون کیا۔ اس علاقے میں سیاسی بے چینی پائی جاتی ہے تاہم اس سانحے کے بعد اس کا ذکر غیر ضروری سا ہو گیا ہے۔

اب مجھے اقوام ِ متحدہ کے ادارے یونیسف سمیت دیگر امدادی تنظیموں کے روزانہ ہونے والےاجلاس میں شرکت کرنی ہے۔ اس اجلاس میں ہم اب تک کیے گئے کام پر بحث کرتے ہیں اور آئندہ کی حکمتِ عملی طے کرتے ہیں۔ اس اجلاس کی رپورٹ سب کو بھیجی جاتی ہے تاکہ ہم باہمی تعاون کر سکیں۔ آنے والے دنوں میں ایسے بہت سے اجلاس ہونے ہیں۔

مانسہرہ، چودہ اکتوبر، شام 30 : 7

رات جب ہم اپنی دن بھر کی کارکردگی پر بات کر ہے تھے تو زلزلے کا ایک شدید جھٹکا آیا۔ یہ جھٹکا اتنا طاقتور تھا کہ میں گر پڑا اور اس وقت دیواروں سے چٹخنے کی آوازیں آ رہی تھیں۔

زلزلے کے طاقتور جھٹکے اب بھی آ رہے ہیں اور جب آج میں اٹھا تو آسمان بادلوں سے بھرا ہوا تھا اور تیز بارش ہو رہی تھی۔

اب بھی ہزاروں لوگ ایسے ہیں جن کے پاس کھانا پکانے کے چولہا یا خیمہ تو درکنار بارش سے بچنے کے لیے پلاسٹک کی ایک شیٹ تک نہیں ہے۔

اب بھی امداد کی تقسیم ایک بڑا مسئلہ ہے: ڈاکٹر عرفان نور

اگرچہ اقوامِ متحدہ کے آنے سے امداد کے سلسلے میں باہمی روابط میں بہتری آئی ہے تاہم اب بھی امداد کی تقسیم ایک بڑا مسئلہ ہے۔ زیادہ تر خوراک سڑک کے راستے لائی جا رہی ہے جن میں زیادہ تر اب بھی بند ہیں۔

میرا خیال ہے کہ اس علاقے کی ستّر فیصد آبادی سڑکوں سے دور پہاڑوں پر رہتی ہے اور اب تک ان افراد تک نہیں پہنچا جا سکا ہے۔ ان کے پاس نہ مدد پہنچی ہے نہ ہی خیمے۔

 اب بھی ہزاروں لوگ ایسے ہیں جن کے پاس کھانا پکانے کے چولہا یا خیمہ تو درکنار بارش سے بچنے کے لیے پلاسٹک کی ایک شیٹ تک نہیں ہے۔

ہم نے آج کے دن کا کچھ حصہ بیلیاں کے علاقے میں گزارا۔ یہاں پہاڑ کی چوٹیوں پر بنے گھر ایک دوسرے کے اوپر آ گرے ہیں۔ اس علاقے میں پہاڑ کے دامن میں دس ہزار کے قریب افراد موجود ہیں جن میں سے زیادہ تر خیمے طلب کر رہے ہیں لیکن ہم انہیں صرف امید ہی دلا سکتے ہیں۔

اس وقت ہم کالا ڈھاکہ کے قبائلی سرداروں سے رابطہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس علاقے میں پندرہ ہزار کے قریب افراد رہتے ہیں اور ہم اس جگہ کی صورتحال کے بارے میں کچھ نہیں جانتے۔ ایک اور جگہ جس کا نام بٹ گرام ہے وہاں بھی صورتحال بہت نازک ہے۔

ہم نے آج کی شام گڑھی حدید جل میں گزاری جہاں اسّی فیصد گھروں کو نقصان پہنچا ہے اور ایک سکول میں سے اب تک چھ سو بچوں کی لاشیں نکالی جا چکی ہیں۔

ایسی بہت سی جگہ ہیں جہاں ہم ابھی پہنچنے کی ضرورت ہے۔

اوڈھی، تیرہ اکتوبر، شام 30 : 4

یہاں میڈیکل سے متعلقہ تمام عمارتوں کو نقصان پہنچا ہے۔ علاقے میں ہزاروں بے گھر افراد موجود ہیں جنہیں پناہ کی اشد ضرورت ہے۔ زیادہ تر گھر تباہ ہو چکے ہیں اور بہت بلندی پر واقع ہونے کی وجہ سے اوڈھی میں بہت ٹھنڈ ہے اور حالات بہت نازک ہیں۔ صرف یہاں ہی بیس ہزار خیموں کی ضرورت ہے۔

ہم نے یہاں بچوں کو بنا کسی پناہ کے دیکھا۔ وہ شدید نفسیاتی دباؤ کا شکار ہیں۔ وہ بہت مضطرب ہیں کیونکہ وہ پانچ راتیں کھلے آسمان تلے گزار چکے ہیں۔

ہر کوئی بالا کوٹ جا رہا ہے جو کہ اب موت کی وادی بن چکا ہے۔ ہم جانتے ہیں دوردراز دیہات میں اب بھی لوگ موجود ہیں لیکن سب انہیں قصبوں کی جانب جاتے ہیں۔

تمام ایجنسیاں اب باہمی رابطے اور تعاون سے کام کر رہی ہیں لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہمارے پاس وہ سب ہے جس کی ہمیں ضرورت ہے۔ ہم نے خود اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے کہ حالات اب حکومت اور فوج کے بس سے باہر ہو چکے ہیں۔ہمیں ساری دنیا سے مدد کی ضرورت ہے۔

آج دو جھٹکے محسوس کیے گئے۔ میں نے پہاڑ کو دیکھا اور ایسا لگ رہا تھا کہ وہ دو ٹکڑے ہوجائے گا۔ ہمارے سر پر ایک بڑی چٹان لرز رہی تھی۔

میں نے ڈاکٹروں کو روتے دیکھا ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو فرنٹ لائن پر کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے لوگوں کو مرتے دیکھا ہے اور وہ یہ منظر برداشت نہیں کر سکتے۔

میں نے پاکستانی عوام کی جانب سے ٹرک در ٹرک امداد بھی آتی دیکھی ہے۔ اقوامِ متحدہ کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے ایسا منظر آج تک نہیں دیکھا۔ میں اپنے پاکستانی ہونے پر فخر محسوس کر رہا ہوں۔

یہ اس ساری مصیبت میں امید کی واحد کرن ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد