زلزلہ: انتہا پسندی میں کمی نہیں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر میں انتہا پسندوں کے ایک حملے میں دو فوجی ہلاک اور چھ زخمی ہوگئے ہیں۔ انتہا پسندوں کے ساتھ فوجیوں کی جھڑ پ اب بھی جاری ہے۔ فوج کا کہنا ہے کہ وادی میں زلزلے کے بعد بھی علیحدگی پسندوں کی سرگرمیاں پہلے ہی کی طرح جاری ہیں۔ جموں میں فوج کے ایک ترجمان کرنل آر کے چھبر نے بتایا کہ صبح کے وقت جب فوجی اپنی روز مّرہ کی مشق میں مصروف تھے دو مسلح افراد نے ان پر اندھا دھند گولیاں چلائیں اور دو گرینڈ پھینکے۔ اس واقعے میں دو فوجی ہلا ک جبکہ چھ شدید طور پر زخمی ہوئے ہیں۔ ترجمان کے مطابق یہ واقعہ جموں سے قریب کتھوا کے علاقے میں ہوا ہے اور پندرہ برس سے جاری تشدد میں اس علاقے میں ایسا پہلی بار ہوا ہے۔ مسٹر چھبر کے مطابق زخمیوں میں سے تین کے حالت نازک ہے اور انہیں فوجی ہسپتال میں میں داخل کیا گیا ہے۔ فوج نے علاقے کا محاصرہ کر لیا ہے۔ ہندوستان میں ذرائع ابلاغ نے اس طرح کی خبریں شائع کی تھیں کہ زلزلے کے سبب وادی میں انتہا پسندی میں کمی آسکتی کیونکہ انتہا پسندوں کے بنکر تباہ ہوگیے ہیں۔ لیکن دلی میں فوج کے ڈائریکٹر جنرل آف ملٹری آپریشن مدن گوپال نے کہا ہے کہ دراندازی میں کوئی کمی نہیں ہوئی ہے۔ مسٹر گوپال نے نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوۓ کہا کہ '' گزشتہ ہفتے میں فوج نے انتیس انتہا پسندوں کو ہلاک کیا ہے اور ان میں سے سولہ دراندازی کرنے کی کوشش کررہے تھے ''۔ فوج کے اعلی افسر نے یہ بھی کہا کہ زلزلے سے آئي تباہی میں انتہا پسندوں کی مرنے کی بھی انہیں توقع تھی۔ خاص طور پر ان علاقوں میں جو سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں اور جہاں لشکر طیبہ اور حزب المجاہدین کے ارکان بھی تھے۔ ادھر ہندوؤں کی سخت گیر سیاسی جماعت شیو سینا پاکستان کو امداد دینے کے بھارتی حکومت نے اسکی مخالفت کا اعلان کیا ہے۔ پارٹی نے کہا ہے کہ کشمیر کے انتہا پسند فوجیوں پر حملہ کرتے رہے ہیں اور ہندوؤں کو مارتے ہیں اس لیے حکومت کو چاہیے کہ وہ انکے لیے امدادی سامان پاکستان نہ بھیجے۔ پارٹی نے اتوار کے روز دارلحکومت دلی میں اسکے خلاف ایک احتجاجی مظاہرے کا بھی اعلان کیا ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||