BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 20 October, 2005, 02:29 GMT 07:29 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پہاڑ گرے اور گاؤں غائب
ناران میں زلزلے سے تباہی
یہ تصویر ایک سیاح نے زلزلے کے دوران ناران میں کھینچی
پاکستان کے صوبہ سرحد کی ایک خوبصورت وادی کاغان اور اس میں واقع جھیل سیف الملوک کے ارد گرد کے علاقے بھی اٹھ اکتوبر کو آنے والے تباہ کن زلزلے کا شکار ہوئے ہیں۔

اس زلزلے میں پاکستان کے شمالی علاقہ جات کا بڑا حصہ اور خوبصورت مقامات تباہ ہو گئے اور وہاں ملبے اور لاشوں کے ڈھیر لگ گئے۔ ان مقامات میں بالا کوٹ سے آگے کا انتہائی دلکش علاقہ بھی شامل ہے۔

پاکستان کے شہر لاہور میں ایک رضاکار گروپ میں شامل اظفر جمال امدادی اشیاء لیکر بالاکوٹ سے آگے ان علاقوں تک پہنچے ہیں۔

وادئ ناران
مذکورہ بالا جگہ کی زلزلے سے قبل کھینچی ہوئی ایک تصویر

ان کا کہنا ہے کہ ان علاقوں میں پورے کے پورے گاؤں تباہ ہو چکے ہیں۔ ’جب اوپر سے پہاڑ ٹوٹے تو اس کے نیچے پورے کے پورے گاؤں آ گئے‘۔

تباہ ہونے والے علاقوں میں کاغان، ناران، بابو سر ٹاپ اور جھیل سیف الملوک کے علاوہ شوگران کےگاؤں بھی شامل ہیں۔

ایک سوال کے جواب میںاظفر جمال نے کہا کہ کاغان جو کبھی سیاحت کا مرکز ہوا کرتا تھا اب وہاں کوئی ہوٹل نظر نہیں آتا۔ سب کچھ تباہ ہو چکا ہے اور وادی کا ستر سے اسی فیصد تک کا علاقہ زلزلے سے متاثر ہوا ہے۔

66موسم آفت بن گیا
متاثرہ علاقوں میں خراب موسم اور سردی
66قدرت سے کیا توقع
قدرت اور حکومت سے متاثرین کا بھروسہ اٹھ گیا
66خیموں کی ضرورت
کاغان کے رہائشیوں کو خمیوں کی اشد ضرورت۔
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد