BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 15 October, 2005, 06:52 GMT 11:52 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
38,000 ہلاک، 62,000 سے زائد زخمی
 بالاکوٹ
بالاکوٹ میں لوگ زلزلے کی تباہی کے ساتھ ساتھ موسم سے نمٹ رہے ہیں

پاکستان فوج کے ترجمان نے کہا ہے کہ ایک ہفتہ قبل آنے والے زلزلے میں اب تک اڑتیس ہزار افراد ہلاک جبکہ ساٹھ ہزار سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔

پاکستان فوج کے ترجمان میجر جنرل شوکت سلطان نے ایک بیان میں کہا ہے کہ دور دراز علاقوں سے تباہی اور ہلاکتوں کی مزید اطلاعات آ رہی ہیں۔


دوسری طرف موسلادھار بارش اور تیز ہواؤں کی وجہ سے کچھ متاثرہ علاقوں میں امدادی کام بری طرح متاثر ہوئے ہیں اور کئی جگہ ہیلی کاپٹروں کی امدادی پروازوں کو معطل کر دیا گیا ہے۔

مظفرآباد میں بی بی سی کی نامہ نگار ڈیمیتھا لتھرا کے مطابق ابھی بھی کئی علاقے اور گاؤں ایسے ہیں جہاں نہ زمینی مدد پہنچی ہے اور نہ ہیلی کاپٹروں سے۔

ان کا کہنا ہے کہ لوگ انتظار کر رہے ہیں، امید کر رہے ہیں لیکن کھلے آسمان کے نیچے رہنے کی وجہ سے کئی لوگ ہلاک ہو گئے ہیں۔

زلزلہ آنے کے ایک ہفتے کے بعد بھی لوگوں کے پاس ٹینٹ، کمبل، کھانے کی اشیاء کی کمی ہے۔

نامہ نگار کے مطابق مظفر آباد میں اب لوگ اپنے ٹوٹے پھوٹے گھروں کو واپس جا رہے ہیں اور کوشش کر رہے ہیں کہ وہاں سے جو بھی بچ سکے وہ نکال لیں۔ ان ہی میں ایک خاندان بے چینی سے گھر کے ملبے کے اندر سے ایک چیز ڈھونڈنے کی کوشش کر رہا ہے۔ وہ کوئی پرانی یادگار چیز یا زیور نہیں ہے بلکہ ایک چیک ہے جو ان کے خاندان کے ایک فرد کی برطانیہ میں کینسر کا علاج کروانے کے لیے دی گئی گرانٹ کا ایک چیک ہے۔

کشمیر میں ایک بزرگ
سردی سے ٹھٹھرتے ہوئے ایک بزرگ مدد کے انتظار میں

دریں اثناء امدادی تنظیموں نے متاثرین پر خراب موسم سے پڑنے والے اثر پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان تنظیموں کا کہنا ہے کہ متاثرین خصوصاً بچے موسم کی سختیوں کا نشانہ بن سکتے ہیں۔

اقوام ے متحدہ کے ادارے یونیسف نے کہا ہے کہ سردی کا موسم آتے ہی بچے نزلہ زکام، خوراک کی کمی اور دیگر بیماریوں کا شکار ہو سکتے ہیں۔

برطانوی فلاحی تنظیم اوکسفیم کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ان دشوارگزار علاقوں میں ہزاروں کی تعداد میں کمبل اور خیمے پہنچانے کی ضرورت ہے جہاں بہتر حالات میں بھی رسائی آسان نہیں۔

یاد رہے کہ جمعہ کو امدادی کاموں کے لیے اقوامِ متحدہ کے رابطہ افسر ژاں ایگلین نے کہا تھا کہ پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں زلزلے سے متاثرہ علاقوں کی تعمیرِ نو میں دس برس تک لگ سکتے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد