BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 16 October, 2005, 11:16 GMT 16:16 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مانسہرہ کو کسی کی نظر کھا گئی

مانسہرہ
پاکستان کے گیٹ وے کو کسی کی نظر کھا گئی۔

مانسہرہ کے لوگوں کا خیال ہے اس دلکش پہاڑی علاقوں کی سرزمین کے گیٹ وے کو کسی کی نظر کھا گئی ہے۔ جہاں اکثر ملکی اور غیرملکی سیاحوں کا تانتا بندھا رہتا تھا وہاں آج کل ملکی اور غیرملکی امدادی کارکنوں کی رش ہے۔

ماضی قریب تک یہاں آنے والے یہاں کے پہاڑوں کی اونچائی اور اس پر موجود جنگلات سے محضوظ ہوتے تھے۔ اب یہاں آنے والے اور یہاں بسنے والے ان پہاڑوں سے خوفزدہ ہیں اور اس کی نئی تحہ کو کرید کر اپنوں کو تلاش کر رہے ہیں۔

کبھی اس علاقے کے خوشگوار موسم سے لوگ محضوظ ہوتے تھے اب اس سردی میں اضافے میں تاخیر کی دعائیں کر رہے ہیں۔ لیکن قدرت یہاں کافی ناراض نظر آ رہی ہے۔ پہاڑ مسلسل حرکت میں ہیں اور موسم بھی اپنی تمام تر شدت دیکھانے کا خواہاں نظر آتا ہے۔

لوگ گھروں میں اپنے آپ کو محفوظ محسوس نہیں کر رہے جبکہ باہر ظالم موسم انہیں کھلے آسمان تلے بیٹھنے سے حاصل ہونے والے قدرے حفاظت کے احساس سے بھی محروم رکھنا چاہتا ہے۔

صوبہ سرحد میں ضلع مانسہرہ سب سے زیادہ بری طرح متاثر ہوا ہے۔ اس خطے میں چھ ہزار زندگیوں کے چراغ آنا فاناً گل ہوئے۔ کسی کو لمحے بھر میں اتنی بڑی تباہی کا اندازہ ہی نہیں تھا۔ بچے سکولوں میں، مائیں گھروں میں اور مرد دوکانوں دفاتر میں اس زلزلے کی نظر ہوئے۔ کسی کو کوئی تنبیہ ملی نہ موقعہ ملا۔ قصبوں کے قصبے مٹ گئے۔

زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں سرکاری اور غیرسرکاری تنظیمیں امداد کی تقسیم کا عمل جگہ جگہ کر رہی ہیں۔ جہاں لوگوں کا ہجوم ہو، بڑی تعداد میں پولیس ہو اور ہلکا سا لاٹھی چارج ہو تو سمجھ لیں امداد تقسیم ہو رہی ہیں۔

ہاں کے لوگوں کے مصائب کا صحیح اندازہ مانسہرہ کے پوسٹ گریجویٹ کالج کی عمارت میں قائم ایک عارضی ہسپتال کا دورہ کر کے ہوا۔ اتنی بڑی عمارت لیکن مریضوں کے لئے پھر بھی جگہ نہیں۔ برآمدے بھرے، کھلے میدان بھرے لیکن مریضوں کی آمد کا سلسلہ پھر بھی جاری۔

یہاں صوبے کے زلزلے سے متاثرہ دور دراز علاقوں سے ہیلی کاپٹروں کے ذریعے لائے گئے ایک ہزار مریضوں کا علاج ہوچکا تھا۔ ایک عجیب کسی جنگی فلم کا منظر تھا۔

ایمبولینس اور گشتی ہسپتالوں میں آپریشن کئے جا رہے تھے۔ کوئی شیخ زاید ہسپتال لاہور سے آئی تھیں اور کچھ قبائلی علاقوں کے لئے قائم موبائیل ہسپتال تھے۔

عورتیں رو رہی تھیں اور بچے بلک رہے تھے۔ طبی عملہ شدید دباؤ میں نظر آیا۔ ڈاکٹر پرویز اقبال، جن کا تعلق تو شیخ زاید ہسپتال سے ہے، اس عارضی ہسپتال کے منتظم ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ڈاکٹر چوبیس میں سے بیس گھنٹے کام کر رہے ہیں۔ انہیں ماشا اللہ ادویات یا دیگر کسی چیز کی کمی نہیں تھی تاہم نرسوں کی کم تعداد کا مسلہ ضرور تھا۔ ڈاکٹروں کو خوف ہے کہ کب تک وہ بیس بیس گھنٹے ڈیوٹیاں دیتے رہیں گے۔ وہ بھی انسان ہیں جذبے کی کمی نہیں لیکن ان کے اعصاب بھی جواب دے سکتے ہیں۔

یہاں ایمرجنسی وارڈ داخل ہوئے تو پانچ سالہ بچے کو روتے دیکھا۔ وہ اپنے بازو سے کنولا ہٹانے کی ضد کر رہا تھا۔ اس کے بستر کے کنارے ایک بوڑھی خاتون بیٹھی اسے دلاسا دے رہی تھی۔ وہ اسے جھوٹ کے سہارے سمجھانے کی کوشش کر رہی تھی۔ 'تمھاری ماں نے مجھے بھیجا ہے کہ تمھارا خیال رکھوں۔ وہ خود بعد میں آئے گی۔'

پوچھا آپ اس کی کیا ہیں کہا کچھ نہیں۔ اشاروں کنایوں میں بتانے لگی کہ اس بچے کا کوئی رشتہ دار زلزلے میں نہیں بچا۔ وہ صرف انسانی ہمدردی کے ناطے اسے چپ کرانے کی کوشش کر رہی تھی۔ بچہ البتہ چپ ہونے کو تیار نہیں تھا۔

اس ہسپتال کا دورہ کرکے محسوس ہوا کہ یہاں سٹاف کے علاوہ کسی چیز کی کمی نہیں۔ ڈاکٹر مرہم پٹی کے علاوہ کچھ زیادہ نہیں کر سکتا۔ اگر ضرورت ہے تو اس خاتون جیسے لوگوں کی جو متاثرین کو تسلی دے سکیں۔ جو رضاکار اگر واقعی ان لوگوں کے لئے کچھ کرنے کو بیتاب ہیں یہ کام وہ بغیر کسی اجازت کی 'ریڈ ٹیپ' کے باآسانی کر سکتے ہیں۔

لیکن پھر احساس ہوتا ہے کہ سانحہ اتنا بڑا ہے کہ تسلی دینے والوں کی ایک فوج درکار ہوگی۔ اس علاقے کو صدمے کی حالت سے آج یا کل نکالنا پڑے گا۔ تو پھر آغاز ابھی سے کیوں نہ کیا جائے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد