BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
آپ کی آواز
وقتِ اشاعت: Monday, 17 October, 2005, 11:23 GMT 16:23 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
متاثرین کن حالات میں رہ رہے ہیں؟
 زلزلے کے متاثرین کے لئے ایک امداد کیمپ
زلزلے کے متاثرین کے لئے ایک امداد کیمپ

آٹھ اکتوبر کے زلزلے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد اب تک چوان ہزار بتائی گئی ہے جبکہ زخمیوں اور پناہ گزینوں کی تعداد لاکھوں میں ہے۔ کیا آپ زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں موجود ہیں؟ اگر ہاں تو وہاں پر متاثرین کی حالت اب کیا ہے؟ وہ کیسے رہ رہے ہیں، کن حالات میں، کیا امداد پہنچ رہی ہے؟ ہمیں تفصیل سے ان علاقوں میں متاثرین کی زندگی کے بارے میں لکھیں۔ ان کی زندگی صبح سے شام تک کیسے گزرتی ہے؟ ایسے حالات میں ان کا یار و مددگار کون ہے؟ اگر آپ وہاں نہیں رہتے لیکن فون یا دوستوں کے ذریعے کسی علاقے کی کوئی اطلاع ملتی ہے تو اس علاقے کا نام اور وہاں کے رہنے والوں کی زندگی کے بارے میں ہمیں لکھیں۔ آپ کوشش کریں کہ اپنے ای میل میں اپنے خیالات لکھنے کے بجائے متاثرین کی زندگی کے حالات بیان کریں۔

آپ کی رپورٹ

آپ اپنی رپورٹ اردو، انگریزی یا roman urdu mein bhi bhej سکتے ہیں۔ اگر آپ اپنا پیغام موبائل فون سے ایس ایم ایس کے ذریعے بھیجنا چاہتے ہیں تو براہِ مہربانی اس کے آخر میں اپنا اور اپنے شہر کا نام لکھنا نہ بھولیے۔ ہمارا نمبر ہے:00447786202200


صائمہ جمالی، حیدرآباد، پاکستان:
کراچی میں کشمیر سے زخمی پہنچ رہے ہیں، جس کا مطلب ہے کہ وہاں کوئی علاج نہیں کیا جا رہا ہے، اس وجہ سے لوگوں کو اتنا سفر کرنا پڑ رہا ہے۔ آخر ڈاکٹر کہاں ہیں؟ آرمی کی میڈیکل کور کیوں نظر نہیں آ رہی؟

وسیع اللہ بھمبھرو، میرپور خاص، سندھ، پاکستان:
مجھے تو ایک بات سمجھ نہیں آ رہی کہ پی ٹی وی پر مرنے والوں کی تعداد کیوں کم بتائی جا رہی ہے؟ کیا اس کا مطلب ہے کہ حکومت نے اپنی غلطی تسلیم کر لی ہے؟ اور باقی رہا امدادی کاموں کا سوال تو پی ٹی وی پر روز رات کو خبرنامے پر امدادی کاموں کی تعریف کی جا رہی ہے جبکہ جیو اور اے آی وائی پر لائو پروگرام میں لوگ امدادی کاموں کو ناکام قرار دے رہے ہیں۔

فضل سبحان، مروت، پاکستان:
میری رائے یہ ہے کہ تمام لوگگوں سے اپیل کی جائے کہ چوری مت کرو۔ جن غریب عوام کے لیے امداد پہنچ رہی ہے، اس میں چوری مت کرو۔

اصفحان احمد، لاہور، پاکستان:
پہلے چوبیس- چھتیس گھنٹے کی بوکھلاہٹ کے بعد پاکستانی فوج زلزلہ زدگان کی امداد میں پوری قوت سے لگی ہوئی ہے، جو ٹی وی کے ہر چینل پر نظر آ رہی ہے۔ مگر جیسا اقوام متحدہ کے اینڈریو میکلائڈ نے بتایا کہ یہ آفت سونامی سے بھی زیادہ بڑی ہے۔ حکومت امریکہ، برطانیہ، جاپان، چین، ترکی وغیرہ کے علاوہ اپنے ملک کی ہزاروں تنظیموں اور رضاکاروں کے باوجود اس پر قابو نہیں پا رہی۔ ایسے میں حکومت پر انگلی اٹھانے کی بجائے ہمارا فرض ہے کہ امدادی کام میں ہاتھ بٹائیں۔ تنقید کے لیے تو عمر پڑی ہے۔

عارف، پاکستان:
میرا دوست جو اس زلزلے میں مارا گیا، اس کے رشتہ دار بہت بری حالت میں ہیں۔ وہ کئی دن تک نہ کافی غذا کھاتے رہے۔ ان کا تعلق بالاکوٹ سے ہے۔ اب وہ میرے گاؤں آئے ہیں۔ انہوں نے بتایا ہے کہ ان کے پاس سر چھپانے کے لیے تک جگہ نہیں تھی اور وہ کھلے میدان میں زندگی گزار رہے تھے۔ ہر جگے امداد کی ضرورت ہے۔

لبنا ایاز، فرانس:
لوگ فضول میں حکومت اور فوج پر تنقید کر رہے ہیں۔ جبکہ فوج جتنا کام کر رہی ہے، اتنا کوئی نہیں کر رہا۔ بس لوگوں کو دور بیٹھے بیٹھے باتیں بنانے کی عادت ہو گئی ہے۔ خود کچھ نہیں کرتے بس موقع ملا اور فوج پر تنقید شروع۔ اس وقت فوج ہی سب کے کام آ رہی ہے۔ اور یہ قدرتی آفات اللہ کی طرف سے ہے۔۔۔

نومان اللہ، اسلام آباد، پاکستان:
میں جبوری، مانسہرہ میں دو دن رہ کر آیا ہوں۔ کوئی مکان رہنے کے قابل نہیں ہے۔ صرف مساجد ٹھیک ہیں، لیکن ان کے مینار بھی ٹوٹ چکے ہیں۔ برف پڑنا شروع ہو گئی ہے اور ہر تیس پینتالیس منٹ کے بعد زلزلے آ رہے ہیں۔ نیچے زلزلہ ہے اور اوپر بارش۔ فوج پہنچ چکی ہے۔ رضاکار اور ہیلی کاپٹر سامان لے کر آ رہے ہیں۔ لیکن رابطہ نہ ہونے کی وجہ سے جو سامان ضرورت ہے وہ نہیں پہنچ رہا۔ وہاں پانی کی نہیں خیموں کی ضرورت ہے۔

ہارون رشید، سیالکوٹ، پاکستان:
میرا ڈرائور مظفرآباد سے اٹھارہ کلومیٹر دور گاؤں مچھیارہ میں رہتا ہے اور اس نے بتایا ہے کہ وہاں کچھ نہیں بچا ہے اور اس کی خالہ ہلاک ہو گئی ہیں۔ اس کے والد، بھائی، بھتیجے سبھی بری طرح سے زخمی ہیں۔ وہاں سب کا برا حال ہے اور اس کے گاؤں میں امداد بھی سات دن بعد پہنچی۔

جاوید اقبال سواتی، لاہور، پاکستان:
تحصیل الائی، ضلع بٹاگرام میں واقع میرے گاؤں کوشگرام تک ابھی کوئی امداد نہیں پہنچی ہے۔ یہ علاقہ اب اپنی امید بھی کھو چکا ہے۔ یہاں نہ تو کوئی حکومتی امداد پہنچی ہے اور نہ ہی کسی غیر سرکاری تنظیم نے یہاں امداد فراہم کی ہے۔ اس کی وجہ شاید یہ ہے کہ یہاں آنے والی سڑک پوری طرح تباہ ہو گئی ہے۔ یہاں پہنچنے کا ایک ہی طریقہ ہے، ہیلی کاپٹر کے ذریعے مگر حکومت صرف بالاکوٹ، کشمیر اور مانسہرہ پر ہی توجہ دے رہی ہے۔ میں لاہور میں پڑھائی کر رہا ہوں۔ میری اپیل ہے کہ اس علاقے تک امداد پہنچائی جائے۔

سید نجم الحسن، امریکہ:
تنقید کرنا سب سے آسان کام ہے۔ جو لوگ گھر بیٹھے باتیں بنا رہے ہیں انہیں چاہیے کہ وہ متاثرہ علاقوں میں جائیں اور عملی طور پر متاثرین کی مدد کریں۔ خالی گھر میں بیٹھ کر باتیں بنانا آسان ہے۔

جاوید اقبال، بیلجیم:
سب سے پہلے تو میں بی بی سی کا شکریہ ادا کرنا چاہوں گا جنہوں نے یہ اتنا اچھا سلسلہ شروع کیا ہے جس کے ذریعے ہم حکومت اور میڈیا تک اپنی آواز پہنچا سکتے ہیں۔ میرا تعلق راولاکوٹ سے ہےمگر اب میں بیلجیم میں مقیم ہوں۔ میری ابھی ابھی وہاں دریک گاوں میں بات ہوئی۔ وہاں اب تک کوئی امداد نہیں پہنچی ہے۔ لوگ کھلے آسمان کے نیچے، سردی میں بچوں کے ساتھ رات گزار رہےہیں۔ اس وقت لوگوں کو گرم کپڑوں اور سر چھپانے کے لیے چھت کی ضرورت ہے۔ لیکن ہماری حکومت اور فوج پھر سے انتظار کر رہی ہے کہ لوگ سردی سے مر جائیں، تو ہم معافی مانگ لیں گے۔۔۔

نواز بھٹا، لاہور، پاکستان:
لوگ اندازے سے زیادہ مارے گئے ہیں۔ ہم آج ہی بالاکوٹ سے لوٹے ہیں۔ کچھ برے لوگ لوٹ مار کر رہے ہیں۔ جب کہ بےشمار لوگ مدد کر رہے ہیں۔ متاثرہ لوگوں کو اس وقت ڈاکٹروں اور خیموں کی ضرورت ہے۔

جاوید ایوب کشمیری، چین:
میں اس وقت چین میں ہوں اور میرا تعلق پاکستانی زیر انتظام کشمیر کے ضلع باغ سے ہے۔ میرا اس علاقے میں جن دوستوں اور ارباب سے رابطہ ہوا ہے، ان سب کا کہنا ہے کہ پورے علاقے میں زلزلے کے بعد نو روز گزرنے کے باوجود ابھی تک لاشیں عمارتوں کے نیچے دبی ہوئی ہیں اور طوفان اٹھا ہوا ہے۔ اکثر علاقے ایسے ہیں جن میں اب تک نہ کوئی امدادی ٹیم پہنچی ہے اور نہ ان علاقوں کے بارے میں یہ پتہ ہے کہ وہاں کتنے لوگ ہلاک یا زخمی ہوئے ہیں۔ باغ میں تمام گھر تباہ ہو گئے ہیں۔ لوگوں کے پاس رہنے کے کوئی جگہ نہیں۔ ایک طرف بھوک ہے اور دوسری طرف سردی۔۔۔اکثر لوگوں کا کہنا ہے کہ وہ پاکستانی فوج کے ذمہداران کے سامنے ہاتھ جوڑتے رہے کہ ہمارے سکولوں کے نیچے دبے بچوں کو نکالو، مگر انہوں نے ہماری بات تک نہیں سنی۔ اکثر لثگوں کے دلوں میں پاکستانی فوج کے لیے جو نفرت پائی جاتی ہے اس کا اظہار کرنا ممکن نہیں۔ ایک دوست نے کہا کہ ہمارے ساتھ جو ہونا تھا ہو گیا، اب ہماری زندگی کا ایک ہی مقصد بچ گیا ہے اور ہے کشمیر سے پاکستانی فوج کو نکالنا۔۔۔

عرفان صادق، میرپور، پاکستان:
مجھے ضلع باغ کے نواحی گاؤں اسلام گڑھ جانے کا اتفاق ہوا۔ وہاں پر متاثرین شدید سردی اور بارش میں کھلے آسمان کے نیچے زندگی بثر کرنے پر مجبور ہیں۔ مکانات مکمل طور پر تباہ ہو چکے ہیں۔ عوام کی طرف سے لوگوں کو خوراک فراہم کی جا رہی ہے۔ اس وقت لوگوں کی بنیادی ضرورت خیمے ہے تاکہ وہ سخت سردی میں اپنے اور اپنے بچوں کے سر ڈھانپ سکیں۔ وہاں مجھے ایک دوسرے گاؤں کھرل عباسیاں کے کچھ متاثرین بھی ملے۔ انہوں نے بتایا کہ ان کے گاؤں میں اب تک خوراک تک نہیں پہنچی اور ہر طرف لاشیں پڑی ہوئی ہیں جس کی وجہ سے بدبو پھیلنا شروع ہو گئی ہے۔

جاوید اقبال ملک، چکوال، پاکستان:
ہماری ایک ٹیم متاثرہ علاقوں میں امدادی سامان لے کر گئی۔ وہاں پر اس وقت سب سے بڑا مسئلہ سردی اور بدبو ہے۔ چھوٹے بچوں کو سخت مشکلات کا سامنا ہے اور زخمیوں کو لے جانے کے لیے ہیلی کاپٹر ناکافی ہیں۔ ان لوگوں کے شب و روز صرف انتظار میں گزر جاتے ہیں۔

خواجہ کبیر احمد بانڈے، بیلجیم:
میرا تعلق تباہ حال راولاکوٹ سے ہے۔ میں بیلجم میں رہتا ہوں۔ روزانہ پانچ، چھ مرتبہ فون کرتا ہوں۔ راولاکوٹ میں گو اموات مظفرآباد یا بالاکوٹ کی طرح نہیں ہوئیں، مگر لوگوں کے مکانات مکمل طور پر تباہ ہو چکے ہیں۔ جو بچ گئے ہیں وہ بھی کسی بھی وقت گر سکتے ہیں۔ لوگ سخت سردی میں کھلے آسمان کے نیچے راتیں گزار رہے ہیں۔ جہاں تک امداد کا تعلق ہے، تو اس علاقے میں اب تک امداد نہیں پہنچی ہے۔ میری امی نے فون پر مجھے بتایا کہ لوگ وہاں سے نقل مکانی کر رہے ہیں۔ جب میں نے امی سے کہا آپ لوگ بھی سردی کے بچنے کے لیے شفٹ ہو جائیں، تو ان کا کہنا تھا کہ ہم اسی مٹی سے پیدا ہوئے ہیں اور اسی میں جائیں گے۔۔۔

شاہدہ اکرم، ابوظہبی:
ایسا دل کٹ رہا ہے کہ جیسے اپنے خون کے رشتے سبھی وہاں ہیں۔ وہ چھوٹا سا بچہ ہے جو ذرا دیر کو باہر گیا تھا شرارت سے اور واپس آیا تو وہاں کچھ نہیں تھا۔۔۔۔

علی سرور تنولی، کالا ڈھاکہ:
کالا ڈھاکہ میں زلزلے سے جانی و مالی نقصان کافی ہوا ہے اور وہاں ابھی تک مشرف صاحب نے کوئی امداد نہیں بھیجی ہے۔ یہاں اشد ضرورت کمبل اور خیمے کی ہے۔

غلام رسول، راولپنڈی:
میری ناقص رائے کے مطابق تمام عزت دار خاندانوں کو چاہئے کہ وہ اپنے بچوں کی شادیاں ان بچیوں سے کریں جو ان علاقوں میں کھلے آسمان تلے پڑے ہوئے ہیں تاکہ وہ اپنی باقی زندگی عزت کے ساتھ گزار سکیں اور اپنی عزتوں محفوظ کرسکیں کیوں کہ بعض علاقوں میں اتنا کچھ ہونے کے باوجود ہماری بہنوں کی عزتیں لوٹی گئی ہیں، میری تمام امت مسلمہ سے گزارش ہے کہ خدارا اس مسئلے پر بھی ضرور غور کیا جائے۔

عمران ساجد، لاہور (ایس ایم ایس کے ذریعے)
میں آج ہی مظفرآباد سے آیا ہوں۔ وہاں کچھ افغانی لوگ ہیں جو امدادی سامان لوٹ کر دوسرے شہروں میں بیچنے کا کام کررہے ہیں۔ گورنمنٹ اور آرمی کام کررہے ہیں۔ ان کی مدد کریں۔

ماجد علی شاہ، مانسہرہ:
یہ جو کچھ میڈیا دکھا رہا ہے سب جھوٹ ہے، میں یہاں کا رہنے والا ہوں، میں نے اپنی آنکھوں سے لوگوں کو مرتے دیکھا ہے۔ میں پہلے دن ہی بالاکوٹ پہنچ گیا تھا۔ وہاں پر ہم چند لوگ کیا کرسکتے تھے لیکن ہماری حکومت نے کیا کیا، تین دن بعد آرمی آئئ وہ بھی ایریا میں نہیں گئی جہاں زلزلہ ہوا، بہت افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے۔ ہم لوگوں میں انسانیت ختم ہوگئی ہے، بالخصوصا ہمارے سیاست دانوں میں۔ میں وہاں گیا، دیکھا تو لوگ مررہے تھے، مانسہرہ کے لوگوں نے جاکر اپنی جان کی باجی لگاگر، لوگوں کو جتنا بچایا شاید ہی حکومت نے اتنا کچھ کیا ہو۔

محسن حسن چیما، گوجرا:
ہم اپنے بھائیوں کے ساتھ ہیں لیکن انہیں ہماری فوج کو (نہیں) ذمہ دار ٹھہرانا چاہئے، وہ اپنے وسائل کے حساب سے بہتر کام کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔

ڈاکٹر فرید قاسم، لطیف آباد:
میں آزاد کشمیر سے واپس آیا ہوں۔ میں وہاں ایک میڈیکل ٹیم کے ساتھ گیا تھا جس میں دو خواتین ڈاکٹروں سمیت دس سرجن تھے۔ میں یہ کہنا چاہوں گا کہ وہاں تباہی بڑے پیمانے پر ہوئی ہے لیکن میڈیا میں اس کی صحیح تصویر نہیں ابھر رہی ہے۔ ابتدائی ریلیف ختم ہوگئی ہے، آرمی اچھا کام کررہی ہے اور بیشتر لوگوں تک پہنچنے میں کامیاب ہوئی ہے۔ تمام بڑے شہر اور سیٹلمنٹ کو خالی کرایا گیا ہے، لاشیں ملبے کے نیچے ہیں، مقامی آبادی پہاڑوں سے نیچے محفوظ علاقوں میں آئی ہے۔ صرف وہی لوگ وہاں ہیں جو لٹیرے ہیں اور موقع پرست ہیں جنہیں میں گِدھ کہتا ہوں۔ بالاکوٹ اور مظفرآباد میں جو ضرورت مند لوگ بچ گئے ہیں انہیں امداد نہیں پہنچ رہی۔ میں سمجتھا ہوں کہ امداد کی سپلائ کچھ دیر کے لئے روک دینی چاہئے، وہاں ضرورت سے زائد اشیاء ہیں۔ وہاں پر لاقانونیت کو ختم کرنا ضروری ہے تاکہ امداد ضرورت مندوں تک پہنچے۔

قاضی جنید، ایبٹ آباد:
میں بالاکوٹ گیا تو ہاں پر پاک آرمی کے لوگ سو رہے تھے، میرے پاس تصویر بھی ہے۔

رابعہ مظفر، نیو یارک:
میں مظفرآباد سے ہوں۔ میری ابھی اپنی پھوپھو سے بات ہورہی تھی، ان کا نام یاسمین ہے۔ ان ک مطابق وہاں بہت سردی ہوگئی ہے، وہ اس وقت ٹینٹ میں رہ رہی ہیں۔ بارش ہونے کی صورت میں پانی اندر آتا ہے۔ اور بو ہونے کی وجہ سے سانس لینے میں مشکل ہے۔ ان کو معلوم نہیں ہے کہ وہ اگر مظفرآباد سے نکلیں تو کہاں جائیں۔

عبدالسلام، تیمارگرا:
بھائی کیا پوچھتے ہو بےچاروں کی حالت۔ اوپر دی ہوئی تصویر جیسا حال بھی چند ہی خوش نصیبوں کی قسمت میں ہے۔ ہر جگہ بہت برے حالات ہیں۔ اللہ کی طرف رجوع کرنا چاہئے اور اللہ ہی کی رضا طلب کرنا چاہئے۔ بس یہی طریقہ ہے ورنہ سامان اور امداد کی کمی نہیں ہے۔

اپنی رائے بھیجیں
پہلا نام
خاندانی نام*
پتا
ملک
ای میل
ٹیلی فون*
* اختیاری
آپ کی رائے
بی بی سی آپ کی آراء میں کاٹ چھانٹ کر سکتی ہے اور اس بات کی ضمانت نہیں دے سکتی کہ موصول ہونے والی تمام ای میل شائع کی جائیں گی۔
66آپ نے کیا دیکھا؟
زلزلے کا آنکھوں دیکھا حال ہمیں لکھ بھیجیے
66زلزلے پر آپکی رائے
امدادی کارروائیوں کی رفتار پر آپکا ردًِ عمل
66زور بحالی کے کام پر؟
ترجیحات کیا ہونی چاہئیں؟ آپ کی رائے
ہیلی کاپٹرّ کا قضیہ
کیا یہ وقت ان باتوں کا ہے؟ آپ کی رائے
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد