زلزلہ قومی آفت ہے:منموہن سنگھ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کے وزير اعظم منموہن سنگھ نے ہندوستان کے زير انتظام کشمیر میں زلزلے کی تباہی کو قومی آفت قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ پورا ہندوستان اس مشکل گھڑی میں متاثرہ کشمیریوں کے ساتھ ہے۔ مسٹر سنگھ نے نامہ نگاروں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ سنیچر کے زلزلے میں تیرہ سو ہلاکتوں کی تصدیق ہو چکی ہے اور اس تعداد میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے ۔ اڑی اور تنگدھار کے متاثرہ علاقوں کا دوہ کرنے کے بعد مسٹر سنگھ نے آباد کاری کے لیے مزید پانچ ارب روپے کی امداد کا اعلان کیا ہے اور کہا ہے کہ متاثرہ لوگوں کو دوبارہ بسانے میں پیسے کی کمی کو حائل نہیں ہونے دیا جائےگا۔ ’ ہم متاثرہ لوگوں خاص طور سے بوڑھوں، بیواؤں اور یتیم بچوں کی مدد کے لیے ہر ممکن قدم اٹھائيں گے۔‘ حکومت اس سے پہلے بھی ایک ارب روپے کی امداد کا اعلان کر چکی ہے۔ وزير اعظم نے یہ بھی کہا ہے کہ اس مشکل اور مصیبت کی گھڑی میں حکومت نہ صرف جموں کشمیر بلکہ کنٹرول لائن کے اس پار بھی متاثرہ لوگوں کی مدد کرنا چاہتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ’زلزلے کے بعد انہوں نے پاکستان کے صدر پرویز مشرف سے ٹیلیفون سے بات کی اور بعد میں ان کی پاکستان کے ہائی کمشنر عزیزاحمد خان سے بھی ملاقات ہوئی‘۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک ایسا سانحہ ہے جس کا مقابلہ دونوں ملک مل کر رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان میں بہت بڑے پیمانے پر تباہی ہو ئی ہے اور ’ہم ان حالات سے نمٹنے میں پاکستان کی ہر طرح سے مدد کرنے کے خواہاں ہیں‘۔ ایک سوال کے جواب میں کہ کیا ہندوستان اور پاکستان کوئی مشترکہ امدادی کاروائی پر غور کر رہے ہیں تو انہوں نے کہا کہ اس سلسلے ميں پاکستان کے جذبات اور احساسات کا خیال رکھنا ہوگا۔ ’اگر انہوں نے اس سے اتفاق کیا تو ہم اس کا مثبت جواب دیں گے‘۔ وزير اعظم نے کہا کہ جانی نقصان سبھی کے لیے افسوس کی بات ہے اور اس سانحے کے وقت کسی کو بھی کوئی سیاسی فائدہ اٹھانے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ امدادی سامان متاثرہ لوگوں تک نہیں پہنچ رہا ہے تو انہوں نے کہا کہ کھانے پینے کا سامان، خیموں اورگرم کپڑے فوری طور پر متاثرہ لوگوں تک پہنچانے کی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||