BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
آپ کی آواز
وقتِ اشاعت: Friday, 14 October, 2005, 10:15 GMT 15:15 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
زور بحالی کے کام پر: آپ کی رائے
زلزلے کی ایک زخمی عورت
زلزلے سے ہونے والی تباہی کے سات دن بعد پاکستانی حکام نے ملبے کے نیچے دبے ہوئے زندہ افراد کو نکالنے اور بچے ہوئے افراد کی بحالی کے کام کو مرحلہ وار کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اقوامِ متحدہ کے ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ اتنے طویل عرصے تک ملبے کے نیچے کسی بھی شخص کے زندہ بچنے کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہیں۔

آپ کے خیال میں اب ترجیحات کیا ہونی چاہئیں؟ یہ کیسے یقینی بنایا جائے کہ متاثرین کے لئے آنے والی امداد مستحق خاندانوں تک پہنچ جائے؟ اگر آپ ان علاقوں میں ہیں تو کیا آپ کے خیال میں امداد متاثرین تک پہنچ رہی ہے؟ کیا تباہی کے بڑے مراکز کے علاوہ چھوٹے قصبوں اور دیہاتوں تک امدادی کاروائیاں وسیع ہوئی ہیں؟


آپ اپنی رائے اردو، انگریزی یا roman urdu mein bhi bhej سکتے ہیں۔ اگر آپ اپنا پیغام موبائل فون سے ایس ایم ایس کے ذریعے بھیجنا چاہتے ہیں تو براہِ مہربانی اس کے آخر میں اپنا اور اپنے شہر کا نام لکھنا نہ بھولیے۔ ہمارا نمبر ہے:00447786202200

آپ کی رائے

سید ابرار حسین، کویت:
ویل، میں سمجھتا ہوں کہ موسم اتنے خراب ہیں کہ وہاں سامان بھیجنے کے بجائے لوگوں کو وہاں سے نکالا جائے اور پنجاب اور سرحد کے شہروں میں اگلے چھ مہینوں کے لئے رکھا جائے۔ اس طرح امداد میں مدد پہنچے گی۔

احمد علی کمبھار، یونیورسٹی آف سندھ:
کافی افسوس کی بات ہے کہ ہماری پاکستانی حکومت ضرورت مندوں تک پہنچنے میں ناکام ہوئی ہے۔ اگر ان تک پہنچنے میں وقت پر کامیابی ہوتی تو کافی جانیں بچ سکتی تھیں۔ ہمارے ملک کی ویلفیئر تنظیموں اور بالخصوص مذہبی جماعتوں نے اچھا کام کیا ہے۔

آصف میاں، لاہور:
سِول سوسائٹی مفلوج ہوگئی ہے اور ریڈ کراس کی مدد سے گرل گائیڈ اور سوِل ڈیفنس کی ضرورت ہے۔ اس کا فائدہ مستقبل میں بھی ہوگا۔ خواتین پارا میڈیکل کو بھی بھیجنے کی ضرورت ہے۔

سہیل احمد، سکر:
ہمیں ترجیحی طور پر زخمیوں کو مدد کرنے کی ضرورت ہے، پھر انہیں عارضی رہائش فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔ اس کے بعد ہمیں کیمیکل کا استعمال کرنا چاہئے تاکہ بیماری پھیلنے سے روکا جاسکے۔ جو لوگ زخمی ہیں یا کمزور ہیں وہ لاشوں سے پھیلنے والی بیماری سے متاثر ہوسکتے ہیں۔ ہمیں انہیں تحفظ فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔

واصف پیرزادہ، بروکلین، امریکہ:
جو ہوگیا سو ہوگیا، اب آگے کی صحیح پلاننگ کیجئے۔ پہلے تو لوگوں کی مرہم پٹی اور عارضی رہائش اور پھر ان کا کھانا پینا، اس کے بعد ایک ایسی پلانڈ کالونی اور بازار کی تعمیر کی جائے جس میں زلزلے سے بچنے کی مزاحمت ہو۔

فہد رسول عبدالحمید، پاکستان:
امدادی کارروائیاں تیز کردیں اور لاوارث بچوں کی دیکھ بھال کریں۔

آصف مصطفائی، چیچاوطنی، پاکستان:
امداد کی تقسیم کا طریقہ کار منظم ہونا چاہئے، اخبارات میں امدادی ٹرکوں کے پیچھے عوام کا ہجوم اور چھینا چھپٹی اچھا طریقہ کار نہیں ہے۔ مستحق لوگوں کو منظر طریقے سے عزت نفس کو قائم رکھتے ہوئے امداد دیں تاکہ کوئی مستحق رہ نہ جائے۔ لیڈیز بھی بھاگی پھرتی ہیں جن کے مرد وفات پاچکے ہیں۔

اشتیاق خان، سلاؤ، لندن:
میرے خیال میں لوگوں کو کشمیر سے باہر تو نکالنا مشکل ہے، اب یہ ضرور کرنا چاہئے کہ اور ادھر کیمپ میں منتقل کرنا چاہئے، میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ بڑے گراؤنڈ میں کیمپ لگانے چاہئیں اور علاقے کو خالی کرواکر ادھر کام کرنا چاہئے کیوں کہ میں باغ کا ہوں اور مجھے پتہ ہے کہ لوگوں کو امداد پہنچانا بہت مشکل ہے۔

زاہد محمود، گوجرا سنگھ:
سب سے پہلے تو امداد کا درست استعمال ہونا چاہئے۔ جو لوگ زندہ بچ گئے ہیں ان کی رہائش کا سردی سے بچاؤ کا اور کھانے کا بندوبست ہو۔ امداد ضرورت مند انسان تک پہنچنا چاہئے، صرف بڑے شہروں تک نہیں۔

ناظم شیخ، ممبئی:
نیو ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جائے۔ سب سے پہلے تو نیک اور بھروسے مند پروفیشنل لو لیپ ٹاپ اور موبائل کیمرے کے ساتھ پانچ ساتھیوں کا ایک ایک گروپ بنواکر سارے متاثرہ علاقوں میں بھیجا جائے اور وہ انفارمیشن جمع کریں۔ پھر سینٹرل سیسٹم سے سارے معاملات کو آسان بنایا جاسکتا ہے۔

سجاد رضوی، امریکہ:
سب سے پہلے تو زخمیوں کی مدد کی جانی چاہئے۔ پھر جن کے پاس کوئی پناہ نہیں بچی ان کے لئے عارضی رہائش کا انتظام ہونا چاہئے۔ مبہ ہٹا کے ہلاک ہوجانے والوں کی فوری تدفین کی جائے تاہم پہلی ترجیح ان زخمیوں کو ہی دی جانی چاہئے جو انتہائی برے موسم کی زد میں کھلے آسمان کے نیچے پڑے ہیں۔

اکبر علی، سوات:
کیا دنیا کو معلوم ہے کہ فوج اور حکومت اڑتالیس گھنٹوں تک لوگوں تک نہیں پہنچے؟ لوگوں کو جلد از جلد وہاں سے منتقل کیا جانا چاہئے۔

محمد ابرار احمد، بارسلونا:
پاکستان میں جو کچھ ہو وہ کسی کے اختیار میں نہیں تھا۔ یہ قدرتی آفت تھی اور اس کے سامنے کسی کا کوئی زور نہیں۔ پاکستان کو اب پوری دنیا سے امداد مل رہی ہے اور اس امداد کو جتنی جلدی ہوسکے مستحقین تک پہنچایا جایا۔ حکومت کو اصل متاثرین تک امداد پہنچانے کے لئے کمیٹیاں بنانی چاہئیں جن کا کنٹرول خود وزیرِ اعظم کے پاس ہونا چاہیے۔

شاہدہ اکرام، متحدہ عرب امارات:
ایک ہفتہ گزرجانے کے باوجود، اس صدمے اور شاک کی شدت کم ہونے میں نہیں ارہی جس سے ہم گزرے ہیں۔ پہلی ترجیح تو بہرحال زندہ رہ جانے والوں کی بحالیِ صحت ہے۔ دوسرا بڑا مرحلہ سر پر چھت فراہم کرنا ہے مستقل گھر نہ سہی کم از کم خیمے تو فوراً فراہم ہو ہی سکتے ہیں۔ پوری قوم نے اس وقت جس ہمت اور حوصلے سے کام لیا ہے، یہ جذبہ قابلِ قدر ہے۔

فراز قریشی، کراچی:
جو زخمی ہیں، انہیں مرنے سے بچائیے اور لاوارث بچوں کے بارے میں فوراً کوئی پالیسی بنایئے۔ یہ بچے ہمارے بچوں کی طرح ہیں۔

اکبر علی، سوات:
میڈیا سے یہ پتہ چل رہا ہے کہ بہت سے علاقے ایسے ہیں جہاں ابھی تک امداد پہنچ ہی نہیں پائی ہے۔ مرنے والوں کو واپس تو نہیں لایا جا سکتا لیکن جو بچ گئے ہیں، انہیں بچانے کی طرف تو حکومت کچھ توجہ دے سکتی ہے۔

عامر تاج، یو اے ای:
متاثرین کی بحالی وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ان علاقوں میں موسم کی شدت بہت زیادہ ہوتی ہے اس لئے خیمے اور کمبل فوراً مہیا کرنے ہوں گے۔ اس کے علاوہ امداد کی تقسیم کو انتہائی شفاف بنانا ہوگا۔

اپنی رائے بھیجیں
پہلا نام
خاندانی نام*
پتا
ملک
ای میل
ٹیلی فون*
* اختیاری
آپ کی رائے
بی بی سی آپ کی آراء میں کاٹ چھانٹ کر سکتی ہے اور اس بات کی ضمانت نہیں دے سکتی کہ موصول ہونے والی تمام ای میل شائع کی جائیں گی۔
66زلزلے پر آپکی رائے
امدادی کارروائیوں کی رفتار پر آپکا ردًِ عمل
66زلزلے کے بعد
اگر آپ مدد کرنا چاہیں۔۔۔
66یہاں کوئی نہیں آیا؟
زلزلہ: دیہاتوں کا کیا حال ہے؟ عینی شاہدین
66ہنگامی امدادی نمبر
اہم معلومات کے لیے ان نمبروں پر فون کریں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد