زلزلہ: چار بچوں کی زندگی کی جنگ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ماں باپ کے زلزلے میں ہلاک ہونے کے بعد چار کم سن بہنوں بھائیوں نے نو روز تک زندگی کی جنگ لڑی۔ اتوار کو فوج کی امدادی ٹیم نے بالا کوٹ کے ایک گاؤں سے ایک پولیو زدہ بچی کو آٹھ دن بعد ملبے سے زندہ نکال لیا۔ پاکستان فوج کے ترجمان میجر جنرل شوکت سلطان نے بتایا کہ بالا کوٹ سے سات کلو میڑ اوپر پہاڑوں پر سانگھر کے علاقے سے سنیچر کے روز تین بچے بالا کوٹ کے آرمی کیمپ میں آئے۔ ان تین بچوں میں ایک کی عمر نو سال، دوسرے کی عمر سات تھی اور یہ اپنی ایک سات ماہ کی بہن کو بھی آٹھائے ہوئے تھے۔ ان بچوں نے بالا کوٹ میں فوج کو بتایا کہ ان کی ایک بارہ سالہ بہن جو پولیو سے متاثر ہے وہ ملبے میں پھنسی ہوئی ہے اور اس کو نکالنے کی کوشش کی جائے۔ اتوار کے روز فوج کی ایک ٹیم ایک بچے کو ساتھ لے کر گئی اور وہاں ملبے سے ان کی بہن کو زندہ نکال لیا۔ ان چاروں بہن بھائی بالا کوٹ کے آرمی کیمپ میں ہیں۔ ان بچوں کے والدین زلزلے کی وجہ سے ہلاک ہو چکے ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||