BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 09 October, 2005, 09:59 GMT 14:59 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مظفرآباد کا غم۔۔۔

خلیل الرحمان، مظفرآباد
میرا نام خلیل الرحمان ہے۔ میرا گھر مدینہ مارکیٹ میں تھا۔ نیچے دکان تھی اور اوپر گھر تھا۔ گھر میں ابو سوئے ہوئے تھے۔ میری بیوی، میرا بچہ، میری دو بھانجیاں اور میرا چھوٹا بھائی۔۔۔چھ افراد دب کر مر گئے۔ جس میں سے ہم نے پہلے ابو کو نکالا۔ میرے بچے وہاں سے آوازیں دے رہے تھے کہ مجھے بچاو، مجھے بچاو، لیکن ملبہ اتنا تھا کہ ہم لوگ ان کی آوازیں سن رہے تھے مگر ان کو بچا نہیں سکے۔ میری بیوی مر گئی، میرا بچہ بھی مر گیا اور میری دو بھانجیاں، چھوٹا بھائی بھی مر گیا۔ ابھی بھائی اور بھانجی کی لاشیں نکالی ہیں اور ان کو دفنایا ہے۔ باقی اب بھی ملبے کے نیچے دبے ہوئے ہیں۔




محمد رفیع، ضلعہ مظفرآباد، کانسر محاجر کیمپ
میرا نام محمد رفیع ہے۔ میں ضلعہ مظفرآباد میں کانسر محاجر کیمپ کا رہائشی ہوں۔ وہاں تقریباً تین کیمپ تھے، چار ہزار آبادی کے۔ ان میں سے صرف کچھ سینکڑوں لوگ بچے ہیں جو ابھی بھی زخمی ہیں۔ وہاں ان کی کسی قسم کی کوئی مدد نہیں ہو رہی۔ نہ دوا کا کوئی انتظام ہے اور نہ ان زخمیوں کو وہاں سے نکالنے کا کوئی انتظام کیا گیا ہے۔ اس وقت میں پاکستان کی عوام اور حکومت سے اپیل کرتا ہوں کہ پلیز پلیز ہمارے لوگوں کو بچائیے۔ تین سو بچے ایک سکول کی بلڈنگ میں کل سے پھنسے ہوئے ہیں۔ ابھی تک انہیں نکالنے کا کوئی بندوبست نہیں ہوا۔ اس کے علاوہ دو سکول پوری طرح دریا میں چلے گئے۔ وہاں پر اس وقت شدید حالت میں زخمی ہیں جن تک کوئی امداد نہیں پہنچ رہی۔ سڑکیں دونوں طرف سے بالکل بند ہو چکی ہیں۔ میں پہاڑوں سے گزر کر یہاں پہنچا ہوں تاکہ دنیا تک ان لوگوں کی آواز پہنچا سکوں۔ وہاں پر ہزاروں لوگوں کی لاشیں پڑی ہوئی ہیں۔




شیخ سجاد، مظفرآباد
میرا نام شیخ سجاد ہے۔ میں ادھر محاجر ہوں۔ میں یہاں مدینہ مارکیٹ میں کپڑے کا کام کرتا ہوں۔ صبح کا وقت تھا اور میں گھر پر ہی تھا۔ میرے تینوں بچے اور بیوی فوت ہوگئے۔ سب کی منتیں کی میں کہ ان کو نکالنے میں میری مدد کرو۔ کوئی بھی نہیں آیا۔ شاید کوئی زندہ ہی بچ جاتا۔ پھر کچھ پٹھان افراد کو پیسے دے کر، اور کچھ دوستوں نے بھی مدد کی، ان کو ملبے سے نکالا۔ ابھی میں ان کو ایک ہی قبر میں دفن کر کے آیا ہوں۔ ایک ہی قبر میں سب کو ڈال کر آیا ہوں۔ میں خود بھی زخمی ہوں۔ ڈاکٹر کہتے ہیں جس کی ٹانگ کٹی ہے وہ زیادہ زخمی ہے ہم اس کا علاج کریں گے۔ ہم بس اللہ کے ہی آسرے پر یہاں بیٹھے ہوئے ہیں۔ نہ کھانا ہے اور نہ کوئی انتظام۔ کچھ سمجھ نہیں آرہا۔



کل پاکستان، بھارت اور افغانستان میں آنے والے زلزلے کے بعد ہمارے نامہ نگار ذولفقار علی نے مظفرآباد میں کچھ متاثرین سے بات کی۔ یہ ان کے تاثرات ہیں۔

آپ کی ای میل

اعجاز الحق، مظفر آباد، پاکستان

ہمیں یہاں بہت مشکلات کا سامنا ہے۔ پینے کو پانی نہیں ہے، خیموں میں پناہ لی ہوئی ہے، گھر بری طرح تباہ ہو گئے ہیں۔ بہت سارے لوگ زخمی ہیں اور امداد کے منتظر ہیں۔ ہمارے پاس دوائیاں نہیں ہیں۔ ہمارے پڑوسی ملبے میں پھنسے ہوئے ہیں لیکن ہمارے پاس ملبہ ہٹانے کا سامان نہیں ہے اور ہم انہیں وہاں سے نکال نہیں سکتے۔ ہمیں مدد کا انتظار ہے۔

کفایت اللہ، تحسیل بندا داؤد شاہ، صوبہ سرحد، پاکستان

جنرل پرویز مشرف امریکہ کو خوش کرنے کے لیے وانا آپریشن کو دس دس ہیلی کاپٹر بھیجتے ہیں جبکہ غریب عوام کی مصیبت دیکھ کر کہتے ہیں کہ ہمارے پاس ہیلی کاپٹر کی کمی ہے۔ ارے امریکہ کی غلامی کرنے والے امریکہ سے کہیں کہ کو وہ ہیلی کاپٹر دے! اور جلدی دے ورنہ ایسا نہ ہو کہ ہمارے غریب عوام ملبے کے نیچے مر جائے اور اس کے بعد امداد آئے۔

ذیشان افتخار، مونٹریال، کینیڈا

میرا سوال یہ ہے کہ اگر صحافی ان علاقوں تک پہنچ سکتے ہیں تو پھر وہاں مقیم فوج کیوں نہیں پہنچ پا رہی؟ وہ مظفر آباد اور بالاکوٹ اور ان کے قریبی گاؤں تک کیوں نہیں پہنچ پا رہی؟ فوج کے اعلی کمان کو چاہیے کہ وہ اس سلسلے میں کوئی ایکشن لے اور امدادی سرگرمیوں میں تیزی لائے۔

جنید مسلم، رحیم یار خان، پاکستان

حکومت پاکستان بے حس ہے، اس کے لوگوں کو کوئی پرواہ نہیں کیونکہ ان کے اپنے نہیں مرتے۔ نا کوئی صدر کا مرا ہے اور نا ہی وزیر اعظم کا کوئی مرا ہے۔ یہ تو غریب عوام مری ہے۔ ان کو کیا احساس ؟

آیات حسین، اسلام آباد، پاکستان

میری درخواست ہے کہ لوگ اب متاثرین کی امداد کریں۔ اور سب سے یہ بھی خاص درخواست ہے کہ ان بچوں کی مدد کریں جو اب والدین اور رشتے داروں سے محروم ہیں۔

فہد خان، آسٹریلیا

جنرل صاحب نے فوج اور حکومت کے رسپانس کو انتہائی مناصب قرار دیا ہے۔ لیکن ان کو پتہ ہونا چاہیے کہ اسلام آباد ہی صرف پاکستان نہیں ہے۔ ان کو یہ بولنے سے پہلے سوچنا چاہیے تھا کہ کتنے معصوم بچے اور غریب لوگ بٹگرام اور کشمیر کے علاقوں میں ملبے کے نیچے دبے مر رہے ہیں۔ پہلی دفعہ زندگی میں مجھے پاکستانی ہونے پر شرم آ رہی ہے۔ اپنے ملک سے انتا دور رہ کے مجھ سے اپنے غریب ہم وطنوں کا دکھ دیکھا نہیں جا رہا جبکہ ان لوگوں کی حکومت صرف امیر لوگوں کو بچانے میں مصروف ہے۔ شیم، شیم۔

عاطف فیاض، پاکستان

حکومت اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کر رہی۔ حکومت متاثرین کی مدد صرف تب کر پائے گی جب وہ اپنے آپ کو عوام کا حصہ محسوس کرے ۔اور ہمارے بجٹ کا تقریباً پچھہتر فیصد حصہ فوج پر خرچ ہوتا ہے تو فوج کو جلد کارروائی کرنی چاہیے۔

عمران صوالح، پاکستان
بار بار یہ سننے میں آرہا ہے کہ فوج یہ امداد صرف چار ہیلی کاپٹروں کے سہارے فراہم کر رہی ہے۔ لیکن کیا فوج کے پاس کُل صرف چار ہیلی کاپٹر ہی ہیں؟ اور فوج کی ساری بٹیلین اور ساری کور اگر اپنے ہی ملک میں مدد کرنے کے لیے دو دن تک نہیں پہنچ سکی تو جنگ کے میدان میں ان کا کیا ہوگا؟

پہلا نام
خاندانی نام*
پتا
ملک
ای میل
ٹیلی فون*
* اختیاری
آپ کی رائے
بی بی سی آپ کی آراء میں کاٹ چھانٹ کر سکتی ہے اور اس بات کی ضمانت نہیں دے سکتی کہ موصول ہونے والی تمام ای میل شائع کی جائیں گی۔
مظفرآْباد سے۔۔۔
چہروں پر خوف و ہراس، بےبسی، تباہی کے مناظر
66زندہ ہیں،کیسے نکالیں
زلزلے کی تباہی پر بی بی سی رپورٹروں کی ڈائری
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد