کشمیر: اب سردی سے ہلاکتیں؟ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مظفر آباد میں اطلاعات ملی ہیں کہ سات افراد سردی سے ٹھٹھر کر ہلاک ہو گئے ہیں۔ ان اطلاعات کی سرکاری سطح پر تصدیق نہیں ہو سکی۔ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر اور صوبہ سرحد کے زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں خدشات ظاہر کیے جا رہے تھے بارش اور سردی سے لوگوں کی ہلاکتیں ہو سکتی ہیں۔ ان علاقوں میں بہت سے لوگ کھلی آسمان کے نیچے خیموں میں رہنے پر مجبور ہیں اور بہت بڑی تعداد ایسے لوگوں کی ہے جن کے پاس خیمے بھی نہیں ہیں۔ ان حالات میں مزید جانی نقصان کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا تھا لیکن اب ایسی اطلاعات موصول ہونا شروع ہو گئی ہیں۔ اس سے قبل محکمہ موسمیات کے اہلکار محمد حنیف نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ اگلے تین روز تک زلزلہ سے متاثرہ علاقوں میں بارش ہو گی جس سے شدید سردی پڑے گی۔ بالائی علاقوں میں برف باری شروع ہو چکی ہے۔ خراب موسم سے امدادی کام متاثر ہورہا ہے۔ خراب موسم کی وجہ سے پاکستان آرمی ایک ہیلی کاپٹرگر کر تباہ ہوگیا۔ سڑکیں ٹوٹنے سے امداد اور بچاؤ کے کام میں پہلے ہی بہت دشواریاں حائل تھیں۔ امدادی کارروائیوں کی نگرانی والے کرنل کرنل بصیر ملک نے بی بی سی کو بتایا کہ خراب موسم کی وجہ سے امدادی کارروائیوں میں روکاٹ پڑ رہی ہے ۔ انہوں نے کہا خراب موسم سے فضائی امداد میں سب سے زیادہ خلل پڑا ہے۔ کرنل بصیر نے کہا کہ خراب موسم کی وجہ سے زمینی راستوں کے ذریعے جاری امدادی کارروائیوں پر اتنا زیادہ فرق نہیں پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ خچروں کے ذریعے بھی امداد پہنچائی جا رہی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||