مظفرآباد کا غم۔۔۔ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
خلیل الرحمان، مظفرآباد
محمد رفیع، ضلعہ مظفرآباد، کانسر محاجر کیمپ
شیخ سجاد، مظفرآباد کل پاکستان، بھارت اور افغانستان میں آنے والے زلزلے کے بعد ہمارے نامہ نگار ذولفقار علی نے مظفرآباد میں کچھ متاثرین سے بات کی۔ یہ ان کے تاثرات ہیں۔ آپ کی ای میل اعجاز الحق، مظفر آباد، پاکستان ہمیں یہاں بہت مشکلات کا سامنا ہے۔ پینے کو پانی نہیں ہے، خیموں میں پناہ لی ہوئی ہے، گھر بری طرح تباہ ہو گئے ہیں۔ بہت سارے لوگ زخمی ہیں اور امداد کے منتظر ہیں۔ ہمارے پاس دوائیاں نہیں ہیں۔ ہمارے پڑوسی ملبے میں پھنسے ہوئے ہیں لیکن ہمارے پاس ملبہ ہٹانے کا سامان نہیں ہے اور ہم انہیں وہاں سے نکال نہیں سکتے۔ ہمیں مدد کا انتظار ہے۔ کفایت اللہ، تحسیل بندا داؤد شاہ، صوبہ سرحد، پاکستان جنرل پرویز مشرف امریکہ کو خوش کرنے کے لیے وانا آپریشن کو دس دس ہیلی کاپٹر بھیجتے ہیں جبکہ غریب عوام کی مصیبت دیکھ کر کہتے ہیں کہ ہمارے پاس ہیلی کاپٹر کی کمی ہے۔ ارے امریکہ کی غلامی کرنے والے امریکہ سے کہیں کہ کو وہ ہیلی کاپٹر دے! اور جلدی دے ورنہ ایسا نہ ہو کہ ہمارے غریب عوام ملبے کے نیچے مر جائے اور اس کے بعد امداد آئے۔ ذیشان افتخار، مونٹریال، کینیڈا میرا سوال یہ ہے کہ اگر صحافی ان علاقوں تک پہنچ سکتے ہیں تو پھر وہاں مقیم فوج کیوں نہیں پہنچ پا رہی؟ وہ مظفر آباد اور بالاکوٹ اور ان کے قریبی گاؤں تک کیوں نہیں پہنچ پا رہی؟ فوج کے اعلی کمان کو چاہیے کہ وہ اس سلسلے میں کوئی ایکشن لے اور امدادی سرگرمیوں میں تیزی لائے۔ جنید مسلم، رحیم یار خان، پاکستان حکومت پاکستان بے حس ہے، اس کے لوگوں کو کوئی پرواہ نہیں کیونکہ ان کے اپنے نہیں مرتے۔ نا کوئی صدر کا مرا ہے اور نا ہی وزیر اعظم کا کوئی مرا ہے۔ یہ تو غریب عوام مری ہے۔ ان کو کیا احساس ؟ آیات حسین، اسلام آباد، پاکستان میری درخواست ہے کہ لوگ اب متاثرین کی امداد کریں۔ اور سب سے یہ بھی خاص درخواست ہے کہ ان بچوں کی مدد کریں جو اب والدین اور رشتے داروں سے محروم ہیں۔ فہد خان، آسٹریلیا جنرل صاحب نے فوج اور حکومت کے رسپانس کو انتہائی مناصب قرار دیا ہے۔ لیکن ان کو پتہ ہونا چاہیے کہ اسلام آباد ہی صرف پاکستان نہیں ہے۔ ان کو یہ بولنے سے پہلے سوچنا چاہیے تھا کہ کتنے معصوم بچے اور غریب لوگ بٹگرام اور کشمیر کے علاقوں میں ملبے کے نیچے دبے مر رہے ہیں۔ پہلی دفعہ زندگی میں مجھے پاکستانی ہونے پر شرم آ رہی ہے۔ اپنے ملک سے انتا دور رہ کے مجھ سے اپنے غریب ہم وطنوں کا دکھ دیکھا نہیں جا رہا جبکہ ان لوگوں کی حکومت صرف امیر لوگوں کو بچانے میں مصروف ہے۔ شیم، شیم۔ عاطف فیاض، پاکستان حکومت اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کر رہی۔ حکومت متاثرین کی مدد صرف تب کر پائے گی جب وہ اپنے آپ کو عوام کا حصہ محسوس کرے ۔اور ہمارے بجٹ کا تقریباً پچھہتر فیصد حصہ فوج پر خرچ ہوتا ہے تو فوج کو جلد کارروائی کرنی چاہیے۔ عمران صوالح، پاکستان |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||