’ہماری دہشت دور کریں‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ضلع مانسہرہ کی تحصیل اُگی جوغالباً وہاں کا سب سے خوبصورت علاقہ ہے، کے لوگوں کی زندگی اب جہنم بن چکی ہے۔ پینے کو پانی نہیں کھانے کو روٹی نہیں سر پر چھت نہیں اور کوئی پرسان حال نہیں۔ قیامت خیز زلزلے نے آزاد کشمیر کی طرح صوبہ سرحد کے اس علاقے کی خوشیاں بھی چھین لیں ہیں۔ ایک ریٹائرڈ فوجی (جو کہ علاقے میں پچھلے ہفتے تک ایک این جی او سے وابستہ تھے جس کا دفتر ملبے کا ڈھیر بن چکا ہے اور اس سے وابستہ لوگ ابدی نیند سو چکے ہیں) کا کہنا ہے کہ پلک جھپکتے میں زندگی بدل گئی ہے۔ نہ قدرت پر اعتماد رہا نہ انسان پر اعتبار۔ چھٹا دن ہے اور حکومت نام کی چیزدور دور تک دکھائی نہیں دے رہی۔بھوکے پیٹ کے ساتھ کتنی دیر تک آپ ملبوں سے لاشیں نکالیں گے اور پھٹے پرانے کپڑوں میں دفنائیں گے؟ گیلی مٹی میں دھنسے ایک گھر کے دروازے پر کھڑے اعجازاحمد نے جل کر کہا جب اخبار والے یہاں پیدل پہنچ سکتے ہیں تو ہماری فوج ہیلی کاپٹر پر کیوں نہیں آ سکتی؟ اُگی ایک سرسبز پہاڑی سلسلے میں واقع ہے۔ یہاں لوگ کاشتکاری سے اپنی روزی کماتے ہیں جب کہ کچھ مانسہرہ جاکر مزدوری سے پیٹ پالتے ہیں۔ تقریباً دو سو کے قریب افراد لقمہ اجل بن گئے اور ہزاروں کی تعداد میں لوگ زخمی ہیں۔
یہ علاقہ مالی اعتبار سے تقریباً مکمل طور پر تباہ ہوچکا ہے۔ اِکا دُکا مکان کھڑے ہیں۔ اور جو کھڑے بھی ہیں دراڑیں پڑجانے کے باعث گویا کھنڈروں میں بدل چکے ہیں۔ خیموں کی کمی کے باعث عورتیں اور بچے اکھٹے ہیں جبکہ مرد گرے ہوئے مکانوں کے ملبوں سے لاشیں ڈھونڈنے اور کارآمد سامان تلاش کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ اُن کے چہروں پر ایک عجیب کیفیت طاری ہے۔ جب خوف غصہ میں اورغصہ بے بسی میں بدل جاتا ہے۔ دوائیوں کی کمی کے باعث ان میں سے کئی زخمیوں کا مستقبل تاریک دکھائی دیتا ہے۔ واحد اُمید کی کرن چند بچے ہیں جو زلزلے کی نوعیت سے ناآشنا ملبے کے ڈھیروں پر پکڑن پکڑائی کھیل رہے ہیں۔ اس بات سے بے خبر کہ اُن کی تعلیم، صحت اور شاید مستقبل کی ہر ٹھوس ضمانت ختم ہو چکی ہے۔ اُگی کے قریب ایک گاؤں بانڈے صادق ہے۔ پینتس سو افراد پر مشتمل یہ گاؤں پتھر کے عہد کی عکاسی کررہا ہے۔ کوئی گھر یہاں تباہی سے نہیں بچا۔ یہاں کے لوگ بھی لاشیں ڈھونڈنے اور اپنی زندگی سمیٹنے کے عمل میں مصروف دکھائی دیتے ہیں۔ وہی بے بسی کا عالم، وہی اُمید کا فقدان۔ رضیہ سلطانہ جو کہ کراچی میں پیدا ہوئیں اور پلی بڑھی آج سے چند سال پہلے بیاہ کر یہاں آئیں۔اب وہ بغیر چھت کے جینا سیکھ رہی ہیں۔ زندگی کے اس نئے امتحان میں اُن سے ان کی بزرگ ساس بھی چِھن گئیں اور دو بچے زخمی ہو گئے۔ میں سوچ رہی تھی کہ رضیہ سلطانہ کی زندگی میں سب سے بڑاخوف شاید نہ رکنے والے زلزلے کے مسلسل جھٹکے ہیں۔ ' نہیں باجی، اس علاقے میں شیر اور سانپ بہت زیادہ ہیں۔ بچے قابو آتے نہیں اور ہمیں خوف لگا رہتا ہے کہ کہیں شیرانہیں لے نہ جائیں۔ گھر تو کوئی بچا نہیں جہاں ہم چھپ جائیں۔ پرسوں یہاں ایک شیر دکھائی دیا تھا جسے ہمارے آدمیوں نے ڈرابھگایا مگر اس کا کیا پتہ وہ کسی رات کو آدھمکے۔' 'مجھے تو اب زلزلے سے نہیں شیر اور سانپ سے ڈر لگتا ہے۔' وہ بولیں۔ ابھی رضیہ سلطانہ بی بی سی سے گفتگو کرہی رہی تھیں کہ ہماری عقب سے کچھ شور اُٹھا۔ دو آدمی زمین پرزور زور سے اینٹیں مار رہے تھے۔ قریب جا کردیکھا تو تقریباً ڈیڑھ فٹ لمبے سانپ پر انسان زلزلہ بن کرگرچکے تھے۔ عصمت جبین نے یہ رپورٹ مانسہرہ سے بھیجی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||