رمضان میں متاثرین کو کِھلانا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان اور بھارت میں ہولناک زلزلے سے کم سے کم 38000 افراد ہلاک اور دس لاکھ گھر تباہ ہو گئے ہیں۔ اوون بینٹ جونز نے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے ایک سب سے زیادہ متاثر ہونے والے علاقے کا دورہ کیا اور متاثرین سے پو چھا کہ وہ اس سانحے کا مقابلہ کیسے کر رہے ہیں۔ مندرا حسین باغ پہچنے کے لیے چالیس کلومیٹر کا پیدل سفر کر چکے تھا۔ وہ قدرے بوڑھا آدمی ہے اور اس کی سفید لمبی داڑھی ہے۔ چہرے پر گہری شکنیں اور بدن پر صرف ایک خاک آلودہ شلوار قمیض۔ اور وہ اپنے ساتھ بری خبر لایا تھا۔ اس کا گاؤں مسمار ہو چکا تھا، سخت برفباری ہو چکی تھی اور بچے بیمار ہونا شروع ہو چکے تھے۔ وہ چالیس کلومیٹر کا سفر کر کے یہ بتانے آیا تھا کہ اس کے گاؤں میں حالات بہت خراب ہیں۔ گاؤں سے نکلنے سے پہلے اس نے اچھی تیاری کر لی تھی۔ جامنی رنگ کی ایک کاپی کے چند صفحات پر اس نے وہ سب کچھ لکھ رکھا تھا جو اس کے گاؤں میں ہوا۔ اس کا خیال تھا کہ وہ یہ صفحات کسی فوجی اہلکار یا پریس کے کسی فرد کو دے گا تا کہ اس کے گاؤں میں امداد پہنچ سکے۔ مگر اسے کچھ زیادہ کامیابی نہیں ہو سکی۔ کوئی شخص بھی اًن صفحات پر لکھی ہوئی تفصیلات جاننے کے لیے بے چین نہیں تھا۔ اگرچہ وہ ایک بریگیڈئر سےملنے اور اپنے گاؤں کی کہانی سنانے میں کامیاب ہو گیا لیکن کچھ بات نہ بنی کیونکہ اس جیسے کئی دوسرے دیہاتی بھی بریگیڈئر کو ایسی ہی دردناک کہانیاں سنا چکے تھے۔ بریگیڈئر نے اس شخص کے ساتھ کچھ مبہم سے وعدے وعید کیے، اس کے گاؤں کی حالت پر اظہار ہمدردی کیا اور آم کے جوس کے دو چھوٹے کارٹن بھی دیے۔ اس کے باوجود کہ مندرا حسین پر ایک قیامت گزر چکی تھی، مجھے وہ اب بھی ایک نہایت نیک شخص لگا۔ ریکٹر سکیل پر زلزلے کے جھٹکے کی شدت سات اعشاریہ چھ تھی لیکن یہ جھٹکے مندرا حسین کے ایمان کو نہ ہلا سکے۔ اس نے مجھ سے بات کرتے ہوئے کہا: لیکن ایک دوسرا شخص جسے باغ پہنچایا گیا تھا وہ بالکل مختلف قسم کا پاکستانی تھا۔ دھاری دار ٹی شرٹ، سلیٹی رنگ کی پتلون پہنے اور برطانوی لوگوں سے کہیں بہتر انگریزی گرائمر کی سمجھ رکھنے والا محمد مصطفٰے اپنی کار میں باغ پہنچا تھا۔ اپنی تراش خراش میں وہ خاصا مغربی آدمی تھا۔ وہ اسلام آباد میں مقیم ہے جہاں اس کے افسر نے اسے باغ جا کر متاثرین کی مدد کرنے کو کہا تھا۔ وہ یہ کام خوب سلیقے سے سرانجام دے رہا تھا۔ اس نے ایک کھلی جگہ پر کھانا پکانے کا انتظام کر دیا تھا جہاں سے روزانہ بارہ سو متاثرین کو کھانا مل رہا تھا۔ مصطفٰے کا خیال تھا کہ ان حالات میں کھانا مہیا کرنا سب سے بہتر مدد ہو سکتی تھی۔ صاف ظاہر ہے کہ لوگ بھوکے تھے اور مصطفٰے ان کو کھانا بہم پہنچا رہا تھا۔ وہ ایک پاکستانی اور مسلمان ہونے کے ناطے اپنی ذمہ داری پوری کر رہا تھا۔ پاکستانیوں میں فلاحی کاموں کا رواج بہت زیادہ ہے۔ امیر بلکہ وہ لوگ بھی کہ جن کے پاس صرف گزر بسر کا سامان ہوتا ہے اکثر اًن کی مدد مرتے ہیں جن کے پاس اًن سے کم ہوتا ہے۔ لیکن یہ رمضان کا مہینہ ہے جب مسلمان طلوع آفتاب سے غروب آفتاب تک روزہ رکھتے ہیں۔ یہی وہ بات تھی جس کی وجہ سے محمد مصطفٰے کو خاصی مصیبت اٹھانا پڑی۔ روزانہ بارہ سو افراد کو کھلانے کا مطلب یہ ہے کہ کھانا بنانے کی تیاری وقت سے پہلے شروع کرنا پڑتی ہے۔ آپ کو آگ جلانے، گوشت پکانے اور چاول ابالنے کے لیے کئی گھنٹے درکار ہوتے ہیں۔ آپ کو یہ کام افطار سے بہت پہلے شروع کرنا پڑتا ہے۔
'تم کیا کر رہے ہو؟ تمیں پتا نہیں کہ رمضان ہے؟ تم کھانا دن کے وقت نہیں پکا سکتے۔ یہ اسلام کے خلاف ہے۔ یہ کام بند کرو ورنہ میں تمہارے ٹینٹ اور برتن اٹھا کر پھینک دوں گا۔' یہ واقعہ پاکستان میں دو مختلف قسم کی سوچ رکھنے والوں کا جھگڑا تھا۔ ایک طرف قدرے سیکولر، متوسط شہری طبقے کی سوچ تھی جبکہ دوسری طرف شدید مذہبی لوگ جن کا خیال یہ ہے کہ چونکہ پاکستان اسلام کے نام پر بنا تھا اس لیے حالات کچھ بھی ہوں اس ملک کے لوگوں کو اسلام پر عمل کرنا ہے۔ مصطفٰے نے مولوی صاحب سے بحث شروع کر دی۔' اگر لوگ بھوکے ہیں تو انہیں ضرور کھانا چاہیے؟ دیکھیں مولوی صاحب، لوگ بھوک سے مر رہے ہیں۔ ان کے پاس کچھ بھی نہیں ہے۔ انہیں کھانا تو دینے دیں۔ میں بھی مسلمان ہوں۔' وہ مخصوص پاکستانی انداز میں بحث کر رہے تھے۔ تاہم آخر میں وہ ایک تصفیے پر پہنچ گئے۔ 'اگر آپ کو دن میں پکانے کی مجبوری ہے تو آپ بے شک پکائیں۔ لیکن اگر کسی کو میں نے دن میں کھانا کھاتے دیکھا تو میں واپس آؤں گا اور اس جگہ کو آگ لگا دوں گا۔' مولوی صاحب نے دھمکی دی۔ یہ بحث اپنی جگہ لیکن حقیقت یہ کہ متاثرین کی اکثریت روزے رکھ رہی ہے۔ اپنے عارضی خیموں اور سر چھپانے کی دوسری جگہوں پر دبکے ہوئے وہ ذمہ داری کے ساتھ افق سے سورج کے نیچے جانے کا انتظار کرتے ہیں اور پھر امداد میں آئی ہوئی روٹی، کھجوریں یا دوسری اشیاء کی طرف ہاتھ بڑھاتے ہیں۔ میں نے باغ میں کئی لوگوں سے پوچھا کہ اًن کے خیال میں زلزلہ کیوں آیا ہےآ مجھے بار بار یہی جواب ملا کہ یہ اللہ تعالٰی کی مرضی ہے۔ ان کا کہنا تھا ' اللہ ہمیں ہمارے برے اعمال کی سزا دے رہا ہے۔'
'لیکن اللہ بچوں کو کیوں کر ماریں گے۔' میں نے پوچھا۔ 'ہمیں سبق سکھانے کے لیے، شاید ہم سبق سیکھیں اور اپنی زندگیوں میں بہتری لا سکیں' ایک مولوی صاحب نے مجھ بتایا۔ میں نے باغ میں ایک مقامی شخص کو بھی دیکھا جو واضح طور پر رمضان کا احترام نہیں کر رہا تھا۔ وہ دن دھاڑے بڑے مزے سے جوس پی رہا تھا اور ساتھ سگریٹ بھی۔ یہ نظارہ میرے لیے غیر معمولی تھا۔ ہم گپ شپ کرنے لگے تو میں نے اس سے پوچھا ' اس جگہ پرایسا کیوں ہوا۔' یہ آدمی وہ واحد شخص تھا جس نے مجھے وہ جواب دیا جو ہم جیسی اکثریت اس موقع پر سوچ سکتی ہے۔ وہ تھوڑا سا مسکرایا اور کہا 'میں تمہارے سوال کا جواب نہیں دے سکتا۔ میں تو یہی کہوں گا کہ زلزلے کا آنا ہماری بد قسمتی ہی ہو سکتی ہے۔' |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||