ضبط کا امتحان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
شاید یہ تلخ حقیقت قبول کرنا ایک بہت مشکل بات ہے کہ ہم سب ہی حالتِ جنگ میں ہیں۔ زندگی کی موت سے جنگ۔ اس جنگ میں فاتح ہمیشہ موت ہی ہوتی ہے۔ اگرچہ زندگی اسے کبھی کبھار چکمہ دے کر اس کا دھیان ضرور بٹا دیتی ہے۔ اس بار موت کی وادی میں ایسا نہیں ہوا۔ وادی کے خوبصورت مگر خطرناک موڑ اور گہری کھایاں بھی یہاں کے باسیوں کے چھپنے کا سامان نہ بن سکیں اور موت نے میدان مار لیا۔ زمین پھٹی، پہاڑ چنگھاڑے اور ماؤں کے جان کے ٹکڑے ٹنوں پتھر کے نیچے دب گئے۔ بچوں کے سر سے ماں باپ کا سایہ بھی گیا اور مکان کی چھت بھی۔ اس پر بارش اور سردی۔ جو بچے اور بڑے کسی خدائی معجزے کی وجہ سے موت کو دھوکہ دے کر ٹنوں سریے اور کنکریٹ میں پھنسے زندہ (ہیں یا تھے)، بے رحم آسمان نے ان کا بھی سراغ لگا لیا اور کھل کر برسا۔ اور اتنا برسا کہ پھنسے ہوؤں کو بچانے کی امیدیں کے چراغ بھی معدوم ہونے لگے۔ لیکن معجزے بھی جاری رہے۔ باپ نے تین دن سے کنکریٹ تلے سہمے بچے کو بچائے جانے کے بعد گلے سے لگایا اور امدادی ٹیموں کی مدد سے ایک نوجوان ملبے تلے سے نکل کر خدا کا شکر بجا لایا۔ معجزے جاری رہے۔ ساتھ ساتھ جنگ بھی۔ موت اور زندگی کی جنگ۔ جس میں ہمیشہ جیت موت کی ہوتی ہے پر زندگی پھر بھی سرخرو رہتی ہے۔ ان افراد کی زندگی جنہوں نے اپنے خاندان کے سینکڑوں افراد کو کنکریٹ تلے سے نکال کر مٹی تلے دفن کیا۔ ان افراد کی زندگی جو سب آسائشیں چھوڑ کر آفت زدہ علاقے میں موت سے آنکھیں ملانے چلے گئے اور ان قلم کاروں کی زندگی جنہیں ہلاک ہونے والے بچے اور بوڑھوں میں اپنوں کے ہی چہرے نظر آتے رہے لیکن ساتھ ساتھ وہ دنیا کو یہ بھی بتاتے رہے کہ موت کی وادی میں ہو کیا رہا۔ ان سب کی زندگیاں موت پر حاوی رہیں، سرخرو رہیں۔ وادی کے لوگ چونکہ ہر طرح کسی نہ کسی رشتے میں بندھے ہوئے ہیں۔ اس لیے زمین میں جان لیوا تغیر بھی ضبط کی لکیر کے پار تک گیا اور پھر وہی زندگی اور موت کی جنگ۔ ہزار سے زائد لوگ وہاں بھی ہلاک ہوئے اور اس طرح موت کے رشتے میں ایک مرتبہ پھر بندھ گئے۔ ضبط کی لکیر بھی ایک طرح سے ضبط کا امتحان ہی ہے۔ امتحان میں لکیر تو شاید کامیاب نہیں ہوئی لیکن ضبط بہرحال رہا۔ زندگی کی جنگ ہارنے والے اب یا تو ملبے تلے ہیں یا مٹی تلے۔ لیکن ان کا کیا جو زمین یا مٹی پر موجود رہے، موت کو چکمہ دے گئے یا یوں کہہ لیں کہ جنگ میں نہیں ہارے۔ کیا انہیں زندہ رہنے کا کوئی حق نہیں ہے۔ کیا انہیں خراجِ تحسین نہیں پہنچانا چاہیئے۔ وہ ہم سے کوئی نشانِ حیدر یا کوئی تمغہ جرات نہیں چاہتے۔ وہ صرف اپنے پیاروں کی لاشیں دفنانے میں مدد، اپنے جان کے ٹکڑوں کے لیے روٹی کے چند ٹکڑے اور دوائیاں اور خاندانوں کے لیے سر چھپانے کے لیے اگر چھت نہیں تو کپڑے یا پلاسٹک کے ٹینٹ چاہتے ہیں۔ کیا یہ بہت زیادہ ہے۔ اگر سارے بم اور فوجی سازو سامان مل کر بھی علم کی تحصیل کے لیے گئے ہوئے کسی کی جان کے ٹکڑے کو اس کے اپنے ہی مدرسے کی چھت کے نیچے سے نہیں نکال سکتے تو پھر ایسے بموں اور فوجوں مشینریوں کو تو زلزلے کے اندر جھونک دینا چاہیئے۔ ضبط کی لکیر کا زیادہ امتحان نہ لیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||