سرینگر کی امداد براستہ لاہور | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کشمیری رہنما یاسین ملک زلزلہ زدگان کی امداد کے لیے بھارتی سرحد عبور کر کے پاکستان پہنچ گئے ہیں۔ انہیں شکایت ہے کہ جہاں انہیں لائن آف کنٹرول عبور کرنے میں چند منٹ لگنے چاہیے تھے وہیں پر انہیں اس فاصلے کو طے کرنے کے لیے ہزاروں کلومیٹر کا سفر کرنا پڑا۔ خیال ہے کہ جموں لبریشن فرنٹ کے مرکزی رہنما یاسین ملک ایک دو روز میں پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے اس حصے میں پہنچ جائیں گے جہاں کے لوگوں کو امداد کی سخت ضرورت ہے۔ دِلی ہوائی اڈے پر بی بی سی اردو سروس سے بات کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ وہ ایک کروڑ روپے کی مالیت کا سامان لیکر پاکستان جارہے ہیں۔ یہ وہ عطیہ ہے جو بھارت کے زیر انتظام کشمیر کے رہنے والوں نے لائن آف کنٹرول کے اس پار بسنے والوں کے لیے دیا ہے۔ یاسین ملک نے کہا کہ بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں وہ اور ان کے ساتھی امدادی کارروائی کرتے ہوئے ٹنگڈاری گئے تھے جہاں سے لائن آف کنٹرول بہت قریب ہے جس کے اس پار ہزاروں لاکھوں افراد امداد کے منتظر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ لائن آف کنٹرول عبور کرنا چاہتے تھے کیونکہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے متاثرین کو فوری امداد آسانی سے لائن آف کنٹرول کے اس پار سے دی جاسکتی ہے لیکن یاسین ملک نے کہا کہ انہیں کہا گیا کہ وہ صرف دِلّی کے راستے جاسکتے ہیں۔ یاسین ملک نے بتایا کہ ایک کروڑ روپے کے کمبل، خیمے اور سفری بستر (سلیپنگ بیگ) نیپال سے خریدے جارہے ہیں اور پاکستان انٹر نیشنل ائیر لائن نے انہیں مفت پاکستان پہنچانے کی یقین دہانی کرائی ہے۔ یاسین ملک نے کہا کہ ایک وقت تھا کہ بھارتی حکومت انہیں پاکستان جانے دینے کے بارے میں سوچنا بھی گناہ سمجتھی تھی لیکن آج انہیں کسی نے نہیں روکا۔ انہیں پاکستان میں نوّے دن کے قیام کی اجازت دی ہے اوران کے ویزے میں لاہور اسلام آباد، راولپنڈی کے علاوہ مظفر آباد جانے کی اجازت بھی شامل ہے۔ انہوں نے کہا ماضی میں بھی انہیں ایک بار پاسپورٹ جاری کیا گیا تھا جو بعد میں چھین لیا گیا۔ وہ چندہ ہفتے قبل آل پارٹیز کانفرنس کے دیگر قائدین کے ہمراہ پاکستان آئے تو ان کے پاسپورٹ بنائے گئے تھے جو یاسین ملک کے بقول ابھی تک نہیں چھینے گئے۔ یاسین ملک کے پاسپورٹ کی معیاد ایک سال تھی۔ انہوں نے کہا کہ باقی بھارتی باشندوں کو دس سال تک کے لیے پاسپورٹ جاری ہوتا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||