امدادی سامان اب گدھوں،خچروں پر | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں زلزلے سے شدید متاثر ہونے والے ہونے والے ان علاقوں میں جہاں سڑکیں بند ہیں اور موسم کی خرابی کی وجہ سے ہیلی کاپٹر بھی نہیں پہنچ پائے وہاں فوج نے گدھوں اور خچروں کے ذریعے سامان پہنچانا شروع کیا ہے۔ اتوار کے روز پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے فوجی ترجمان میجر جنرل شوکت سلطان نے بتایا کہ ایسے متاثرہ علاقوں میں فوجی جوانوں اور رضاکاروں کی چھ سے نو افراد پر مشتمل ٹولیاں بنائی گئی ہیں جو کہ گدھوں پر دس سے پندرہ کلو سامان لاد کر پیدل جا رہے ہیں۔ ان کے مطابق جانور اور جوان متاثرہ علاقوں میں سامان پہنچانے کے بعد واپسی پر زخمیوں کو اٹھا کر لاتے ہیں اور انہیں بعد میں ہسپتال پہنچادیا جاتا ہے۔ دریں اثناء فوجی ترجمان نے اپنے جاری کردہ ایک بیان میں بتایا ہے کہ پاکستان فوج کی 'اینیمل رجمینٹ' کے ایک سو بیس خچروں کے ذریعے اتوار کے روز بالا کوٹ اور اس کے گرد و نواح میں پہاڑوں پر واقع کوائی، جرید اور پیرس نامی گاؤں میں دس ٹن امدادی سامان پہنچایا گیا ہے۔ ترجمان کے مطابق پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کے ضلع باغ اور دیگر متاثرہ علاقوں میں بھی جانوروں کے ذریعے سامان بھیجنے کا سلسلہ شروع کیا گیا ہے۔ بیان میں بتایا گیا ہے کہ دھیری، بنجیری، جیئرے، بسوتی، بیر پانی، منگ بجیری، سدھن گلی اور چترا گاؤں میں بھی جانوروں کے ذریعے امداد پہنچائی گئی ہے۔ ادھر حکام کا کہنا ہے کہ بعض امدادی ادارے اپنے طور پر خچر اور گدھے بھی منگوا رہے ہیں تاکہ وہ امدادی سامان دور دراز کے پہاڑی گاؤں میں پہنچا سکیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||