BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 18 October, 2005, 14:36 GMT 19:36 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پانچ لاکھ تک امداد پہنچی ہی نہیں
آنکھوں میں یاس، امداد کی آس

عالمی اداروں نے کہا ہے کہ امداد نہ ملنے کی وجہ سے زلزلے سے زخمی ہونے والے ہزاروں افراد کے سروں پرموت منڈلا رہی ہے جبکہ زلزلہ زدگان کی مدد کی عالمی اپیل پر صرف پانچ فیصد رقم جمع ہو سکی ہے۔

اقوامِ متحدہ کے مطابق پانچ لاکھ سے زیادہ متاثرین ایسے ہیں جنہیں کسی قسم کی کوئی امداد نہیں ملی ہے اور جوں جوں دن گزرنے سے موسم کی شدت میں اضافہ ہو رہا ہے، خدشہ ہے کہ مزید ہزاروں افراد ہلاک ہو جائیں گے۔

اقوامِ متحدہ اور عالمی اداروں کے کارکنوں کی جانب سے اس خدشے کا اظہار کیا گیا ہے کہ ہزاروں کی تعداد میں زخمی لوگ پہاڑوں پر ہیں یا وادیوں میں رہتے ہیں جہاں پہنچنا نہایت مشکل ہے۔

اقوامِ متحدہ کو کتنی امداد ملی؟
اقوامِ متحدہ نے پاکستان میں زلزلے سے متاثر ہونے والوں کی امداد کے لیے ایک ہفتہ قبل 270 ملین ڈالر کی اپیل کی تھی لیکن اب تک اسے صرف تیرہ ملین ڈالر ملے ہیں

ادارے نے یہ بھی کہا ہے پاکستان میں جاری امدادی کارروائی انتہائی مشکل آپریشن ہے جس کے لیے ضروری ہے کہ عالمی برادری فوری طور پروہ مالی امداد فراہم کرے جس کا اس نے وعدہ کیا ہے۔

اقوامِ متحدہ نے پاکستان میں زلزلے سے متاثر ہونے والوں کی امداد کے لیے ایک ہفتہ قبل 270 ملین ڈالر کی اپیل کی تھی لیکن اب تک اسے صرف تیرہ ملین ڈالر ملے ہیں۔

ادھر حکومتِ پاکستان نے متاثرہ افراد کو خیموں کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے ان کی ایکسپورٹ پر پابندی عائد کر دی ہے۔ حکومت نے کہا ہے کہ اسے ابھی بھی پانچ لاکھ خیموں کی ضرورت ہے۔

مظفر آباد سے ہمارے نامہ نگار نے بتایا ہے کہ شہر میں لوگوں کو امداد ملنا شروع ہوئی ہے لیکن امدادی کارروائیاں ناکافی ہیں۔ خاص طور سے دور دراز کے علاقوں تک فوج کی رسائی ہو سکی ہے اور نہ امدادی کارکنوں کی۔

علاقے میں منگل کو کچھ بینکوں کو کھول دیا گیا ہے اور انہیں ہدایت دی گئی ہے کہ وہ چھوٹے کھاتہ داروں اور تنخواہ دار طبقے کو فوری طور پر رقوم فراہم کریں تاکہ وہ اپنی ضروریات پوری کر سکیں۔

دو سال قبل ایران کے شہر بام میں آنے والے زلزے سے موازنہ کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے اہلکار کا کہنا ہے کہ ایران میں تباہی بڑے علاقے پر پھیلی ہوئی نہیں تھی اور اس کا ایک ہی مرکز تھا بام۔

سونامی سے متاثرہ علاقوں سے موازنہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کشمیر میں بلند و بالا پہاڑ ہیں جبکہ سونامی سے ساحلی علاقے متاثرہوئے تھے جو ہموار ہوتے ہیں اور نقل و حمل آسان ہوتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اور کشمیر کے جن علاقوں میں زلزلہ آیا وہاں دنیا کی گہری ترین کھائیاں اور بلند ترین برف پوش چوٹیاں ہیں۔

66مانسہرہ: نظر کھا گئی
شمالی علاقوں کے گیٹ وے مانسہرہ کی بد حالی
66امدادی پروازیں
امدادی کام میں ہیلی کاپٹروں کا استعمال
66متاثرین سے مہاجرین
امدادی کیمپ ہی اب بے گھروں کے گھر ہیں
66یہ کیسا نظام ہے؟
جو نہ زلزلہ جھیلتا ہے نہ امداد سنبھال پاتا ہے !
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد