'مکئی کے دانے کھا کر گزار کیا' | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کی فوج اتوار کو بالا کوٹ کے قریب جس 'نو سالہ' لڑکے کے اپنے تین بہن بھائیوں کی بچانے کی کہانی بتائی تھی وہ در اصل اٹھارہ سالہ محمد عالم تھا جس نے ماں باپ کے مرنے کے بعد اپنے تین بہن بھائیوں کی نو روز تک دیکھ بھال کی۔ محمد عالم نےجو بالا کوٹ کے فوجی کیمپ میں اپنے تین بہن بھائیوں کی دیکھ بھال کر رہا ہے، نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ جس وقت زلزلہ آیا اس وقت وہ بالا کوٹ میں تھا جہاں وہ ایک گاڑی کے ساتھ کنڈیکٹر کے طور پر کام کرتا تھا۔ محمدعالم نے بتایا کہ زلزلے کے بعد بالا کوٹ سے اپنےگاؤں ڈبری پیدل چل کر پہنچا تو پتہ چلا کہ اس کے ماں باپ مر چکے ہیں۔اس نے بتایا کہ پولیو سے متاثرہ بہن ملبے کے نیچے پھنسی ہوئی تھی اس کو نکالا، اور ماں باپ جو ہلاک ہو چکے تھے ان کو دوسرے روز دفنایا۔ اس نے بتایا کہ اپنے گاؤں کے قریب سانگھر آ گئے جہاں انہوں نے چار دن کھلے آسمان کے نیچے گزارے۔ محمد عالم نے بتایا کہ اس دوران انہوں نے مکئی کے دانے کھا کر گزارا کیا۔ اپنی چھوٹی بہن جس کی عمر ایک سال چار مہینے ہے، کو اپنے قمیض کے نیچے رکھ کر سردی سے بچاتا تھا۔ اس نے کہا کہ کوئی دودھ دے دیتا تو وہ اپنی بہن کو پلا لیتا تھا۔ محمد عالم نے بتایا کہ جمعہ کو وہ اپنی پولیو زدہ بہن کو پڑوسیوں کے پاس چھوڑ کی بالا کوٹ کی طرف چل پڑا اور سات گھنٹے کا سفر کے بالا کوٹ کے فوجی کیمپ تک پہنچا۔ اس نے کہا کہ جب اس نے فوجیوں کو اپنے بہن کو بچانے کے لیے کہا تو انہوں نے کہا بارش ہو رہی ہے اور ہیلی کاپٹر بھی نہیں ہے۔ دوسرے روز انہوں نے اسے خچر دیئے اور وہ اپنے بہن کویہاں لے آیا۔ محمد عالم جو خود بھی زخمی ہے ، نے بتایا کہ اس کی کمر سے نیچے کے حصے میں شدید تکلیف شروع ہو گئی ہے اور جب وہ چلتا ہے تو گر جاتا ہے۔ محمد عالم نے اپنے مستقبل کے بارے میں بتایا جب تک فوجیوں نے رکھا یہاں فوجی کیمپ میں رہیں گے اور پھر گاؤں اپنے جا کر زندگی گزارنے کی کوشش کریں گے۔ اپنے چھوٹی بہن کے بارے میں انہوں نے کہا کہ انشااللہ اس کو پال لیں گے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||