ممنوعہ علاقے میں پروازوں کی اجازت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کا کہنا ہے کہ زلزلے سے متاثرہ افراد کی امداد کے لیے وہ پاکستان کے ہیلی کاپٹروں کو لائن آف کنٹرول کے پاس ممنوعہ علاقوں میں پرواز کی اجازت دے سکتا ہے لیکن ہر پرواز سے قبل اسے اجازت لینی ہوگی۔ لائن آف کنٹرول کے آس پاس ایک کلو میٹر کا علاقہ '' نوفلائی زون'' یعنی پرواز کے لیے ممنوعہ علاقہ کہلاتا ہے۔ نئی دلی میں وزارت خارجہ کے ایک ترجمان نے بتایا کہ ممنوعہ علاقوں میں پرواز کے لیے جمعرات کے روز اسلام آباد کی طرف سے ایک درخواست موصول ہوئی تھی اور اس سلسلے میں پاکستان سے یہ کہا گيا ہے کہ امن کے ماحول میں بھارت اس سے متفق ہے لیکن ہر پرواز کے لیے اسے اجازت لینا ضروری ہے۔ تاہم ترجمان کا یہ بھی کہنا تھا کہ پرواز کے لیے پاکستان کی طرف سے ابھی تک کوئی درخواست نہیں ملی ہے۔ انکا کہنا تھا کہ بعض اخبارات میں اس طرح کی خبریں شائع ہوئی ہیں کہ ہندوستان نے اجازت نہیں دی ہے لیکن یہ سچ نہیں ہے۔ ادھر دلی میں وزارت داخلہ کے ایک افسر نے بتایا ہے کہ وادی کشمیر میں تقریباً پینتیس ہزار افراد بے گھر ہوئے ہیں۔ بہت سی غیر سرکاری تنظیمیں آباد کاری کے کاموں میں مصروف ہیں لیکن تعداد اتنی زیادہ ہے کہ متاثرہ افراد کو فوری طرف پر پناہ دینے کے لیے ٹینٹ فراہم کرنا انتظامیہ کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔ انکا کہنا تھا کہ ٹینٹ عام طور پر دستیاب نہیں ہیں لیکن اسے جلد ہی مہیا کیا جائیگا۔ حکام کا کہنا ہے کہ زلزلے سے تقریباً دو سوگاؤں متاثر ہوئے ہیں اور زیادہ تر دیہاتوں تک فوجی عملہ یا دیگر افسران پہنچ چکے ہیں لیکن تقریباً نو گاؤں اب بھی ایسے ہیں جہاں تک رسائی نہیں ہو پائی ہے۔ اس کے بر عکس گزشتہ جمعرات کے روز ایک فوجی افسر نے بتایا تھا کہ کھانے پینے کا سامان سبھی متاثرہ گاؤں تک پہنچا دیا گيا ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||