متاثرہ علاقے کا سروے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مظفر آباد میں جانی اور مالی نقصان کا اندازہ لگانے کے لیے منگل سے سروے شروع ہو رہا ہے۔ شہر کے ڈپٹی کمشنر نے بی بی سی کو بتایا کہ سات لاکھ سے زیادہ آبادی والے اس شہر میں سروے شروع کرنے کے لیے چونتیس ٹیمیں بنائی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ چند روز میں ان ٹیموں کی تعداد بڑھا کر اسی کر دی جائے گی۔ ان ٹیموں کا کام گھر گھر جا کر نقصان کا اندازہ لگانا ہے۔ یہ ٹیمیں مظفر آباد کے 584 دیہات میں جائیں گی۔ زلزلے کی وجہ سے سرینگر مظفر آباد بس سروس بھی بند ہے اور ابھی کسی کو نہیں معلوم یہ کب کھلے گی۔ دریں اثنا حکومت نے دعوے کیے ہیں کہ مظفر آباد شہر کے علاوہ دیہاتی علاقوں کو بھی امداد جا رہی ہیں جبکہ شہر میں ان دیہات سے آئے چند لوگوں نے اپنے اپنے گاؤں کی صورتحال بتاتے ہوئے کہا کہ وہاں اب تک کوئی نہیں پہنچا۔ ان لوگوں نے امداد کی تقسیم میں سیاسی مداخلت کا بھی الزام لگایا۔ مکین گاؤں کے حاجی محمد نذیر نے بتایا کہ ان کے گاؤں کے قریب برف پڑنا شروع ہو گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہاں زلزلے کے بعد بھی پانچ لوگ ہلاک ہو چکے ہیں جو غالباً سردی کا شکار ہوئے ہیں۔ مظفر آباد میں بیماریوں کے روک تھام کے لیے سپرے بھی کیا جا رہاہے۔ کچھ لوگ شہر سے نقل مکانی بھی کر گئے ہیں۔ ڈپٹی کمشنر نے بتایا کہ علاقے میں سڑکیں بند ہونے سے امدادی کام میں رکاوٹ پیدا ہو رہی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||