| | دوردراز کے علاقوں میں موبائل ہسپتال کی سہولت بھی فراہم کی جانے والی ہے |
پاکستان میں آٹھ اکتوبر کو آنے والے زلزلے سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد چوّن ہزار ہو گئی ہے۔ پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے حکام کا کہنا ہے کہ آٹھ اکتوبر کو آنے والے زلزلے سے صرف کشمیر میں ہی چالیس ہزار لوگ ہلاک ہوئے ہیں جبکہ پاکستان کے صوبہ سرحد میں چودہ ہزار افراد کی ہلاکت کی سرکاری طور پر تصدیق کی جا چکی ہے۔ ادھرمتاثرہ علاقوں میں آسمان صاف ہوتے ہی دوردراز علاقوں میں امداد پہنچانے کے لیے ہیلی کاپٹر پروازوں کا سلسلہ دوبارہ شروع کر دیا گیا ہے۔ یہ پروازیں گزشتہ دو دن سے وقفے وقفے سے معطل کی جاتی رہی ہیں۔ بی بی سی کے نامہ نگار ماییک وولرج کے مطابق وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ امدادی ٹیموں پر اس دباؤ میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے کہ وہ اپنی کارروائیوں میں تیزی لائیں کیونکہ زلزلے کے نو دن بعد کھلے آسمان تلے گزرتی ہر رات کے ساتھ زخمیوں کے زندہ بچنے کا امکان کم ہو رہا ہے اور بے گھر افراد کے سردی کا شکار ہونے کا خطرہ بڑھتا جا رہا ہے۔ اندازہ لگایا گیا ہے کہ زلزلےسے شدید متاثر ہونے والے بیس فیصد علاقہ اب بھی امداد سے محروم ہے جبکہ اس قدرتی آفت سے بیس لاکھ کے قریب لوگ بے گھر ہو چکے ہیں۔ موسم کے بہتری سے اب یہ امکان پیدا ہوا ہے کہ ہیلی کاپٹروں کی مدد سے ان علاقوں تک رسائی ہو سکے گی جہاں سڑکیں بند ہونے کے سبب ایک ہفتے سے زائد عرصہ گزرنے کے بعد بھی امداد نہیں پہنچ پائی ہے۔ مظفرآباد میں ایک عارضی ہسپتال بھی قائم کیا جا رہا ہے اور امریکی ٹیمیں جلد ہی دوردراز کے علاقوں میں موبائل ہسپتال کی سہولت بھی فراہم کرنے والی ہیں تاکہ ان علاقوں کے زخمیوں کا موقع پر ہی علاج کیا جا سکے۔ |