کراچی سے امدادی سامان چوری | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کراچی میں زلزلہ زدگان کے لیے امداد میں دیے گئے سامان کو فروخت کرنے کا انکشاف ہوا ہے۔ پولیس نے بڑی تعداد میں کپڑوں کے بنڈل برآمد کرکے ایک تاجر کو حراست میں لے لیا ہے۔ ٹی پی او کیماڑی محب علی کے مطابق کیماڑی کے علاقے میں دس ٹرکوں جتنا سامان ایک جگہ رات کے اندھیرے میں اتارا گیا۔ جس جگہ یہ سامان اتارا گیا وہ پلاٹ متنازعہ ہے۔ جس کی شکایت دکانداروں نے پولیس سے کی۔ جب پولیس پنہچی تو پتہ چلا کہ یا سامان تو زلزلے زدگان کے لیے دیا ہوا تھا۔ سامان بنڈلوں کی صورت میں میں بندھا ہوا تھا جن کے اوپر بچوں کے لیے اور بڑوں کے لیے تحریر تھا۔ ٹی پی او کے مطابق پولیس نے سامان اتارنے والے دو مزدور فدا حسین اور محمد امین اور دکاندار عبدالخالق کو گرفتار کرلیا ہے۔ مزدوروں نے پولیس کو بتایا ہے کہ ہم کو تین تین سو روپے مزدوری پر رکھا گیا تھا۔ 'ہم گلشن چورنگی، عائشہ منزل پر قائم کیمپوں سے یہ سامان لوڈ کرکے لائے تھے۔ مدینہ مسجد کے پاس سامان اتار رہے تھے کہ پولیس نے گرفتار کرلیا۔' پولیس کے مطابق عبدالخالق استعمال شدہ کپڑوں کا کاروبار کرتا ہے۔ اس کی لائٹ ہاؤس اور جونا مارکیٹ میں دکان ہے۔ گرفتار عبدالخالق کا کہنا ہے کہ اس کاروبار میں اس کے دو پارٹنر بھی ہیں جنہوں نے اس کو بتایا تھا کہ گلشن اقبال، گلشن چورنگی، عائشہ منزل کے کیمپوں سے رضاکاروں نے یہ کہہ کر ہمیں سامان فروخت کیا ہے کہ زلزلے زدگان کو اب کپڑوں اور کھانے پینے کی اشیاء کی ضرورت نہیں ہے۔ 'اس لیے انہوں نے یہ پرانے کپڑے ہمیں دیے ہیں اور کہا ہے کہ یہ بیچ کر ہمیں پیسے دو متاثرین کے لیے کفن اور ادویات بھجیں۔' عبدالخالق نے بتایا کہ بنڈلوں میں پرانے کپڑے جینس، شرٹیں اور جوتے ہیں۔ ان میں کھانے پینے کی کوئی بھی چیز شامل نہیں ہے۔ کیماڑی پولیس نے دکاندار عبدالخالق پر مقدمہ درج کرلیا ہے جبکہ مزدوروں کو چھوڑ دیا گیا ہے۔ مقدمہ کی تحقیقات انڈسٹریل کرائیم سیل کے حوالے کی گئی ہے۔ واضح رہے کہ کراچی میں سیاسی جماعتوں کے علاوہ این جی اوز اور لوگوں نے اپنے طور پر ہزاروں کی تعداد میں کیمپ قائم کیے ہیں جہاں امداد جمع کی جارہی ہے۔ یہ امداد کس طرح سے بھیجی جائیگی اور کتنی امداد ملی ہے اس کا کوئی ریکارڈ یا کوئی جوابدہ نہیں ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||