ہلاک شدگان 40 ہزار زخمی 65 ہزار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
وفاقی ریلیف کمشنر میجر جنرل محمد فاروق نے بتایا ہے کہ پاکستان میں زلزلے سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد چالیس ہزار کے قریب پہنچ چکی ہے اور اس میں اضافہ بھی ہوسکتا ہے۔ اتوار کے روز پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ اب تک انتالیس ہزار چار سو بائیس ہلاکتوں کی تصدیق ہوئی ہے جبکہ زخمیوں کی تعداد پینسٹھ ہزار ہوگئی ہے۔ ان کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں صوبہ سرحد کے تیرہ سے چودہ ہزار جبکہ باقی پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کے لوگ شامل ہیں۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ ان کے دیے ہوئے اعداد وشمار حتمی نہیں ہیں اور جن لوگوں نے پہلے ہی اپنے عزیز و اقارب کو دفن کردیا ہے وہ اس میں شامل نہیں۔ میجر جنرل محمد فاروق نے بتایا کہ تاحال باون کروڑ اٹھائیس لاکھ ڈالر بیرونی امداد مل چکی ہے جبکہ اقوام متحدہ نے پچاس کروڑ دس لاکھ ڈالر دینے کا وعدہ کیا ہے۔ان کے مطابق پاکستان کے اندر لوگوں نے چار ارب روپے جمع کرائے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ممالک، غیر ملکی اور ملکی ادارے یا افراد جو بھی امداد دینا چاہتے ہیں وہ 0800-00023 کے نمبر پر فون کریں تاکہ انہیں ترجیحی اشیاء کے بارے میں معلومات دی جاسکے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ سردی کے موسم والے خیموں،ادویات اور کمبلوں کی شدید ضرورت ہے۔ ریلیف کمشنر نے بتایا کہ ان کے زیرانتظام تاحال انتیس ہزار خیمے اور ایک لاکھ اٹھارہ ہزار کمبل تقسیم ہوچکے ہیں۔ واضح رہے کہ حکومت کے مطابق زلزلے سے بے گھر ہونے والوں کی تعداد تینتیس لاکھ ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ صوبہ سرحد میں تیرہ ہزار چھ سو ٹیلی فون خراب ہوچکے تھے جس میں سے اب تک گیارہ ہزار دو سو بحال کیے گئے ہیں۔ جبکہ ان کے مطابق کشمیر میں خراب ہونے والے بیس ہزار ٹیلی فون میں سے بارہ ہزار چھ سو تاحال بحال ہوچکے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ نیلم اور جہلم وادیوں کے علاوہ تمام علاقوں میں سڑکیں بحال کردی گئی ہیں لیکن جب ان کو بتایا گیا کہ سنیچر تک بٹ گرام کی تحصیل الائی کی واحد سڑک بھی نہیں کھلی تو ریلیف کمشنر نے تسلیم کیا کہ ہوسکتا ہے کہ وہ سڑک ابھی نہیں کھلی ہو۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ حالیہ بارشوں کی وجہ سے ہونے والی سخت سردی کی وجہ سے زیادہ افراد کے مرنے کا خدشہ ہے۔ اس موقع پر فوجی ترجمان میجر جنرل شوکت سلطان نے بھی میڈیا سے خطاب کیا اور بتایا کہ مانسہرہ، مظفرآباد اور باغ میں ڈویژنل فوجی ہیڈ کوارٹر قائم کیے گئے ہیں۔ انہوں نے امدادی سامان بھیجنے والے اداروں اور افراد سے اپیل کی کہ وہ سب سے پہلے متعلقہ ہیڈ کوارٹر میں رابطہ کریں اور جس علاقے میں انہیں امداد تقسیم کرنے کی سفارش کی جائے وہاں امداد بانٹی جائے۔ انہوں نے بتایا کہ مانسہرہ میں میجر جنرل شکیل احمد، مظفرآباد میں میجر جنرل خالد نواز اور باغ میں میجر جنرل قاسم قریشی کو تعینات کیا گیا ہے اور امدادی کارکن ان سے رابطہ کریں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||