BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
آپ کی آواز
وقتِ اشاعت: Tuesday, 18 October, 2005, 16:37 GMT 21:37 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
'ایل او سی کھولنے پر تیار ہیں'
پاکستان کے زیرانتظام کشمیر میں زلزلے سے متاثر ہونے والا ایک خاندان
پاکستان کے زیرانتظام کشمیر میں زلزلے سے متاثر ہونے والا ایک خاندان

پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف نے کہا ہے کہ زلزلے کے بعد لوگوں کوتعمیر نو اور اپنے عزیزوں سے ملاقات کے لیے کنٹرول لائن عبور کرنے کی سہولت میسر ہونی چاہیے۔

پاکستان کے وزیر خارجہ خورشید قصوری نے بی بی سی اردو سروس سے بات کرتے ہوئے یہ بھی کہا ہے کہ یہ تجویز امدادی کارروائیوں سے مشروط نہیں ہے۔

ادھر بھارتی وزارت خارجہ نے صدر مشرف کے اس بیان کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت بھی چاہتا ہے کہ لائن آف کنٹرول کے دونوں طرف رہنے والے لوگ آسانی سے ایک دوسرے سے مل سکیں اور ایک دوسرے کی مدد کر سکیں۔

صدر جنرل پرویز مشرف کے اس بیان اور بھارتی رد عمل پر آپ کی کیا رائے ہے؟ ایسے وقت پر جب کشمیر کو ایک بہت بڑے سانحے کا سامنا ہے آپ کے خیال میں کیا دونوں ممالک کو اپنے روایتی مواقف ترک کرکے لائن آف کنٹرول پر نرمی کرنی چاہیے یا سرحد کھول دینی چاہیے؟

آپ کی رائے

یہ فورم اب بند ہوچکا ہے، قارئین کی آراء نیچے درج ہیں۔



ساجد امجد، دبئی:
یہ ایک اچھی تجویز ہے جس سے کشمیری بھائی کم از کم اپنے دہائیوں سے بچھڑے عزیزو ارقاب کو مل کر ان کے دکھ درد بانٹ سکیں گے۔

ہارون رشید، سیلاکوٹ، پاکستان:
یہ وقت سیاست کرنے کا نہیں ہے، انسانیت کو بچانے کا ہے۔ جماعت اسلامی والوں کے خدشات اپنی جگہ، لیکن ہمیں اس وقت کشمیریوں کو بچانا ہے اور اس کے لیے ہم کچھ بھی کر سکتے ہیں اور ویسے بھی ایل او سی کشمیر کے درمیان ہے اور دونوں طرف کشمیری رہتے ہیں۔ اس بات سے ہمیں ڈرنا نہیں چاہئے کہ پاکستان کی سالمیت کو کچھ خطرہ ہو گا۔ پاک فوج اس کو کنٹرول کر سکتی ہے۔

سعد طارق، صادق آباد، پاکستان:
شاید میرے پاس الفاظ نہیں ہیں کہ میں ان کو بیان کر کے اپنے دکھ اور تکلیف کا اظہار کر پاؤں، پر میں بھی تو ایک پاکستانی ہوں۔۔۔ہم آج زندہ مثال ہیں پوری دنیا کے لیے ایک متحد قوم کی۔ اور ایل او سی کھول دینی چاہیے۔ یہ ایک اچھا قدم ہے کیونکہ آج ہمارے کئی بھائی بہن وہاں ہماری راہ دیکھ رہے ہیں اور ہم یہاں ان کے لیے رات دن دعاوں میں مصروف ہیں۔

این خان، ہالینڈ:
بہت اچھی بات ہے۔ اس مشکل وقت میں اگر کوئی ملک بھی مدد کرے ہم پاکستانیوں کو کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔ انڈیا اگر مدد کر رہا ہے تو اچھی بات ہے۔ جماعت اسلامی کو اگر اعتراض ہے تو وہ ان کو ہر بات پر رہتا۔ جو اس ہنگامی حالت میں ہماری مدد کرے وہ ہمارا دوست ہے، بس۔

عارف قریشی، ٹنڈو محمد خان، پاکستان:
دونوں ممالک ہمسایہ ہیں، ایک دوسرے کا دکھ سمجھ سکتے ہیں۔ اس سے بہتر اور کیا بات ہو سکتی ہے کہ ایل اوسی کے پار سے مدد آئے یا اسرائیل مدد دے۔ میں اس کا خیر مقدم کرتا ہوں۔ اس مصیبت کی گھڑی میں کوئی ہماری مدد کرے اللہ ان کو خوش رکھے۔ پاکستان مصیبت میں ہے۔ اگر کوئی بھی مدد کرتا ہے اسے ضرور قبول کرنا چاہیے۔ یہی وقت کی نزاکت ہے۔ لائن آف کنٹرول ایک لکیر ہی تو ہے۔ اس کا رشتے ناتوں سے کیا تعلق؟ ختم ہونی چاہئیں یہ ساری بندشیں۔

ڈاکٹر بشارت امین کٹھو، ٹنگمرگ، باراملہ، کشمیر:
میں اس قدم کا خیر مقدم کرتا ہوں۔ اس سے شاید بھارت اور پاکستان کے درمیان کئی برسوں سے چلنے والے کشمیر تنازعہ کا کوئی حل نکالا جا سکے۔

ایچ رضوان نجیب، لاہور، پاکستان:
یہ بالکل غلط ہے۔ پاکستانی کافی ہیں ہمارے کشمیری بھائیوں کی مدد کے لیے۔ ہمارے حکمران بدعنوان ہیں۔ جب فوج بھی بدعنوان حاکموں کے تحت ا جاتی ہے تو فضول بن جاتی ہے۔

ناثر رشید، چترا، پاکستان:
تمام لوگ جو کشمیر میں امداد بھیج رہے ہیں ان کا بہت بہت شکریہ۔ امداد ٹھیک سے تقسیم نہیں ہو رہی۔ پاک فوج اورحکومت کو چاہیے کہ وہ ہر گاوں میں اپنا کیمپ بنائے تاکہ امداد کی تقسیم صحیح طرح سے ہو سکے اور زلزلے سے ہونے والے نقصان کا صحیح اندازہ لگایا جا سکے۔

ریاض ڈیرہ مٹنگ، گلگت، پاکستان:
میرے خیال سے یہ ایک اچھا اقدام ہے۔ اس طرح جو لوگ بچھڑے ہوئے ہیں، آپس میں مل سکیں گے اور خاندان آپس میں اپنا دکھ درد بانٹ سکین گے۔

یوسف، اسلام آباد، پاکستان:
بات یہ ہے کہ جو بھی تھا اصل میں اللہ کی طرف سے تھا۔۔۔ اور اب ہمیں سارے مسلمانوں کو سچے دل سے توبہ کرنی چاہیے اور اللہ سے دعا کرنی چاہیے تاکہ آگے ایسا نہ ہو۔
سید سجاد رضوی، امریکہ:
میرے خیال میں یہ صدر صاحب کا انتہائی غلط فیصلہ ہے۔مجھ کو اس زلزلے کی آڑ میں کچھ اور ہی ہوتا نظر آ رہا ہے۔ یہ ایل او سی کھولنا اور انڈین آرمی کا اس طرف آنا پاکستان کی سلامتی کے لیے خطرہ ہے۔ صدر صاحب ملک کو داؤ پر لگا رہے ہیں۔

محمود خاطب، نامعلوم:
میرے خیال میں یہ ایک صحیح قدم ہے۔ مگر اس سے زیادہ خطرناک۔ انڈیا سے ہیلی کاپٹر نہیں لیے۔ اس طرح تو بے شمار انڈین جاسوس آ سکتے ہیں۔ اگر یہ صحیح ہے تو وہ بھی صحیح ہے۔ میں اب بھی یہی سمجھتا ہوں کہ انڈین جو کہ اپنے تھوڑے سے زخمیوں تک امداد نہیں پہنچا سکتا، ہماری مدد کرنے میں پرخلوص نہیں ہے۔ یہ ایک سیاسی گیسچر ہے۔

عرفان صادق، میرپور:
اگر لائن آف کنٹرول کو کھول دیا جائے تو دونوں طرف کے کشمیری ایک دوسرے کا دکھ درد بانٹنے میں ایک دوسرے کی مدد کر سکتے ہیں اور ایک دوسرے کو سہارا دے سکتے ہیں۔

ریاض، گلگت:
میرے خیال میں یہ ایک اچھا اقدام ہے۔ اس طرح جو لوگ بچھڑے ہوئے ہیں آپس میں مل سکیں گے۔ اور خاندان آپس میں انپنا دکھ درد بانٹ سکیں گے۔ اس سے یہ ظاہر ہو رہا ہے کہ دونوں ممالک امن کی جانب سنجیدہ ہیں۔

ثاقب حسن خان، راولپنڈی:
بات یہ ہے کہ جہاں انڈیا سے مقابلے کی بات آتی ہے تو یہ لوگ کارگل تک پہنچ جاتے ہیں اور یہاں کشمیر میں کچھ نہیں کررہے ہیں۔ اور دوسری بات یہ کہ جو لوگ شہید ہوئے ہیں ان کی صحیح تعداد کو چھپایا جارہا ہے۔


شیخ محمد یحیٰ، کراچی:
لائن آف کنٹرول میں نرمی پیدا کرنے کے لئے ضروری ہے کہ انڈیا اور پاکستان سب سے پہلے کشمیر کی سرحد پر سے اپنی فوج واپس بلوائیں اور ان دونوں ممالک کی افواج کی جگہ یو این او کی فوج تعینات کی جائے۔ اس اقدام سے دونوں ممالک کے عوام کو ایک جگہ سے دوسری جگہ امداد پہنچانے میں آسانی ہوگی۔

ریاض خان، جدہ:
میرے خیال میں اگر پاکستان انڈین آفر کو قبول کرلے تو لوگوں کی جانیں بچائی جاسکتی ہیں۔

سید نقوی، لاہور:
دیکھیں یہ وقت ہے محبت کو عام کرنے کا اور محبتوں کو سرحدوں کی پابندی نہیں ہونی چاہئے۔۔۔

رضوان خان، کراچی:
آپ کس انڈیا کی بات کررہے ہیں جو لائن آف کنٹرول میں نرمی کرے، میں نہیں سمجھتا، یہ وہ انڈیا ہے جس نے قیامِ پاکستان کے وقت لاکھوں مہاجرین کو قتل کیا، آپ اس سے کیا امید کررہے ہیں؟

محمد اشرف، بحرین:
ہندوستان اپنے زیرتسلط کشمیر کے لوگوں کی جانیں تو بچا نہیں سکا، وہ آزاد کشمیر کے لئے کیا کرے گا؟ بس سب سیاسی بیان بازی ہے۔

قراۃ العین حیدر، پاکستان:
آج جو کچھ بھی ہمارے شمالی علاقہ جات کے ساتھ ہوا اگر میں یہ کہوں کہ یہ زلزلے کا نتیجہ نہیں ہے تو یہ غلط نہیں ہوگا اور اگر یہ زلزلہ ہی تھا تو یہ کون سے پہاڑیوں کا سلسلہ تھا جو کہ پوری کی پوری بستیاں لے ڈوبا؟ کہیں یہ کوئی ایسی معاملہ تو نہیں جس میں کوئی مفاد شامل ہو ہماری حکومت کا؟ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ کسی ایسی جگہ پر زلزلہ آئے جہاں کے پہاڑ صدیوں سے سوئے ہوئے ہیں؟ اور پھر کوئی ایسا زلزلہ نہیں جو صرف زمین کو ہلاکر گیا ہو بلکہ یہ تو ایک ایسا زلزلہ تھا کہ یہ سب تباہ کر گیا۔۔۔۔

عرفان صادق، میرپور:
لائن آف کنٹرول میں نرمی میں کوئی حرج نہیں ہے، لیکن اس مسئلے پر سیاست بالکل نہیں ہونی چاہئے۔ اس وقت متاثرین کو صرف اور صرف فوری امداد کی ضرورت ہے۔

اسجد سردار، نیو یارک:
ہاں، اگر اس سے لوگوں کی جان بچ سکتی ہے تو ہمیں مزید ڈِسپلین کی ضرورت ہے تاکہ ریلیف آپریشن کو منظم بنایا جاسکے۔

عالمگیر بیگ، سویڈن:
پتہ نہیں پاکستان گورنمنٹ کی کس قسم کی پالیسی ہے، اتنے لوگ مارے گئے، مزید کی جان کو خطرہ ہے، جان کو بچانا ہو تو حرام بھی حلال ہوجاتا ہے۔ مگر ہماری پاکستان کی ہٹ دھرم گورنمنٹ کو صرف اور صرف انڈیا سے ہی دشمنی ہے۔ کم سے کم مجھ کو سمجھ نہیں آتی ان لوگوں کی۔

آصف ملک، پیرس:
لائن آف کنٹرول کو نرم کرکے لوگوں کی جان بچانی چاہئے کیوں کہ سب سے پہلے انسانیت ہے اور بعد میں سیاست۔ لیکن میرا خیال یہ ہے کہ سب انڈیا کا ڈرامہ ہے۔ انڈیا ایسا کرے گا نہیں، وہ بس دنیا کے سامنے اپنی پوزیشن صاف کرنا چاہتا ہے، حالانکہ مقبوضہ کشمیر میں ابھی اس نے کوئی خاص امداد نہیں کی لوگوں کی۔

محمد مہربان، ہانگ کانگ:
میری رائے تو یہ ہے کہ اس مشکل گھڑی میں کنٹریز کو مل جل کر کام کرنا چاہئے کیوں کہ نقصان دونوں طرف ہوا ہے۔ اگر جس وقت زلزلہ آیا تھا اس وقت دونوں ممالک اپنے اختلاف بھلاکر مل کر کام کرتے تو میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ کتنی ہی زندگیاں بچاسکتے تھے۔

ذیشان حامد ثانی، سیالکوٹ:
میں کافی پریشان ہوں اور دکھی ہوں۔ میں کچھ کھا نہیں سکتا، اور ہر بار جو زلزلہ آتا ہے تو میں وہ وقت اور دن نہیں بھول سکتا۔ میں اپنے مسلم بھائیوں اور بہنوں کے بارے میں فکرمند ہوں۔

جاوید کشمیری، بیجنگ:
میں پاکستانی مقبوضہ کشمیر کے ضلع باغ گاؤں دھرے کا رہنے والا ہوں، میرے ضلع میں ابھی تک کوئی امداد نہیں پہنچی، لوگ ملبے کے نیچے دبے ہوئے ہیں۔۔۔۔

نوید نقوی، کراچی:
انڈین وزیراعظم کا یہ بیان صرف اور صرف ایک سیاسی بیان ہے۔ وہ لوگ کیا آزاد کشمیر کی مدد کریں گے جن کے ہاتھ خود کشمیریوں کے خون سے رنگے ہوئے ہیں۔ جہاں تک بات ہے لائن آف کنٹرول کو نرم کرنے کی تو اس پر پاکستان سے زیادہ خود انڈیا کو سوچنا چاہئے کیوں کہ پاکستان خود چاہتا ہے کہ یہ مسئلہ حل ہوجائے۔ مگر انڈیا ایسا نہیں چاہتا۔ جو کنٹری اقوام عالم کی رائے کا احترام نہ کرے وہ کسی کی مدد کیا کریں گے؟

طارق محمود، سرگودھا:
جو عذاب آنا تھا وہ آکر رہا۔ اس ٹاپِک پر سیاست تو کی جاسکتی ہے، اس وقت کسی کی دلجوئی نہیں، کوئی فائدہ نہیں۔

شریف لون، کوالالمپور:
یہ حقیقت میں بدقسمتی ہے یہ جان کر بی بی سی یا سی این این میں کسی نے بھی انڈیا کے زیرانتظام کشمیر کے تنگدار علاقے کی کوئی کوریج نہیں کی جہاں مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق نوے فیصد مکان تباہ ہوگئے۔ تنگدار سے بیرونی دنیا کا فون کے ذریعے کوئی رابطہ نہیں ہے، گرچہ مقامی حکومت نے دعویٰ کیا تھا کہ سیٹلائٹ فون قائم کیا گیا ہے۔انڈین وزیراعظم کے ذریعے ریلیف پیکج کا اعلان بھی سرینگر یا دہلی سے شروع ہوتا ہے۔ سب سے غریب لوگ جو موت کو دھوکہ دینے میں کامیاب رہے اب آنیوالی سردی میں موت کا سامنا کرنے والے ہیں۔

شریف خان، فرینکفرٹ:
لڑنے سے کچھ نہیں بنتا۔ انڈیا اور پاکستان کو لائن آف کنٹرول نارمل کرنا چاہئے اور کشمیری بہن بھائیوں کی مدد کرنی چاہئے۔

سلیم خان، پشاور:
بالکل، لائن آف کنٹرول کو ختم کردینا چاہئے اور لوگوں کو بچانا چاہئے۔

طاہر کریول، اسلام آباد:
لائن آف کنٹرول میں نرمی کی بجائے اسے مستقل بنیادوں پر ختم کرکے بھی ممکن ہو تو بھی انسانوں کی جانیں بچانا چاہئے۔ یہ دور جاہلانہ دشمنی کا نہیں، پاکستان اور بھارت ایک دوسرے کے ساتھ مل کر بھی رہ سکتے ہیں۔ صرف ملا اور آرمی اپنا رزق بند ہونے کے خطرے پر کشمیر کو خواہ مخواہ کا مسئلہ بناکر لوگوں کی زندگیاں کھیل رہے ہیں۔ اب انہیں محنت کرکے کمانا چاہئے اور مظلوم کشمیریوں کی جانوں کی قیمت نہیں وصول کرنا چاہئے۔

شوکت پیر، شاہ نور پُل:
لائن آف کنٹرول کو بالکل کھول دینا چاہئے، بلکہ زلزلے کے پہلے دن ہی کھول دینا چاہئے تھا۔

امان اللہ خان آغا، ناظم آباد:
زلزلے کسی بھی ملک میں آئیں، یہ اللہ کا ایک عذاب ہے، ہمیں اللہ سے توبہ کرنی چاہئے اور اپنے عملوں کو درست کرنا چاہئے۔

چاند بٹ، جرمنی:
لائن آف کنٹرول کو کھولنے یا نہ کھولنے کا کوئی فائدہ نہیں، کیوں کہ عوام کی حکومت ہوتی ہے تو عوام کا خیال بھی رکھتی۔ آرمی کے ہیلی کاپٹر کہاں ہیں؟ پاکستانی بچیں گے تو پاکستان بچے گا۔ آرمی سے پاکستان کبھی نہیں بچے گا۔ پاکستانیوں کی جانوں کو بچاؤ چاہے کچھ بھی ہو۔

عمران احمد، کراچی:
پاکستان کی سیاست کا مہور ہے: تنازعہ ہمیشہ قائم رہے۔ تاکہ اس پر بیٹھ کر سیاست کی جاسکے۔ جب ساری دنیا کا نقشہ گوگل نے ویب سائیٹ پر رکھ دیا ہے تو ابھی بھی کچھ بیوقوف کہتے ہیں کہ انڈین ہیلی کاپٹر پاکستانی علاقے کے پِکچر لے لیتے اگر ان کو ریلیف آپریشن میں حصہ لینے کی اجازت دے دی جاتی۔ آزاد کشمیر کے وزیراعظم، شوکت عزیز کا کشمیر میں اتنی چاپلوسانہ مسکراہت سے اسقتبال کررہے تھے کہ خون کھول اٹھا۔ یہ وقت بھی گزر جائے گا، قوم بھول جائے گی، سیاست دان اسی وقت کے انتظار میں اپنے ڈراوِنگ روم میں بیٹھیں ہیں۔ پاکستان زندہ آباد۔

فراز قریشی، کراچی:
یہ کون لوگ ہیں جو ابھی بھی انڈیا سے دشمنی کی بات کرتے ہیں؟ جب انسان ہی نہیں رہیں گے تو لائن آف کنٹرول کیسے؟ میری پاکستانی حکام سے گزارش ہے کہ اس وقت اپنی انڈیا دشمنی بھول جائیں۔

شاہد کشمیری، اسلام آباد:
اگر لائن آف کنٹرول میں نرمی ہوجائے تو پاکستان کی فوج کیا کھائے گی؟ کشمیر پاکستانی پنجابی آرمی کے لئے ایک روزگار ہے۔ ہم کشمیری اپنے مادر وطن کی تقسیم سے کافی دکھی ہیں۔ ہمیں ان کی ہمدردی اور حمایت نہیں چاہئے۔ ہم صرف آزادی چاہتے ہیں۔ خدا کے لئے ہمیں اکیلا چھوڑ دیں۔۔۔۔

آصف میاں، لاہور:
زلزلے سے متاثرین کی مدد کے لئے لائن آف کنٹرول میں نرمی کی ضرورت ہے۔ بعد میں اس سے غریب لوگوں کی مدد بھی ہوسکے گی، اور ڈیفنس پر پیسہ کم خرچ ہوگا۔

علیم اختر، گجرات:
کیا آپ لوگ انڈیا اور 'را' پر بھروسہ کرسکتے ہیں؟ تو پھر کیوں لائن آف کنٹرول کھولنے کی بات کررہے ہیں؟

شاہد اعظم خان، برسلز:
اس قیامت کی اس گھڑی میں بھی کشمیر کے سینے پر کھینچی گئی خونی لکیر اپنا اثر دکھا رہی ہے اور پاکستان اور انڈیا کے حکمران اپنی منافقانہ پالیسیوں سے کشمیری عوام کو اپنے دکھ درد میں شریک نہیں ہونے دےرہے ہیں۔ کنٹرول لائن کے دونوں طرف کشمیری عوام رہتے ہیں، نہ کہ پاکستانی یا انڈین۔ کشمیری عوام کے دکھ درد کو سمجھنے والا کوئی نہیں ہے، ہمیشہ کی طرح کشمیری عوام دو پتھروں کے درمیان پیسے جارہے ہیں۔

ارشد خان، جاپان:
آپ میری رائے کبھی شائع نہیں کرتے۔ بس اتنا ہی کافی ہے۔

راجہ مجیب الرحمان، گھوٹکی:
لائن آف کنٹرول پر تنازعہ ہر حال میں ختم ہونا چاہئے کیوں کہ دونوں ممالک اس چھوٹے سے ٹکڑے کے لئے سالوں سے لڑ رہے ہیں اور اس بہانے ملکی بجٹ کا پچہتر فیصد حصہ اس پر خرچ ہوتا ہے۔۔۔۔

اقبال، پاکستان:
اگر لائن آف کنٹرول میں نرمی کرنے سے جانیں بچ سکتی ہیں تو ایسا کیوں نہیں کریں۔ انسانیت کو بچانا بیکار کے بحث سے کافی اہم ہے۔ اگر یہ معاملہ حساس ہے تو حکومت کو چاہئے کہ اقوام متحدہ اور این جی اوز کو اجازت دے کہ وہاں جاکر خوراک اور ادویات فراہم کرسکیں۔

عمران زاہد، کینیڈا:
میرا دوست راجہ آصف جس نے مظفرآباد میں حال ہی میں ایک ٹریول ایجنسی کھولا تھا لاپتہ ہے۔ اگر کسی کو کچھ معلوم ہے تو مجھے اطلاع دے: imranzahid@hotmail.com

اللہ وڑایو بزدار، گھوٹکی:
اس وقت جب آزاد کشمیر پہ قیامت ٹوٹی ہے، اس کی آدھی آبادی تباہ ہوگئی ہے، ایسے وقت میں لائن آف کنٹرول کا ہونا مزید عذاب ہے۔ اس وقت لائن آف کنٹرول کو ختم کرکے دونوں حصوں کے لوگوں کو ایک دوسرے سے ملنے اور ایک دوسرے کے دکھ کا ساتھی بننے کا موقع ملنا چاہئے۔

زاہد مرزا، ٹورانٹو:
میرے خیال میں یہ ٹائم انسانی زندگی بچانے کا تھا۔ پاکستان کو اس شرط پر قبول کرنی چاہئے تھی کہ ہیلی کاپٹر پاکستانی یا کسی فرینڈ کنٹری کے پائلٹ آپریٹ کریں گے، اس طرح بہت سی جانیں بچ سکتی تھیں۔

عمران راجپوت، کشمیر باغ:
زلزلے کے متاثرہ لوگ ابھی تک کھلے آسمان تلے کھیتوں میں پڑے ہوئے ہیں، جو تارپلین آرمی کی طرف سے ملی ہیں ان کی یہ حالت ہے کہ بارش کم اور اندر پانی زیادہ آرہا ہے۔ ہمارے پاس ابھی تک ایک کمبل اور صرف تارپلین پہنچی ہے، ہم روڈ سے دو سے تین کلومیٹر کے فاصلے پر ہوں گے، جو لوگ امداد دوسرے شہروں سے لے رہے ہیں وہ بھی آرمی والے روک رہے رہیں۔ اس سے پہلے 'را' کے ایجنٹ لوٹ رہے تھے، میں آپ کو ڈیلی میل نہیں کرسکتا، اس کے لئے میں آپ سے اور متاثرین سے معذرت چاہتا ہوں۔

صغیر راجہ، سعودی عرب:
انسانیت کا تقاضہ ہے کہ فی الفور لائن آف کنٹرول کو نرم کردینی چاہئے، اگر نسان ہی نہ رہا تو لائن آف کنٹرول کا کیا کرنا؟

عبدالسلام، تمیرگرہ:
جس طرح موجودہ حکومت ہندوستان اور امریکہ سے ڈری ہوئی ہے اور ان سے ہر محاظ پر پسپائی اختیار کیے ہوئے ہیں، میرا نہیں خیال کہ کشمیر میں مزید ان کو کوئی دلچسپی ہے۔ ہندوستان جس چیز کے لئے اتنے سالوں سے لڑرہا ہے اس نے وہ سب کچھ پالیا ہے، مگر پاکستان سب کچھ ہارے گا اور ہار رہا ہے۔ کشمیری لوگوں کو اس زلزلہ سے سبق سیکھنا چاہئے نہ کہ اپنی زمین ہندوستان کے حوالے کردیں۔ ورنہ اللہ سب دیکھ رہا ہے اور اس سے بڑا زلزلہ بھی آسکتا ہے۔

ظفراحمد، پاکستان:
یہ ایک زمینی حقیق ہے، اس لئے ممکن نہیں ہے کیوں کہ ایسے اقدام کے کئی اثرات ہوسکتے ہیں۔

جاوید اقبال ملک، چکوال:
میرا خیال یہ ہے کہ جب پاکستان اسرائیل جیسے ازلی دشمن کو تسلیم کرچکا ہے تو پھر انڈیا کے ساتھ دوہرا رویہ کیوں ہے؟ ہمیں اب تبدیلیاں لانی ہوں گی۔ یقینی طور پر قیمتی جانیں بچانا ضروری تھا۔ مگر ہم میں ہمیشہ 'انا' کا مسئلہ ہے۔

احسن شیخ، ٹورانٹو:
اگر انسانی جان قیمتی ہے تو پھر لائن آف کنٹرول کی اہمیت نہیں ہے۔ لیکن دونوں طرف کے قاتل لیڈر کے لئے انسان سے زیادہ ان کی سیاست زیادہ قیمتی ہے۔

عامر، اسلام آباد:
لائن آف کنٹرول کو کھولنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے، اس سے کوئی مدد نہیں ملے گی۔ روڈ رابطوں کی ضرورت نہیں، صرف ہیلی کاپٹروں کے ذریعے ہی کافی ہے۔ اور انڈیا کے بجائے بین الاقوامی برادری پاکستان کے لئے ٹھیک ہے۔ اور ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر میں انہوں نے کیا کیا ہے کہ پاکستان کو مدد دینے کی پیشکش کررہے ہیں؟

66زلزلہ، سیاست، سفارت
شاید بھارت بھی پاکستانی امداد قبول نہ کرتا
66بےسہاروں کا مستقبل
سہمے ہوئے بچے انتہائی کرب سے گزر رہے ہیں
66وہ جو بچ گئے
موت کے منہ سے واپس آنے والے: تصویروں میں
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد