 | | | پہلے سے تباہ شدہ مکانوں کا ملبہ سرک کر سڑکوں پر آ گیا |
پاکستان میں بدھ کی صبح زلزلے کے تین جھٹکے محسوس کیے گئے۔ ابتدائی طور پر کسی جانی اور مالی نقصان کی کوئی اطلاع نہیں ملی ہے۔ مظفر آباد میں بی بی سی کے نامہ نگار اعجاز مہر نے بتایا کہ زلزلے کی وجہ سے لوگ جاگ گئے اور ہر طرف خوف کی فضا تھی۔ پہلے سے تباہ شدہ عمارتوں کا ملبہ اپنی جگہ سے سرک گیا اور بعض جگہوں پر سڑکوں پر آ گیا۔ پاکستان میں محکمہ موسمیات کے سربراہ قمر زمان نے بی بی سی کو بتایا کہ سب سے شدید جھٹکا مقامی وقت کے مطابق صبح سات بج کر چھیالیس منٹ پر محسوس کیا گیا جس کے شدت ریکٹر سکیل پر پانچ عشاریہ آٹھ تھی۔ یہ جھٹکے پچیس سیکنڈ تک جاری رہے۔ یاد رہے کہ آٹھ اکتوبر کو آنے والے زلزلے کی شدت سات عشاریہ چھ تھی۔ قمر زمان نے کہا کہ رات کو دو بج کر بیس اور تین بج کر پینتیس منٹ پر بھی زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے جن کی شدت بالترتیب پانچ عشاریہ تین اور چار عشاریہ نو تھی۔ قمر زمان کے مطابق آٹھ اکتوبر کے تباہ کن زلزلے کے بعد اب تک سات سو چھیالیس جھٹکے محسوس کیے جا چکے ہیں اور یہ سلسلہ تین سے چار ہفتے مزید جاری رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ توقع ہے کہ ان جھٹکوں کی شدت چھ سے زیادہ نہیں بڑھے گی۔ |