'تباہی کہیں زیادہ ہوئی ہے' عینی شاہد | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
زلزلے کی اطلاع ملتے ہی ڈیرہ غازی خان کے رہنے والے طیب حسین نے اپنے دوستوں اور پاس پڑوس کے لوگوں سے امداد جمع کی اور متاثرہ علاقوں کے لئے چل پڑے۔ رضا کار طیب حسین نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ خورد و نوش کی اشیاء، کپڑے اور لحاف وغیرہ جمعہ کرکے مانسہرہ کے علاقے کے لئے چل پڑے، جہاں انہوں نے مانسہرہ، شنکیاری اور قریبی علاقے کھٹیہی اور بالاکوٹ کے علاقے میں لوگوں کو کھلے آسمان تلے بےیار و مددگار پایا۔ انہوں نے بتایا کہ زلزلے کے بعد لوگوں نے کہنا شروع کردیا کہ بڑی تباہی ہوئی ہے اور انہوں نے اس کی تصاویر دیکھی ہیں، پی ٹی وی پر، جیو ٹی وی پر۔ 'میں نے تو کچھ نہیں دیکھا تھا لیکن جب بی بی سی پر سنا تو مجھے اندازہ ہوا کہ وہاں کیا ہوا ہوگا کیوں کہ مجھے ان علاقوں کے بارے میں پہلے سے معلوم تھا۔' 'میں سوچتا تھا کہ کیا ہوا ہوگا۔' طیب حسین نے بتایا کہ انہوں نے مانسہرہ کے علاقے میں بارہ سال مزدوری کرتے ہوئے گزاری تھی جس کی وجہ سے وہ وہاں کے بارے میں واقف تھے۔ تاہم انہوں نے بتایا کہ میڈیا ہر جگہ نہیں پہنچ پایا ہے اور 'تباہی کہیں زیادہ ہوئی ہے'۔ ان کا کہنا تھا کہ 'تباہی کہیں زیادہ ہوئی ہے کوہستان، دیامر، شکیان کے متاثرہ علاقوں میں تو نہ اب تک حکومت پہنچی ہے اور نہ ہی کوئی اور پہنچا ہے'۔ طیب حسین جمعہ کو امداد تقسیم کرکے واپس ڈیرہ غازی خان پہنچے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ زلزلے کی خبر سنتے ہی انہوں نے ڈیرہ غازی خان کے راجن پور کے علاقے میں دوستوں اور عام لوگوں سے امداد جمع کی اور چل پڑے تھے۔ طیب حسین کا کہنا ہے کہ وہ واپسی پر اپنے علاقے میں لوگوں کو بتارہے ہیں کہ انہوں نے اپنی آنکھوں سے کیا دیکھا اور دوبارہ امداد جمع کرکے جانے کا منصوبہ رکھتے ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||