لاوارث بچےحکومت کی ذمہ داری | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
دس روز قبل آنے والے تباہ کن زلزلے سے سب سے زیادہ بچے متاثر ہوئے ہیں۔ جہاں ہزاروں کی تعداد میں بچے اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں وہیں ان کی ایک بڑی تعداد زخمی ہے یا معذور ہو چکی ہے۔ ان بچوں میں سے بہت سے اپنے خاندنوں والوں سے محروم ہو چکے ہیں اور اب ان کا اس دنیا میں کوئی نہیں۔ بی بی سی کے نمائندے جعفر رضوی نے پاکستانی وزیرِاعظم کی مشیر برائے امورِ خواتین محترمہ نیلوفر بختیار سے ان بچوں کی بحالی کے موضوع پر بات کی تو ان کا کہنا تھا : حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ جو بھی بچے لاوارث ہو گئے ہیں ان کو بسانے کے لیے حکومت خود اقدامات کرے گی۔ یہ ہماری ذمہ داری ہے جسے ہم احسن طریقے سے نبھائیں گے۔ اس سلسلے میں وزارتِ بہبودِ خواتین نے اپنے کرائسس سنٹر کو ایک عارضی کیمپ میں تبدیل کر دیا ہے جو صرف ان بچوں اور خواتین کے لیے ہے جو وقتی طور پر لاوارث ہو گئے ہیں۔ ان میں وہ بچے بھی ہیں جو اس سانحے میں یتیم ہوگئے ہیں اور وہ خواتین بھی جو بیوہ ہو گئی ہیں یا فی الوقت ان کے خاوند لاپتہ ہیں۔ فی الحال حکومت ان بچوں کے لیے طبی سہولیات، تعلیمی سہولیات اور کھانے پینے کی اشیاء مہیا کر رہی ہے اور طویل المدت منصوبے میں پانچ ہزار عورتوں اور بچوں کا کیمپ لگانے کا ارادہ ہے کیونکہ ہمیں خدشہ ہے کہ اس قسم کے مزید کیس سامنے آ سکتے ہیں۔ اس سوال پر کہ حکومت نے ان بچوں کی پرورش کے لیے کیا نظام اور منصوبہ ترتیب دیا ہے نیلوفر بختیار کا کہنا تھا کہ اس وقت حکومت امدادی کارروائیوں میں مصروف ہے۔ ہمارے پاس روزانہ بچے آ رہے ہیں، جو بچے ہسپتالوں میں تھے وہ بھی وہاں سے فارغ ہو کر ہمارے پاس آ رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس وقت تک کوئی حتمی منصوبہ سامنے نہیں آ سکتا جب تک ان بچوں کے اعدادوشمار کے بارے میں یہ فیصلہ نہ ہو جائے کہ ان میں سے کتنے بچے لاوارث ہیں اور کتنے ایسے ہیں جنہیں واقعی حکومت کے اقدامات کی ضرورت ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت نے ان بچوں کو پناہ دینے کا منصوبہ بنایا ہے۔ حکومت کسی بھی نجی ادارے کو کوئی بھی بچہ یا عورت 'اڈاپٹ' کرنے کی اجازت نہیں دے گی۔ ان عورتوں اور بچوں کے لیے 5000 خیموں کی ایک بستی اسلام آباد میں بسائی جائےگی جبکہ 1000 خیموں کی دو بستیاں مظفرآباد اور مانسہرہ میں بسائی جائیں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت ان بچوں کو ان کے رشتہ داروں کے حوالے کرتے ہوئے اس بات کا خیال رکھے گی کہ وہ انہیں پیسوں کے لالچ میں تو نہیں لے جا رہے۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت نے کسی بھی ادارے کو ان عورتوں اور بچوں کی ذمہ داری نہیں سونپی۔ یہ عورتیں اور بچے حکومتِ پاکستان کی ذمہ داری ہیں اور حکومت ان بچوں کی آباد کاری کے سلسلے میں پہلے تین ماہ قلیل المدت منصوبے پر کام کرے گی جس کے بعد ایک طویل المدت منصوبے پر کام شروع ہو گا۔ ان کا کہنا تھا کہ وزارتِ بہبودِ خواتین کی ٹیمیں مظفرآباد اور مانسہرہ میں موجود ہیں جو متاثرہ بچوں کی فہرستیں بنا رہی ہیں اور ان سے رابطے کی کوشش کر رہی ہیں۔ لاوارث بچوں کے اعداد و شمار پر ایک سول کے جواب میں وزیرِاعظم کی مشیر کا کہنا تھا کہ فی الحال کوئی اعداد و شمار نہیں ہیں کیونکہ بچے مختلف جگہوں پر موجود ہیں۔ ابھی تو امدادی آپریشن بھی جاری ہے اور اتوار کی رات بھی چار بچوں کو نکالا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس صورتحال میں مکمل اعدادوشمار دینا بہت مشکل ہے تاہم یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ اس سانحے میں عورتیں اور بچے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔ بہت سے بچے معذور ہو گئے ہیں اور طویل المدت پالیسی میں حکومت ان معذور اور یتیم بچوں کا انتظام کرے گی۔ نیلوفر بختیار کا کہنا تھا کہ حکومت اب متاثرہ خاندانوں کو دوبارہ آباد کرنے کے سلسلے میں منصوبہ بندی کر رہی ہے اور اگر اب متاثرہ بچوں کو الگ کیا گیا تو یہ ان کے لیے تباہ کن ہوگا۔ ان کے مطابق یہ بچے بہت سہمے ہوئے ہیں اور انہیں ان کے خاندان سے الگ نہیں کیا جا سکتا کیونکہ حکومت چاہتی ہے کہ وہ اپنے شناسا چہروں کے ساتھ رہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||