زلزلہ: امدادی پیکج کا اعلان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارتی حکام نے اعلان کیا ہے کہ آٹھ اکتوبر کو بھارت کے زیرِانتظام کشمیر میں آنے والے زلزلے سے متاثر ہونے والے ہر خاندان کو گھروں کی تعمیر کے لیے ایک لاکھ روپے امداد دی جائے گی۔ اس رقم میں سے ایک ہزار امریکی ڈالر کے مساوی رقم ہر خاندان کوفوری طور پر فراہم کر دی جائے گی۔ بھارت کے زیرِانتظام کشمیر میں زلزلے سے 1400 افراد ہلاک ہوئے ہیں جبکہ زخمیوں کی تعداد 5000 سے زیادہ ہے۔ اس زلزلے سے ڈیڑھ لاکھ کے قریب افراد بے گھر بھی ہوگئے ہیں۔ بھارت کے پارلیمانی امور کے وزیر غلام نبی آزاد کا کہنا ہے کہ جموں و کشمیر کے علاقے میں بیس کمیونٹی ہال تعمیرکیے جائیں گے جن میں سے ہر ایک میں تین ہزار افراد کے رہنے کی گنجائش ہوگی۔ جمعرات کو بھارتی وزیرِاعظم منموہن سنگھ نے بھی بھارتی عوام سے اپیل کی تھی کہ وہ زلزلہ زدگان کی امداد کے لیے دل کھول کر چندہ دیں۔ جمعہ کو بھارت اور اس کے زیرِ انتظام کشمیر میں زلزلے میں مرنے والے افراد کے لیے نمازِ جمعہ کے بعد خصوصی دعا کی جائےگی۔ ایل او سی پر واقع اڑی جیسے متاثرہ علاقوں میں امداد پہنچنا شروع ہو گئی ہے تاہم ابھی بھی تنگدھار وادی کے بہت سے دیہات امداد سے محروم ہیں۔ سینیئر پولیس افسر سنیل دت کے مطابق ' تنگدھار میں کچھ امداد پہنچی ہے جسے متاثرین نے لوٹ لیا'۔ ادھر خبر رساں ادارے اے ایف پی کا کہنا ہے کہ پولیس نےانیس افراد کو زلزلہ زدگان کی مدد کے لیے چندہ جمع کرتے ہوئے گرفتار کر لیا۔ ایک پولیس افسر نے اے ایف پی کو بتایا کہ 'ان میں سے کچھ افراد کشمیر سے تعلق بھی نہیں رکھتے اور یہاں صرف لوگوں کے جذبات سے کھیل کر پیسے جمع کرنے کے لیے آئے تھے'۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||