BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 19 October, 2005, 09:42 GMT 14:42 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
نفسیاتی امراض کا خطرہ

ذہنی صدمہ لوگ میں غصہ کے جذبات پیدا کرتا ہے
ذہنی صدمہ لوگ میں غصہ کے جذبات پیدا کرتا ہے
پاکستان کے ذہنی امراض کے ماہروں نے کہا ہے کہ کشمیر اور شمالی علاقہ جات کے زلزلے کے متاثرین کو جانی اور مالی نقصانات کے شدید ذہنی صدمے نے 'ٹروما' کی کیفیت میں مبتلا کر دیا ہے۔ اگر ان کو اس کیفیت سے نکالا نہیں گیا تو ان کی شخصیت تبدیل ہوسکتی ہے۔

پاکستان ایسوسی ایشن آف مینٹل ہیلتھ کے صدر پروفیسر ڈاکٹر ہارون احمد نے بی بی سی سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ اس طرح کے واقعات میں جسمانی طور پر پہنچنے والی چوٹوں کا تو علاج کیا جاتا ہے لیکن جو چوٹیں ذہنی طور پر آتی ہیں وہ بغیر علاج کے رہ جاتی ہیں۔ جس کی وجہ سے متاثرین نفسیاتی تکالیف کا شکار رہتے ہیں۔

پروفیسر ہارون کے مطابق اس نفسیات کیفیت کے تین درجے ہوتے ہیں۔ پہلے درجے میں ہیجانی کیفیت عام ہوتی ہے۔ اس مرحلے کے کچھ دنوں بعد دوسرا درجہ شروع ہوتا ہے جس میں انسان ماحول کا جائزہ لیتا ہے کہ کیا ہو ا ہے اور کیوں ہوا ہے۔ تیسرے میں درجے میں انسان فرار ہونے کی کوشش کرتا ہے۔ اس صورتحال میں کچھ لوگ خوفزدہ ہوجاتے ہیں۔

ایسے سانحے کے بعد کیا ہوتا ہے
 'ایسے سانحات کے بعد بچوں میں بڑی تبدیلی آتی ہے۔ ان کے باہمی تعلقات وہ نہیں رہتے جو کہ معاشرے میں عام ہوتے ہیں۔ بعض لوگ اپنے میں گم ہوجاتے ہیں یا خاموش ہوجاتے ہیں۔ کچھ عبادت میں مصروف ہوجاتے ہیں۔ لیکن کچھ نوجوان بڑے ہوکر جذباتی، شدت پسند اور غصے کے تیز ہوتے ہیں۔ ایسے ہی لوگ ایسی تنظیموں میں شامل ہوجاتے ہیں جو شدت پسند ہوتی ہیں'
نفسیاتی ماہرین

نفسیاتی ماہرین کے مطابق ایسے واقعات کے تین ہفتے بعد تک لوگ ڈپریشن اور ہیجانی کیفیت میں رہتے ہیں جس کی وجہ سے گھبراہٹ بے چینی، نیند نہ آنا، بار بار واقعہ کا خیال آناجیسی شکایت ہوتی ہیں۔

ڈاکٹر ہارون نے بتایا کہ یہ نفسیاتی ٹروما ہوتا ہے جو بہت دیرپا ہوتا ہے۔ کسی کی شخصیت تبدیل کرسکتا ہے۔ ایسی حالت میں انسان زندگی سے مایوس ہوجاتا ہے۔اپنے کام ، عزیز، رشتداروں، ذمہ داریوں سے لاتعلق اور مستبقل سے مایوس ہوجاتا ہے۔ اس کی شخصیت میں تبدیلی آجاتی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ایسے سانحات کے بعد بچوں میں بڑی تبدیلی آتی ہے۔ ان کے باہمی تعلقات وہ نہیں رہتے جو کہ معاشرے میں عام ہوتے ہیں۔ بعض لوگ اپنے میں گم ہوجاتے ہیں یا خاموش ہوجاتے ہیں۔ کچھ عبادت میں مصروف ہوجاتے ہیں۔ لیکن کچھ نوجوان بڑے ہوکر جذباتی، شدت پسند اور غصے کے تیز ہوتے ہیں۔ ایسے ہی لوگ ایسی تنظیموں میں شامل ہوجاتے ہیں جو شدت پسند ہوتی ہیں۔

بعض متاثرہ افراد اپنے میں گم ہوجاتے ہیں یا خاموش ہوجاتے ہیں

ڈاکٹر ہارون کے مطابق زلزلے کے متاثرین میں سے پچاس فیصد بچے پندرہ سال سے کم عمر کے ہیں۔ ابھی تو مہینہ دو مہینہ علاج معالجہ ہوگا ۔ جب ملکی اور غیر ملکی فوکس کم ہوگا۔ جس کے بعد وہ چوٹیں جو نظر نہیں آتی ظاہر ہوں گی۔

انہوں نے بتایا کہ جنہوں نے اپنے ماں، باپ، بہن بھائی کو اپنے سامنے مرتے دیکھا ہے، وہ تنہا ہوجاتے ہیں۔ جیسے لوگ قید تنہائی کی صورتحال میں ہوتے ہیں۔
ان سے کوئی دکھ بانٹنے والا نہیں ہوتا ہے۔'اس لیے ضروری ہوتا ہے کہ تین یا چار ہفتوں کے بعد ان لوگوں سے بات چیت کی جائے۔ ظاہر ہے کہ سارے لوگوں سے تو بات کرنا ممکن نہیں کیونکہ ہمارے پاس سائیکاٹرسٹ اور سائیکالاجسٹ کم ہیں۔'

اس میں کوشش یہ کرنی چاہیئے کہ کاؤنسلنگ کی جائے دس پندرہ لوگوں پر مشتمل ایک گروپ بنایا جائے۔ ایک کاؤنسلر ہو جو گفتگو شروع کرے اپنے واقعات بتائے۔ جس کے بعد متاثرہ افراد بتائیں کے ان کےساتھ کیا گزرا اس نے کیا دیکھا اور کن مشکلات سے گزرا۔ اس قسم کے گروپ ایک مرہم کا کام دینگے۔ یہ کام ایک وقت میں ممکن نہیں یہ سلسلے ایک سال تک جاری رکھنا چاہئیے۔
پاکستان میں نفسیاتی ماہروں کی تنظیم کے سربراہ کا کہنا تھا کہ ہمارے یہاں پر نفسیاتی مسائل ترجیحات میں شامل نہیں ہے۔ ظاہری معذوری ہوتی ہے تو لوگ اس پر فوری مدد کے لیے تیار ہوجاتے ہیں۔

انہوں نے کہا 'ہم رضاکاروں کا ایک گروپ بنا رہے ہیں جو زلزلہ زدگان کے پاس جاکر کاؤنسلنگ کریگا اور اور رضاکار تیار کریگا۔ ہم اس میں کتنے کامیاب ہونگے کچھ نہیں کہے سکتے۔'

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد