ٹنگڈار :زلزلہ متاثرین کا غصہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں لوگوں کو مکمل امداد نہیں مل رہی ہے۔ زلزلہ سے متاثرہ عبدالغفور ہر روز اپنے گھر سے ٹنگڈار میں قائم امدادی کیمپ تک روز پہنچ کر خیمہ حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے لیکن نو روز گزرنے کے باوجود وہ اس میں کامیاب نہیں ہو سکے۔ آٹھ اکتوبر کو آنے والے اس زلزلے میں عبد الغفور کی تین سالہ بیٹی ، چھ ماہ کا بیٹا اور اٹھارہ سالہ بہن ہلاک ہو چکی ہیں۔ عبد الغفور کو تواپنے بچوں کے مرنے پر دکھ کا اظہار کرنے کا بھی موقع نہیں ملا ہے اوروہ ہر روز اپنے تباہ شدہ گاؤں بہادر کوٹ سے چھمکوٹ میں قائم فوجی کیمپ تک اس امید پر جاتا ہے کہ وہ ایک خیمہ حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائے گا لیکن سردی کے موسم میں سارا دن انتظار کرنے کے بعد مایوس لوٹ جاتا ہے۔ عبد الغفور نے بتایا ' میں ایک ہفتے سے سو نہیں سکا ہوں، گھر تباہ ہو گیا ہے، بچے مر گئے ہیں، میرے پاس کھانے کے برتن بھی نہیں ہیں، کچھ بھی نہیں بچا ہے'۔ عبد الغفور نے کہا ' زندگی میں نہ عزت بچی ہے نہ کوئی امید ہے۔ میں صرف ایک خیمہ مانگ رہا ہوں جو مجھے نہیں مل رہا ہے۔' فوجی کیمپ سے تھوڑے فاصلے پر ایک امدادی کیمپ بنایا گیا ہے جہاں ایک وزیر بھی قیام پذیر ہے لیکن اس کے باوجود لوگوں کو کم امداد مل رہی ہے۔ ایک امدادی کارکن شیخ شاہ نواز نے بتایا کہ لوگ مقامی حکومت سے سخت ناراض ہیں اور ان کو اگر کوئی تھوڑی بہت امید ہے تو وہ فوجیوں سے ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||