BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 14 October, 2005, 16:51 GMT 21:51 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
والدین مرگئے، سر پر چھت نہیں
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر
منہدم مکانوں کی فضا سے لی گئی تصویر

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں وادی نیلم کا علاقہ زلزلے کی تباہ کاریوں سے شدید طور پر متاثر ہوا ہے لیکن سات دن گزر جانے کے بعد بھی اس علاقے میں واقع دور دراز دیہات تک سرکاری اور غیر سرکاری اداروں کی طرف سے کوئی امداد نہیں پہنچ سکی۔

ان علاقوں کے زلزلہ زدگان سے بی بی سی نے رابطہ کیا تو لوگوں کا عام مطالبہ تھا کہ انہیں ترجیح بنیادوں پر ٹینٹ اور خیمے مہیا کئے جائیں تاکہ ان بے گھر افراد کو سر چھپانے کی جگہ میسر آ سکے۔

ان علاقے کے لوگوں کو کھانے پینے کی اشیاء اور دوائیوں کی بھی اشد ضرورت ہے۔

نیلم وادی کے گاؤں چھاجل سے حاجی اکبر عثمان نے بتایا کہ ان کے گاؤں میں سو فیصد مکانات تباہ ہو چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہر گھر میں دو سے تین افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور باقی بچ جانے والے کھلے آسمان تلے راتیں بسر کرنے پر مجبور ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حکومت اور غیر سرکاری اداروں کی تمام تر توجہ شہری علاقوں اور خاص طور پر مظفرآباد تک محدود ہے جبکہ دیہی علاقوں کو مکمل طور پر نظر انداز کیا جا رہا ہے۔

انہیں نے کہا کہ ہیلی کاپٹر اوپر سے گزر جاتے ہیں اور انہیں کوئی امداد مہیا نہیں کی گئی۔ حاجی علی اکبر نے کہا کہ علاقے سے گزرنے والی ایک ٹیلی فون لائین کام کر رہی ہے اور انہوں نے اسی کے ذریعے بی بی سی سے بھی بات کی اور سرکاری اہلکاروں سے بھی رابطہ کرنے کی کوشش کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ زمینی راستے سے وادی نیلم کا رابطہ مظفرآباد سے منقطع ہو گیا ہے اور زخمیوں کو مظفرآباد منتقل کرنا تقریباً نامکمن ہے۔

موسم میں ہر گزرتے دن کے ساتھ شدت آتی جا رہی ہے۔ لوگ چھلیاں کھا کر گزارا کر رہے ہیں۔

اس گاوں میں ایک نو سالہ بچی اسرا نے بتایا کہ اس کے ماں باپ اور دو بھائی زلزلے میں ہلاک ہو گئے اور اس کی ایک چھوٹی بہن بچی ہے۔ اسرا نے کہا کہ اس کا کوئی رشتہ دار نہیں اور وہ اپنی بہن کے ساتھ بالکل تنہا رہ گئی ہے۔

'ہمارا کوئی نہیں کھلے آسمان تلے بیٹھے ہیں ۔۔۔چھوٹی بہن رو رہی ہے'

ایک اور معمر خاتون شاہین بی بی نے بتایا کہ اس کی ایک نو سالہ بیٹی پٹیکا گاوں میں سکول کے ملبے تلے دب کر ہلاک ہو گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ وہ اپنے مکان سے بہت دور ایک کھیت میں باقی گاؤں والوں کے ساتھ بیٹھی ہے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد