دھول اور بدبو بالاکوٹ کا مقدر | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بالا کوٹ میں لوگ ملبے سے بچا کھچا سامان نکالنے میں مصروف ہیں۔ شہر کے بازار میں ایک ٹرک کو اس پر گری عمارت سے نکالنے کے لیے ٹرک اور مکان کے مالکان میں تقرار دیکھی گئی۔ ٹرک والا مزید صبر نہیں کرسکتا تھا اور ٹرک کھینچنا چاہتا تھا جبکہ اس عمارت کے چند دیگر لوگ اس کے اندر کا سامان پہلے نکالنے پر اصرار کر رہے تھے۔ شہر ملبے کا ڈھیر معلوم ہوتا ہے اور دھول اور بدبو اس کا مقدر۔ شہر کی صفائی اور ملبہ ہٹانے کا کام بھی لوگوں کے اصرار پر رکا ہوا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پہلے وہ اس ملبے سے اپنا سامان نکالیں گے جس کے بعد ہی صفائی کی اجازت دی جائے گی۔ فوجی حکام کے مطابق اب ملبے سے زندہ افراد کے نکلنے کی امید ختم ہوچکی ہے تاہم وہ لاشوں کی تلاش کا کام اب بھی جاری رکھے ہوئے ہیں۔ شہر کے تمام مکانات تباہ ہونے سے لوگ کھلے آسمان تلے یا خیمے میں پڑے رہنے پر مجبور ہیں۔ بالاکوٹ میں کئی متاثرین اپنے مکانات کو چھوڑنے پر تیار نہیں۔ بالاکوٹ کے محمد سلیم بھی ہیں۔ پانچ بھائیوں کا خاندان اب تین چار خیموں میں رہنے پر مجبور ہے۔ دو خیمے قدرے بہتر ہیں جبکہ باقی میں بارش کی پہلی بوند کی اطلاع اندر بیٹھے شخص کو فورا ہوجاتی ہے۔ محمد سلیم کا کہنا ہے کہ انہیں حکومت سے مکان کی تعمیر کے لیے امداد کی توقعہ ہے اور اسی لیے وہ کہیں اور منتقل نہیں ہو پا رہے۔ بالاکوٹ کے رہائشی محمد مسکین نے بتایا کہ سرد موسم میں ان کے بچے خیموں میں رہ رہے اور اکثر سردی کی بیماریوں جیسے کھانسی، نزلہ اور زکام کا شکار ہوچکے ہیں۔ اس کا کہنا تھا کہ صرف لوگوں کو ٹی وی پر خیموں میں رہتے دیکھا تھا۔ انہیں نہیں معلوم تھا کہ ایک روز وہ خود بھی اس پر مـجبور ہو جائیں گے۔ معیاری خیمے اس تباہ شہر کی سب بڑی ضرورت ہیں۔ امدادی تنظیموں اور سیاسی جماعتوں کا کہنا ہے کہ ان کے پاس رقم ہے لیکن بازار میں خیمے دستیاب نہیں لہذا ان کا انتظام کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ پیپلز پارٹی پارلیمنٹرین کے رہنما اور سابق صوبائی وزیر قمر عباس نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس کے لیے خیمے حاصل کرنا کون سے بڑی قیامت ہے۔ 'حکومت کو ہم رقم دینے کے لیے تیار ہیں وہ ہمیں خیمے لے کر دے تو۔' حکومت کا کہنا ہے کہ وہ خیمے کا انتظام کرنے پر پوری توجہ دے رہی ہے اور ان کی ترسیل میں جلد بہتری آئے گی۔ لیکن دوسری جانب امدادی کارکنوں کو خدشہ ہے کے سرد موسم کی آمد سے پہلے یہ انتظام کرنا ہوگا۔ بالا کوٹ میں ہی ایک فوجی کیمپ میں ان چار بچوں سے بھی ملاقات ہوئی جنہیں ایک روز پہلے چند چینلز نے ایک زبردست کارروائی میں بچانے کے دعوے کیے۔ پاکستانی فوج جسے نو سال کا لڑکا قرار دے رہی تھی جس نے اپنے تین بہن بھائیوں کو بچایا وہ اٹھارہ برس کا محمد عالم تھا۔ ماں باپ کے زلزلے میں مرنے کے بعد اس نے یقیناً اپنی چودہ سالہ معذور بہن صدرہ بی بی، گیارہ سالہ بھائی محمد اشفاق اور سولہ ماہ کی شیر خوار بہن کو بڑی بہادری سے بچایا اور امداد تک پہنچایا لیکن اس خبر کو سنسنی خیز بنا کر پیش کیا گیا۔ محمد عالم نے پہلے چار روز تک اپنے بھائی اور بہنوں کو مناسب خوراک مہیا کر کے زندہ رکھا اور پھر آٹھ گھنٹے پیدل چل کر انہیں فوج تک پہنچایا۔ اس سارے عمل میں اس کا کہنا ہے کہ اس کا ناف سے نیچے کا جسم ناکارہ ہوگیا ہے۔ ایسے بن ماں باپ کے بچے ہی آج کل ایک بڑی تشویش کا سبب بنے ہوئے ہیں کہ ان کا خیال کون رکھے گا؟ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||