نہ رہی جیل، نہ رہے قیدی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مظفر آباد کے بینک روڈ پر واقع سنٹرل جیل زلزلے سے بالکل تباہ ہو چکی ہے۔ کچھ قیدی مر گئے ہیں اور جو بچ گئے وہ فرار ہو گئے ہیں۔ جیل کی بیرکیں اور دفاتر ملبے کا ڈھیر بن چکے ہیں۔ مرنے والے قیدیوں میں سے ابھی تک صرف چھ کی لاشیں نکالی گئی ہیں جبکہ باقیوں کی لاشیں ابھی تک وہیں پڑی ہیں جن سے تعفن اٹھ رہا ہے۔ پھانسی گھاٹ جہاں اکیس قیدی سزائے موت کا انتظار کر رہے تھے ان میں سے پانچ بھاگنے میں کامیاب ہو گئے لیکن باقیوں کی لاشیں ابھی وہیں پڑی ہیں۔ ایک سپاہی محمد اسماعیل نے بی بی سی کے نمائندے اعجاز مہر کو بتایا کہ زلزلے سے پہلے جیل میں ایک سو گیارہ قیدی تھے۔ زلزلے کے بعد ایک خاتون قیدی سمیت تین کو دوبارہ گرفتار کر کے میر پور جیل میں منتقل کر دیا گیا ہے۔ سپاہی محمد اسماعیل نے بتایا کہ کتنے قیدی مرے اور کتنے بھاگ گئے ہیں اس کا کسی کو علم نہیں ہے۔ اور اب تک صرف چھ لاشیں نکالی گئی ہیں۔ محمد اسماعیل نے بتایا کہ جیل کے حکام خود اپنے مسائل کا شکار ہیں اور وہ اپنے خاندانوں کی دیکھ بھال کے لیے چلے گئے ہیں۔ محمد اسماعیل نے بتایا کہ سزائے موت پانے والے قیدیوں میں شاید پانچ بھاگنے میں کامیاب ہو گئے تھے جبکہ باقیوں کی لاشیں وہیں ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||