BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 16 October, 2005, 22:01 GMT 03:01 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
'صرف کشمیر میں 40,000 ہلاکتیں'
وادی جہلم
وادی جہلم کے گاؤں ٹنڈالی کے باسی۔ اتوار کو مٹی کا تودہ گرنے سے وادی کے راستے پھر بند ہو گئے۔

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے وزیر اعظم سردار سکندر حیات خان نے کہا ہے کہ صرف کشمیر میں چالیس ہزار سے زیادہ افراد کے ہلاک اور 70,000 سے 80,000 کے زخمی ہونے کی تصدیق ہو چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ صورتحال دو دن پہلے تک درست ہے اور اب ممکن ہے کہ اس میں اضافہ ہو گیا ہو۔

امداد اور سیاست
 میں پیر کو پاکستان کے وزیر اعظم سے لائن آف کنٹرول کھولنے کی بات کروں گا، لیکن بھارت بھی تو قدم بڑھائے
سردار سکندر حیات
اس تعداد میں اگر صوبہ سرحد میں حکام کے مطابق ہلاک ہونے والے تیرہ سے چودہ ہزار کے درمیان افراد کو شامل کیا جائے تو زلزلے سے ہلاکتوں کی کل تعداد تقریباً چوّن ہزار ہو جاتی ہے۔

سردار سکندر حیات نے بی بی سی ہندی سروس سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کے اعداد و شمار میں بہت سے ایسے لوگ شامل نہیں جنہیں دفنایا جا چکا ہے یا جن کی لاشیں اب بھی ملبے میں دبی ہوئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس بارے میں بالکل درست بات کرنا ممکن نہیں۔

اس سے قبل امدادی کارروائیوں کے ذمہ دار وفاقی ریلیف کمشنر میجر جنرل محمد فاروق نے بتایا تھا کہ پاکستان میں زلزلے سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد چالیس ہزار کے قریب پہنچ چکی ہے اور اس میں اضافہ بھی ہوسکتا ہے۔

ان کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں صوبہ سرحد کے تیرہ سے چودہ ہزار لوگ شامل ہیں۔

انہوں نے بھی کہا تھا کہ ان کے دیے ہوئے اعداد وشمار حتمی نہیں ہیں اور جن لوگوں نے پہلے ہی اپنے عزیز و اقارب کو دفن کردیا ہے وہ اس میں شامل نہیں۔

پاکستانی فوج کے ترجمان میجر جنرل شوکت سلطان نے کہا کہ ان کو بتایا گیا ہے کہ چوّن ہزار کے ہلاک ہونے کی بات کی گئی ہے لیکن اس بات کی وہ بی بی سی کو انٹرویو دیے جانے تک تصدیق نہیں کر سکتے تھے۔

بی بی سی اردو سروس کے نامہ نگار مبشر زیدی نے کشمیر کے دورے کے دوران اپنے مشاہدات کی بنیاد پر بتایا کہ سردار سکندر خیات کا اندازہ غلط نہیں۔

انہوں نے کہا کہ انہوں نے مظفر آباد اور نیلم اور جہلم وادیوں کے حالات دیکھے ہیں اور اب بھی بہت سے علاقوں تک کسی کی رسائی نہیں ہو سکی۔

انہوں نے کہا کہ وادی نیلم تک زمینی رابطے کی بحالی میں شاید کئی مہینے لگ جائیں۔ انہوں نے کہا کہ دو لاکھ افراد کی آبادی والی اس وادی سے آنے والا ہر شخص ہزاروں ہلاکتوں کی بات کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے جس سے بھی بات کی اس نے بتایا کہ اس کے گاؤں میں چار پانچ سو افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

مشکل وادیاں
 امدادی کارروائیوں میں مصروف حکام نے دور دراز علاقوں میں رہنے والے ایسے ہزاروں لوگوں کے بارے میں تشویش ظاہر کی ہے جن تک امداد نہیں پہنچ پا رہی۔
انہوں نے کہا کہ وادی جہلم میں بھی یہی صورتحال ہے جہاں ایک راستہ کھولا گیا تھا لیکن مٹی کا تودہ گرنے سے وہ پھر بند ہو گیا ہے۔

امدادی کارروائیوں میں مصروف حکام نے دور دراز علاقوں میں رہنے والے ایسے ہزاروں لوگوں کے بارے میں تشویش ظاہر کی ہے جن تک امداد نہیں پہنچ پا رہی۔

بین الاقوامی ریڈکراس کا کہنا ہے کہ وہ وادی جہلم میں رسائی حاصل کرنے کی بھرپور کوشش کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ وادی نیلم کے بارے میں اطلاعات ملی ہیں کہ وہاں ہزاروں لوگ متاثر ہوئے ہیں لیکن ان تک امداد نہیں پہنچی۔

سردار سکندر حیات خان کا کہنا تھا کہ اس وقت لوگوں کو امداد پہنچانے کے لیے ایک بہت بڑا آپریشن چل رہا ہے لیکن اس میں موسم بہت بڑی رکاوٹ بن گیا ہے۔

سردار سکندر حیات نے کہا کہ اسی صورتحال کے پیش نظر وہ پیر کو پاکستان کے وزیر اعظم سے ملاقات کے دوران لائن آف کنٹرول کھولنے کی بات کریں گے۔ لیکن اس کے ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ وہ تو پاکستان سے 'ہاں' کروانے جا رہے ہیں بھارت کو بھی تو کچھ کرنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ اس مشکل گھڑی میں لائن آف کنٹرول رکاوٹ نہیں بن سکتی۔ انہوں نے مثال دی کے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کا ایک دور دراز علاقہ بھیڈی بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں اڑی سے صرف چھ میل دور ہے۔

اسی طرح انہوں نے ایل او سی کے پار ایک اور علاقے مینڈل کی بات کی جہاں ان کے بقول بھارت کے لیے پہنچنا مشکل ہے لیکن پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی طرف سے پیدل آدھ گھنٹےمیں پہنچا جا سکتا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا دیگر ممالک سے ہیلی کاپٹر منگوائے تو جا سکتے ہیں لیکن موسم ہی سازگار نہیں۔

انہوں نے کہا کہ بہت سے علاقے ایسے ہیں جہاں صرف فضا سے امداد پہنچائی جا سکتی ہے لیکن مسلسل بارش کی وجہ سے ایسا نہیں ہو پا رہا۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر میں امدادی کارروائیوں کے حوالے سے اس بات کو ذہن میں رکھنا چاہیے کہ یہاں ٹرین نہیں چل سکتی، ہوائی جہاز نہیں ہیں اور زیادہ تر علاقہ دیہات پر مشتمل ہے۔

سردار سکندر حیات نے کہا کہ سنیچر کے روز دن کے دس بجے مظفر آباد میں ایسے تاریکی تھی جیسے رات کا وقت ہو۔ انہوں نے کہا کہ اس صورتحال میں فضائی امداد بھی نہیں پہنچ سکتی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد