BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 18 October, 2005, 11:37 GMT 16:37 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
'اگلے مرحلے میں کیا کیا گل کھلیں گے؟'

 امداد
کہیں تو پانچ پانچ دفعہ کمبل پہنچ رہے ہیں اور کسی کو ایک بھی دیکھنا نصیب نہیں ہورہا

عام طور پر کراچی سے صبح سات بجے جو پہلی پرواز پی کے تھری ہنڈرڈ کے نام سے اسلام آباد جاتی ہے اس میں اکثریت ایسے خوش لباس اور نسبتاً جوان مسافروں کی ہوتی ہے جو دن بھر اسلام آباد میں کوئی کاروباری یا سرکاری میٹنگ نمٹا کر شام کی پرواز سے کراچی لوٹ جاتی ہے۔

لیکن آج صبح اس پرواز کی بورڈنگ قطار میں ننانوے فیصد ایسے مسافر نظر آئے جو سوٹڈ بوٹڈ یا ملی جلی انگریزی اردو بھاشا بولنے والے نہیں تھے بلکہ ہندکو اور گوجری لہجے میں دہقانی انداز کی اردو بول رہے تھے یا پھر اس قطار میں ڈاکٹر، رضاکار یا این جی او ٹائپ حلیے کے خواتین و حضرات تھے۔

کسی کے پاس ہینڈ لگیج کے طور پر گتے کا ڈبہ تو کسی کے ہاتھ میں پلاسٹک میں بند پھولدار کمبل تو کسی نے کھلونوں سے بھرا شاپر پکڑا ہوا یا پھر ایسا چرمی بیگ جو زیادہ تر ڈاکٹرز یا میڈیکل سیلز ریپ کے ہاتھ میں نظر آتا ہے۔

ایک چھوٹے سے اٹیچی کیس پر مارکر سے درج تھا 'جدہ ٹو مانسہرہ براستہ کراچی'۔ ایک پر سرخ روشنائی سے لکھا تھا 'چکوٹی مظفر آباد ڈاکخانہ خاص'۔ایک بیگ پر بڑا سا سفید جھریوں زدہ کاغذ شائد گوند سے چپکایا گیا تھا اس پرسیاہ رنگ میں بڑا بڑا لکھا تھا'نذیر احمد کوہستان ڈسٹرکٹ'۔

سارا کام اندازوں سے کیوں؟
 'نادرہ کے پاس ان علاقوں کے مکینوں کا پورا ڈیٹا بیس موجود ہے لیکن نفسانفسی کی اس فضا میں اوپر سے نیچے تک ہر کوئی سارے تخمینے قیاس آرائیوں اور اندازوں سے لگا رہا ہے۔

بورڈنگ کے عمل کے دوران کاؤنٹر کے کنارے کھڑے پی آئی اے کے ایک صورت آشنا باوردی اہلکار نے سرگوشی کی 'آج زلزلہ آئے پورے دس روز ہوگئے لیکن صرف ہماری نہیں اسلام آباد جانے والی ہر ائرلائن کی پرواز اسی طرح کھچا کھچ جارہی ہے۔لگتا ہے جیسے پورا ملک شمال کی سمت بھاگ رہا ہے'۔

ان پروازوں پر سو میں سے اسی وہ مسافر ہیں جو کراچی یا خلیجی ممالک میں شمالی پاکستان سے آکر محنت مزدوری کر رہے ہیں۔ مگر اب وہ اپنے ان گھروں کی جانب دوڑ رہے ہیں جو شائد ہیں ہی نہیں اور ان گھروں میں موجود اپنے ان عزیزوں کی مدد کرنا چاہ رہے ہیں جن میں سے اکثر کو اب کوئی مدد نہیں چاہیے۔

طیارے میں مجھ سے اگلی قطار میں بیٹھے ہوئے دو خوش پوش مسافروں کی گفتگو نے اچانک میرے کانوں کو ریکارڈنگ مشین میں بدل دیا۔

'نادرہ (قومی شناختی کارڈ اور مشین ریڈایبل پاسپورٹ بنانے والا ادارہ) کے پاس ان علاقوں کے مکینوں کا پورا ڈیٹا بیس موجود ہے لیکن نفسانفسی کی اس فضا میں اوپر سے نیچے تک ہر کوئی سارے تخمینے قیاس آرائیوں اور اندازوں سے لگا رہا ہے۔ اسوقت کوئی یہ ریکارڈ مرتب کرنے کے بارے میں نہیں سوچ رہا کہ کس قصبے اور گاؤں میں کتنی آبادی تھی کتنے مکانات تھے۔جو مرگئے سو مرگئے۔ زخمی کہاں کہاں لے جائے جارہے ہیں۔ان کے زخموں کی نوعیت کیا ہے۔ کہیں بھی کاغذ پر کچھ نہیں لکھا جارہا۔اس کے سبب کہیں کہیں تو پانچ پانچ دفعہ کمبل پہنچ رہے ہیں اور کسی کو ایک بھی دیکھنا نصیب نہیں ہورہا۔ آپ دیکھیے گا کہ اگلے مرحلے میں املاک کے نقصانات کے سروے میں کیا کیا گل کھلیں گے۔ آپ دیکھ لینا کہ انیس سو سنتالیس کی طرح کئی چالاک اور بااثر لوگ جعلی کلیم داخل کریں گے اور جو واقعی مصیبت زدگان ہیں وہ اِدھر سے اُدھر گھومتے رہیں گے۔ منگلا اور تربیلا ڈیم کے متاثرین کی تعداد تو ہزاروں میں تھی انکی نسلیں معاوضے کے چکر میں بوڑھی ہو گئیں۔ ذرا سوچیے تیس سے چالیس لاکھ بے گھروں کا کیا ہوگا۔ اب آپ یہ دیکھیے کہ کسی مرکزی نظام کے نہ ہونے کے سبب ہر تنظیم اور سرکردہ شخص بینکوں میں ریلیف اکاؤنٹس کھلوا کر یا گلی گلی امدادی کیمپ لگا کر نقدی اور اشیا جمع کر رہے ہیں۔ان میں سے کئی ایسے ہیں جن کا کبھی کسی نے سماجی خدمت کے حوالے سے نام بھی نہیں سنا۔ یہ ریکارڈ کوئی بھی نہیں بنا پائے گا کہ جو کچھ متاثرین کے نام پر جمع ہورہا ہے اس میں سے کتنا متاثرین تک پہنچے گا۔ انیس سو تہتر میں آنے والے سیلاب اور انیس سو چوہتر میں بشام اورپتن میں آنے والے زلزلے کے بعد غیرملکی گھی کے کنستر، بسکٹ کے ڈبےاور سویڈن اور ناروے سے آنے والی ماچسیں کئی برس تک بازاروں میں فروخت ہوتی رہیں۔ کیا کسی نے کبھی کوئی آڈٹ رپورٹ مرتب کی۔

40 لاکھ بے گھروں کا کیا ہوگا؟
 آپ دیکھ لینا کہ انیس سو سنتالیس کی طرح کئی چالاک اور بااثر لوگ جعلی کلیم داخل کریں گے اور جو واقعی مصیبت زدگان ہیں وہ اِدھر سے اُدھر گھومتے رہیں گے۔ منگلا اور تربیلا ڈیم کے متاثرین کی تعداد تو ہزاروں میں تھی انکی نسلیں معاوضے کے چکر میں بوڑھی ہو گئیں۔ذرا سوچیے تیس سے چالیس لاکھ بے گھروں کا کیا ہوگا

میں چونکہ گذشتہ رات کا جاگا ہوا تھا اس لیے جانے کب مجھے جھپکی آگئی اور میں اپنے سے آگے بیٹھے ہوئے دونوں مسافروں کی مزید گفتگو نہ سن سکا۔

جب طیارے نے پونے دوگھنٹے بعد اسلام آباد ائرپورٹ پر لینڈ کیا تو اسے پارکنگ بے تک پہنچنے کے لیے بیس منٹ تک کھلے رن وے پر انتظار کرنا پڑا۔ طیارے کی کھڑکی سے میں نے دیکھا کہ گویا کوئی ٹیکسی اسٹینڈ ہے۔طیاروں کو ریورس گئیر لگا کر آگے پیچھے کیا جا رہا تھا تاکہ نئے جہازوں کے لیے جگہ بن سکے۔ رن وے کے اطراف امدادی سامان سے بھری ٹرالیاں دور تک کھڑی تھیں۔ان پر رکھے کچھ بنڈلوں کے منہ ادھڑے ہوئے تھے جن سے جرسیاں، کمبل اور پیکٹ باہر لٹک رہے تھے۔

میں طیارے کی سیڑھیاں اترتے ہوئے سوچ رہا تھا کہ یہ کس طرح کا نظام ہے جو نہ تو زلزلہ جھیل پایا اور نہ اب امداد کا دباؤ برداشت کرپارہا ہے۔

جب پشاور ائرپورٹ، جو اسلام آباد سے ڈھائی گھنٹے کے زمینی فاصلے پر ہے۔ لاہور کا علامہ اقبال ائرپورٹ ساڑھے چار گھنٹے اور فضائیہ کا سرگودھا ائربیس پانچ سے چھ گھنٹے کے فاصلے پر ہے تو کیا سارے امدادی طیاروں کو صرف اسلام آباد ائرپورٹ پر اتارنا بہت ضروری تھا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد