بچوں کو سب سے زیادہ خطرہ ہے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے شمالی علاقہ جات اور کشمیر میں گزشتہ ہفتے آنے والے زلزلے سے جہاں بڑے پیمانے پر جانی نقصان ہوا ہے وہیں باسٹھ ہزار کے قریب افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔ زخمیوں میں بڑی تعداد بچوں کی ہے اور ان میں سے زیادہ تر بچے اپنے وارثوں سے محروم ہو چکے ہیں۔ ان متاثرہ بچوں سے متعلق اب یہ خدشہ ظاہر کیا جار ہا ہے کہ کہیں یہ بردہ فروشوں کے ہتھے نہ چڑھ جائیں۔ بی بی سی اردو ڈاٹ کام کے نمائندے عارف شمیم نے لاوارث اور بے سہارا بچوں کی دیکھ بھال کرنے والی غیر سرکاری تنظیم ایس او ایس کی ترجمان مس نرگس امیر سے اس خدشے کے متعلق بات کی تو ان کا کہنا تھا: جو بچے بچ گئے ان کی سمجھ میں نہیں آ رہا کہ ان کے ساتھ کیا ہوا ہے۔ وہ صدمے کا شکار ہیں اور ان میں سے کچھ سکتے کی حالت میں ہیں۔ میں نے ایک بچی دیکھی جو کچھ بول نہیں رہی تھی اور اس کی آنکھوں سے آنسو رواں تھے۔ وہ کچھ کہنا چاہ رہی تھی مگر اس کی آواز ہی نہیں نکل رہی تھی۔ ان بچوں کی حالت ٹھیک ہونے ، انہیں اس صدمے سے باہر آنے اور ان کے دل میں بیٹھا ڈر دور ہونے میں بہت وقت لگے گا۔ جو بچے اس زلزلے میں اپنے اعضاء سے محروم ہو گئے ہیں وہ ایک کرب کا شکار ہیں۔ جو بچے ملبے میں دبے رہے انہیں تشویش ناک حالت کے سبب اسلام آباد منتقل کیا گیا ہے۔ ایسے بچوں میں سے کچھ کے والدین اور اہل ِ خانہ اس زلزلے میں ہلاک ہو چکے ہیں اور جن کے والدین یا گھر والے خوش قسمتی سے بچ گئے ہیں وہ اپنے بچوں کے ہمراہ کشمیر سے اسلام آباد نہیں آ سکے ہیں کیونکہ فوجیوں نے ہیلی کاپٹروں کی مدد سے صرف زخمیوں کو منتقل کیا ہے اور اب حالت یہ ہے کہ بچہ اکیلا اسلام آباد میں ہے اور اس کے گھر والے مظفرآباد میں۔ سوال: کیا اس صورت میں لوگ خود کو ان بچوں کا رشتہ دار ظاہر کر کے انہیں نہیں لے جا سکتے؟ کیا اس قسم کے واقعات سامنے آئے ہیں؟ ترجمان: جی ہاں ایسے واقعات سامنے آئے ہیں اور یہ ایک سانحہ ہے کہ وہ بچے جو پہلے ہی کرب سے گزر رہے ہیں، انہیں لوگ اس لیے لے جانا چاہتے ہیں کہ حکومت سے ملنے والی امداد کے موقع پر وہ خود کو ان بچوں کا رشتہ دار ظاہر کر کے امداد حاصل کر سکیں۔ اس سلسلے میں حکومت نے ڈاکٹروں کو سخت ہدایات جاری کی ہیں کہ کسی بھی بچے کو کسی شخص کے حوالے نہ کیا جائے۔ ایس او ایس کو حکومتِ پاکستان نے اجازت دی ہے کہ وہ ان بچوں کو رکھ سکتے ہیں۔ اس سلسلے میں اخبارات، ذرائع ابلاغ اور انٹرنیٹ پر بھی مشتہر کر دیا گیا ہے کہ اگر کسی کو بھی کوئی ایسا بچہ یا خاتون نظر آتی ہے جو بے سہارا ہے تو اسے اسلام آباد میں کام کر رہی عارضی پناہ گاہ میں پہنچا دیا جائے۔ سوال: کیا اس بات کا بھی امکان ہے کہ یہ بے سہارا بچے بردہ فروشوں کے منظم گروہوں کے ہتھے چڑھ جائیں یا اغوا ہو جائیں؟ ترجمان: موجودہ حالات میں جہاں کروڑوں لوگ نیک نیتی سے کام کر رہے ہیں وہیں ایسے لوگ بھی ہیں جو ان حالات کا فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں۔ ہمیں بچوں کو ان لوگوں سے محفوظ رکھنا ہے۔ یہ بچے پہلے ہی بےانتہا تکلیف اٹھا کر آ رہے ہیں اور کہیں غفلت کے نتیجے میں یہ غلط ہاتھوں میں نہ چلے جائیں۔ سوال: کیا ایسے کوئی اعدادوشمار اکھٹے کیے گئے ہیں جن سے پتہ چل سکے کہ کتنے بچے زندہ ہیں جو اپنے والدین کھو چکے ہیں؟ ترجمان: ابھی تک کوئی واضح اعدادوشمار نہیں آئے ہیں۔ اس وقت پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز اسلام آباد میں چھ ہزار بچے زیر علاج ہیں جبکہ کچھ بچے لاہور کے ہسپتالوں میں بھی لائے گیے ہیں۔ متاثرہ علاقوں میں ابھی ڈیٹا اکھٹا کرنا بہت مشکل ہے۔ اس سلسلے میں رابطے کی بھی کمی ہے۔ اس وجہ سے وثوق سے نہیں کہا جا سکتا کہ کتنے بچے اپنے والدین سے محروم ہو چکے ہیں۔ سوال: کیا آپ کو ایسے افراد کے فون آرہے ہیں جو ان بچوں کو گود لینا چاہتے ہوں؟ ترجمان: ہمیں اس قسم کے بے شمار فون موصول ہویے ہیں تاہم ہم انہیں بتا رہے ہیں کہ ایس او ایس ان بچوں کو گود لینے کی اجازت نہیں دے سکتا کیونکہ اول تو ہمارا ادارہ صرف نومولود بچوں کو گود لینے کی اجازت دیتا ہے اور دوسری بات یہ کہ اگر ان بچوں کے والدین مل گئے تو اس صورت میں یہ ان بچوں، ان کے والدین اور انہیں گود لینے والے حضرات کے ساتھ زیادتی ہوگی۔ ہمارا کہنا ہے کہ فی الحال ان بچوں کو ایس او ایس کی پناہ گاہوں میں آنے دیں۔ انہیں اس ماحول میں رہنے دیں۔ یہ بعد میں دیکھا جائے گا کہ ان بچوں کو کون لینے آ رہا ہے۔ ایس اور ایس کے رابطہ نمبر: اسلام آباد: 2872340_051 ، 2202225_051 لاہور: 5864416_042 ، 58566546_042 |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||