بھارتی امداد کی تیسری کھیپ روانہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
زلزلے سے متاثرہ افراد کے لیے امدادی سامان کی تیسری کھیپ ہندوستان سے پاکستان روانہ کردی گئی ہے۔ اس کھیپ میں مجموعی طور پر تقریباً 182 ٹن سامان بھیجا گیا ہے۔ اس امدادی سامان میں کمبل، خیمے، پلاسٹک شیٹس، دوائيں اور بسکٹ سمجھوتہ ایکسپریس کے ذریعے روانہ کیےگئے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق امدادی سامان پیر کی شام تک امرتسر پہنچ جائے گا اور وہاں سے اٹاری۔واہگہ بارڈر کے راستے اسے لاہور روانہ کیا جائے گا۔ اس سے پہلے بھی ہندوستان امدادی سامان کی دو کھیپ پاکستان بھیج چکا ہے۔ اس دوران کنٹرول لائن کے اس طرف ہندوستان کے زیرِانتظام کشمیر میں شدید بارش اور برفباری کے سبب امدادی کارروائی میں کافی دقت پیش آرہی ہے۔ چٹانیں کھسکنے کی وجہ سے زلزلے سے سب سے زیادہ متاثرہ علاقوں اڑی اور ٹنگڈار تک پہنچنے کے لیے راستے بند ہو چکے ہیں۔ فوج کے ترجمان کے مطابق بھاری بارش کے سبب ہیلی کاپٹر پرواز نہیں کر پا رہے ہیں جس سے امدادی سامان گرانے میں تاخیر ہو رہی ہے۔ پورے خطے میں رات سے ہی بھاری بارش کی وجہ سے سڑکوں پر پانی بھرا گیا ہے اور امدادی سامان سے لدے ہوئے ٹرک آگے نہیں جا پا رہے ہیں۔ پیر کو بھی اس خطے میں زلزلے کا ایک بڑا جھٹکا محسوس کیا گیا تھا جس کی شدت 4.5 تھی تاہم فوری طور پر کسی نقصان کی اطلاع نہیں مل سکی ہے۔ زلزلے سے کشمیر کے اس خطے میں کم از کم ڈیڑھ لاکھ لوگ بے گھر ہوئے ہیں۔ اور خیموں کی شدید کمی کی وجہ سے وہ بارش اور زبردست سردی میں کھلے آسمان کے نیچے انتہائی مشکل حالات میں زندگی گزار وہے ہیں۔ متاثرین میں بوڑھوں اور بچوں کی حالت کافی نازک ہے اور ماہرین نے متنبہ کیا ہے کہ اگر خیموں کا جلد ہی انتظام نہیں کیا گیا تو سردی ، بارش اور بیماری سے بڑی تعداد میں لوگ ہلاک ہو سکتے ہيں ۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||