پہاڑی ڈھلانوں پر زلزلے کا قہر | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر کے قصبے تنگدار اور اس کے نواح میں ہفتے کو آنے والے زلزلے سے تین سو پچاس سے زیادہ افراد ہلاک ہو گئے۔ بلند پہاڑی سلسلوں میں واقع اس علاقے کے متعدد دیہات تک ابھی امداد نہیں پہنچ سکی ہے اور خدشہ ہے کہ اموات کی تعداد میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ تنگدار میں آنے والی تباہی نے اس علاقے کے حُسن کو گہنا دیا ہے۔ پہاڑی ڈھلانوں پر ہونے والی تباہی سے ہی اس زلزلے کے تباہ کاریوں کا اندازہ کیا جا سکتا ہے۔ علاقے کی سڑکوں پرگڑھے پڑ چکے ہیں اور جگہ جگہ پر بجلی کے کھمبے اکھڑ کر نیچے آ گرے ہیں۔ پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر سے صرف پندرہ کلومیٹر کے فاصلے پر واقع تنگدار کا قصبہ اس قدرتی تباہی کا بری طرح نشانہ بنا ہے۔ اس قصبے میں ایک بھی گھر باقی نہیں بچا ہے۔ کوئی بھی عمارت چاہے وہ کنکریٹ سے بنی ہو یا اینٹوں اور مٹی سے زلزلے کے جھٹکوں کا مقابلہ نہیں کر سکی ہے۔ مصیبت کے مارے لوگوں نے نہ صرف اپنا گھر بار کھویا ہے بلکہ اس زلزلے نے ان سے ان کے خاندان والوں کو بھی چھین لیا ہے اور وہ اپنا غصہ انتظامیہ پر نکال رہے ہیں۔ کچھ علاقوں میں لوگوں نے خوراک اور پانی لانے والی گاڑیوں پر قبضہ کر لیا ہے۔ زلزلے سے متاثرہ افراد کو جائے پناہ، خوراک اور گرم کپڑوں کی ضرورت ہے اور علاقے میں امداد کا کوئی پتہ نہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||