BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
'پاکستان نہیں جاؤں گا'
ریڈ کراس بھی بڑی مقدار میں امداد مہیا کر رہا ہے
ریڈ کراس بھی بڑی مقدار میں امداد مہیا کر رہا ہے
پاکستان ہائی کمیشن کے رویے سےمایوس ہو کر بھارتی نژاد برطانوی ڈاکٹر نے پاکستان جانے سے انکار کر دیا ہے۔

ڈاکٹر سمارتھ ہری داس اپنی ایک ساتھی پاکستانی ڈاکٹر کے کہنے پر ان کے ہمراہ رضاکارانہ طور پر پاکستان میں زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں جا کر زخمیوں کو طبی امداد مہیا کرنے کے لیے تیار ہو گئے تھے لیکن ان کو اس وقت مایوسی کا سامنا کرنا پڑا جب ہیتھرو کے ہوائی اڈے پر پاکستانی ہائی کمیشن کی طرف سے لگائے گئے ویزا کیمپ نے انہیں ویزا جاری کرنے سے انکار کر دیا۔ ڈاکٹرہری داس کو ہوائی اڈے سے واپس لوٹنا پڑا۔

ڈاکٹر ہری داس نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام

ہندؤ ہونے کے سبب ایک ڈاکٹر کو ویزا جاری نہ کیا جانا انتہائی افسوسناک ہے لیکن کسی ڈاکٹر کے پاس جب کوئی مریض آتا ہے تو وہ اس کا مذہب نہیں پوچھتا
سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ پاکستان جانے کے تمام اخراجات خود برداشت کر رہے تھے اور یہ فیصلہ انہوں نے حکومت پاکستان کی طرف سے اس اعلان کے بعد کیا تھا کہ انہیں پونڈ نہیں ڈاکٹر چاہیں۔

پاکستان ہائی کمیشن کے ترجمان سے جب رابطہ کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر ہری داس کی ویزا کی درخواست رد نہیں کی گئی اور نہ ہی انہیں ویزا دینے سے انکار کیاگیا ہے۔ ترجمان نے کہا کہ ڈاکٹر ہری داس کی ویزا درخواست پر غور کیا جا رہا ہے اور ان کو مناست وقت میں ویزا جاری کر دیا جائے گا۔

ترجمان نے کہا کہ ان کی درخواست کی جانچ پڑتال کی ضرورت تھی اس لیے انہیں کیمپ آفس سے ویزا جاری نہیں کیا جاسکا اور اس درخواست کو ہائی کمیشن بھیج دیا گیا۔

ہری داس نے کہا کہ اگر انہیں اب ویزا جاری کر بھی دیا گیا تو وہ پاکستان نہیں جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ان کے تین ساتھی جن کا تعلق پاکستان سے ہفتے کو پاکستان جا رہے ہیں۔

ہری داس نے کہا کہ ان کا پروگرام تھا کہ وہ اپنی ساتھی ڈاکٹر کے ساتھ جا کر بیس کیمپ قائم کریں گے جہاں سے زخمیوں کو طبی امداد مہیا کرنے کے کام کا آغاز کیا جا سکے۔

برطانیہ میں قائم مسلم ہینڈ نامی تنظیم

دنیا بھر سے دوائیاں اور امدادی سامان پاکستان پہنچایا جا رہا ہے
نے ان ڈاکٹروں سے تعاون کر رہی ہے اور ان کو ضروری ادویات اور دیگر ساز و سامان مہیا کر رہی ہے۔

ڈاکٹر ہری داس نے کہا کہ اگر انہیں اب ویزا جاری کر بھی دیا گیا تو وہ پاکستان نہیں جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ان کے ہندؤ ہونے کے سبسب ان کو ویزا جاری نہ کیا جانا انتہائی افسوسناک ہے۔ ڈاکٹر ہری داس نے کہا کہ کسی ڈاکٹر کے پاس جب کوئی مریض آتا ہے تو وہ اس کا مذہب نہیں پوچھتا۔

دریں اثناء برطانیہ میں پاکستان کی ہائی کمیشنر ملیحہ لودھی ذاتی طور پر زلزلہ زدگان کے لیے امدای رقوم اکھٹا کرنے کی مہم میں شرکت کر رہی ہیں۔ وزارت خارجہ میں نوکری اختیار کرنے سے پہلے ملیحہ لودھی جس اخباری گروپ سےمنسلک رہی ہیں اس گروپ کے ٹی وی چینل کی طرف سے زلزلہ زدگان کی امداد کے لیے کیے جانے والے پروگرام میں انہوں نے شرکت کی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد