BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 16 October, 2005, 14:05 GMT 19:05 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
امداد صرف سڑک کے کنارے پر

بٹگرام
گاؤں والوں کوشکایت ہے کہ فوجی ہوں یا امدادی کارکن سب سڑک کے کنارے امداد بانٹ کر چلے جاتے ہیں۔

پورے ضلع کی واحد سرکاری ہسپتال کی عمارت منہدم ہے مریضوں کو ایک میدان میں خیموں تلے قائم عارضی ہسپتال میں رکھا گیا ہے اور ایک بستر پر نیم بیہوش خاتون کے پائینتیں بیٹھی آٹھ سالہ بچی رو رہی ہے۔

یہ منظر ہے صوبہ سرحد کے سوا تین لاکھ آبادی والے ضلع بٹ گرام کا اور بچی کے والد رحمت الدین کہتے ہیں کہ ان کے خاندان کے گیارہ افراد زلزلے سے ہلاک ہوچکے ہیں اور صرف باپ بیٹی زندہ بچے ہیں۔

رحمت الدین کے آنکھوں سے آنسوں ٹپک رہے ہیں اور اپنے پیاروں کے نام بتاتے ہوئے رو پڑے تو ان کی بچی نے چیخنا شروع کردیا۔بچی کے بائیں بازوں میں فریکچر ہے اور ان کا بازوں گلے میں بندھی پٹی سے لٹک رہا ہے۔

'ہمارا کچھ نہیں بچا، دو روز سے ملبہ ہٹاکر لاشیں دفنائیں اور زخمی بیٹی کو لے کر بند سڑک کے باوجود پہاڑوں کے مشکل راستوں سے ہوتےہوئے ہسپتال پہنچا ہوں،

دونوں باب بیٹی کی آہوں اور سسکیاں سن کر اپنی آنکھیں بھی بھیگتی محسوس ہوئیں اور ہسپتال سے باہر نکل کر تھوڑا اوپر کی طرف آئے تو امداد لے کر پہنچنے والے ٹرک سے رضائیاں اور کمبلوں کی تقسیم پر دو نوجوان ایک دوسرے سے دست و گریباں نظر آئے۔

ہسپتال میں ڈاکٹر حنیف خان کے مطابق بیشتر زخمی فریکچر والے ہیں اور کسی کا بازوں ٹوٹا ہے تو کسی کی ٹانگ۔ ان کے مطابق ہڈیوں کے ماہر ڈاکٹروں اور ان کی ادویات کی شدید قلت ہے۔

پورے ضلع میں چھ روز سے بجلی نہیں تھی البتہ ٹیلی فون کام کر رہے تھے اور امدادی مرکز میں حکومت کے قائم کردہ سیٹ لائیٹ فون کا مرکز بھی بن چکا ہے۔

صوبہ سرحد کے زلزلے سے متاثرہ اضلاع میں سے تین یعنی مانسہرہ، بٹ گرام اور شانگلا کے کئی دیہات اور قصبوں میں جاکر قریب سے تباہی دیکھی اور بیشتر سڑک سے دور گاؤں والوں کی ایک ہی شکایت تھی کہ فوجی ہوں یا امدادی کارکن سب سڑک کے کنارے امداد بانٹ کر واپس لوٹ جاتے ہیں۔

شنکیاری میں امدادی کیمپ کے باہر قطار میں کھڑے نورمحمد ہوں یا پھر بٹ گرام کے تباہ حال قصبے چھپر گرام کا اجمل خان یا اتل کے نمبردار الطاف حسین، سب کا کہنا تھا کہ ان کے لیے حکومت نے کچھ نہیں کیا۔

البتہ یہ لوگ پاکستان کے عوام کی جانب سے امداد پر خوش نظر آئے اور ان کا شکریہ بھی اد کرتے رہے۔ انہوں نے فوج پر بھی غصہ کیا اور کہا کہ ایک بسکٹ کے ڈبے کے لیےگالیاں اور لاٹھیاں کھانی پڑتی ہیں اور اس سے اچھا ہے کہ وہ زہر کھالیں۔

اس زلزلے نے جہاں سینکڑوں معصوم بچوں سمیت ہزاروں لوگوں کی جانیں لیں اور بیسیوں گھروں کو ملبے کا ڈھیر بنادیا ہے وہاں متاثرہ علاقوں کے ہر گاؤں اور گھر میں کئی نئی کہانیوں کو بھی جنم دیا ہے۔

چاہے وہ کہانی چھپر گرام کے قریب چھوٹے گاؤں کے تسلیم خان اور امان اللہ خان کے خاندانوں میں پندرہ سالہ پرانا اور خونی تنازعہ حل ہونے کی راہ ہموار کرنے کی ہو یا اپنے خاندان کی امیدوں کے چراغ علی محمد جو پشاور یونیورسٹی میں انجنیئرنگ کے آخری سال کے طالبلعم تھے، ان کی موت کی۔

مذکورہ خاندانوں کے خونی تکرار کی وجہ سے ایک دوسرے کی بیاہی ہوئی بچیوں کو اپنے والدین اور بھائیوں کی موت اور شادی میں شرکت کی بھی اجازت نہیں تھی لیکن زلزلے کی ہلاکتوں کے بعد ان خواتین کو اپنے میکوں میں جانے کی اجازت ملی اور ان ہی کی معرفت صلح کے پیغامات کا تبادلہ بھی ہوا اور ان خاندانوں میں اب صرف جرگے کی رسم باقی ہے۔

علی محمد کے بھائی اکمل خان نے بتایا کہ وہ پشاور یونیورسٹی سے چھپر گرام میں اپنے گھر آئے اور پروگرام کے مطابق اتوار نو اکتوبر کو انہیں واپس جانا تھا لیکن زلزلے نے انہیں ایک دن قبل کئی ٹن ملبے کے نیچے دفن کردیا۔ ان کے مطابق تین بھائیوں نے اپنے لاڈلے کو اپنا پیٹ کاٹ کر جمع پونجی سے انہیں پڑھایا تھا کہ وہ بڑا افسر بنے گا لیکن ان کے مطابق خدا کو یہ منظور نہیں تھا۔

بٹ گرام کی تحصیل الائی کو جانے والی سڑک زلزلے کے ساتویں روز بھی بند تھی اور پتہ نہیں اس گاؤں میں کتنے لوگ اب بھی ملبے تلے دبے ہوئے ہیں۔ فوج بلڈوزر اور دیگر مشینری کے ہمراہ بٹ گرام پہنچ چکی تھی لیکن تمام گاڑیاں اور مشینری سڑک کنارے ان کے کیمپ میں ترپالوں سے ڈھکی ہوئیں تھیں۔

وہاں لوگوں نے یہ بھی بتایا کہ فوجی کہتے ہیں کہ عالمی معیار کے اعتبار سے سات روز بعد کوئی زندہ نہیں بچ سکتا اس لیے وہ ملبہ ہٹانے کے بجائے زندہ بچ جانے والوں کو امداد دینے پر زیادہ توجہ دے رہے ہیں۔

بٹ گرام بازار سے نکل کر نندیاڑ ندی کے دائیں کنارے چند کلومیٹر کے فاصلے پر موڑ کاتے وقت بائیں جانب نظریں زمین بوس ہونے والے گاؤں کوٹ گلہ پر پڑتی ہیں۔ اس گاؤں میں کوئی گھر سلامت نہیں اور تمام باسی اپنے رشتہ داروں کے ہاں نقلِ مکانی کر گئے ہیں۔

اس کے قریبی گاؤں کے رہائشی پچاس سالہ محمد قاسم نے بتایا کہ یہاں سے چھپن لاشیں نکال کر دفنائی جاچکی ہیں لیکن دو گانا بجا کر مانگنے والیاں اور کندھوں پر سامان بیچنے والے دو کابلی باشندوں کی لاشیں اب بھی ملبے تلے دبی ہیں۔ ان کے مطابق ان کا کوئی وارث نہیں ہے جو انہیں نکالے۔

تھاکوٹ بازار اور گرد و نواح کے گاؤں بھی تباہ نظر آئے اور دریائے سندھ کے کنارے سفر کرتے جب شانگلا ضلع کے شہر بشام پہنچے تو راستے میں کئی جگہوں پر لاٹھی بردار لوگ نظر آئے جو امدادی سامان لانے والے ٹرکوں کو پولیس اور ایف سی کے اہلکاروں کی موجودگی میں روک کر سامان لیتے نظر آئے۔

چین تک جانے والی اس شاہراہِ ریشم کنارے اکثر لوگ ایسے بھی تھے جو سامان لے کر قریب میں مکئی کے کھیتوں میں یا اپنے گھروں میں رکھ کر پھر سے سڑک پر سامان لینے بیٹھ جاتے۔

ایسے لوگوں کے بارے میں اتل گاؤں کے نمبردار الطاف حسین نے کہا کہ یہ 'لٹیرے' ہیں اور یہ شدید متاثر ہونے والوں کی حق تلفی کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق بعض امدادی ٹرکوں والے بھی کرائے کے چکر میں سڑک پر امداد بانٹ کر واپس چلے جاتے ہیں۔

کشمیر کی طرح ان علاقوں میں بھی کالعدم لشکر طیبہ سے مبینہ طور پر منسلک جماعت الدعوۃ کے کارکن امداد بانٹتے نظر آئے۔ ایک سوزوکی میں اس جماعت کے حویلیاں سے منتخب ہونے والے کونسلر سردار شیراز افضل نے کہا کہ ان کی جماعت نے سب سے پہلے امدادی سامان پہنچانا شروع کیا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد