BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 15 October, 2005, 18:45 GMT 23:45 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
'مشرف مانتے توجانیں بچ جاتیں'
محبوبہ مفتی
مسئلے کا حل آسمان سے نہیں آتا بلکہ زمین پر ڈھونڈھنا پڑتا ہے: محبوبہ مفتی
بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں حکمران جماعت کی سربراہ محبوبہ مفتی نے کہا ہے کہ اگر پاکستان وزیر اعظم منموہن سنگھ کی سرحد پار امدادی کاررائیوں کی پیشکش قبول کر لیتا تو کشمیر میں کئی انسانی جانیں بچائی جا سکتی تھیں۔

بی بی سی ہندی کے ریڈیو پروگرام ' آپ کی بات بی بی سی کے ساتھ' میں بات کرتے ہوئے محبوبہ مفتی نے کہا کہ پیشکش قبول نہ کرنے کا الزام پاکستان کو نہیں دیا جا سکتا کیونکہ دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات ایسے ہی رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر پاکستان بھارت کو اپنی افواج بھارت بھیجنے کی پیشکش کرتا تو شاید بھارت بھی یہ پیشکش قبول نہ کرتا۔

پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی چئرپرسن محبوبہ مفتی نے کہا کہ وزیر اعظم منموہن سنگھ کی پیشکش کھلی اور فراخدلانہ تھی۔

انہوں نے کہا کہ مصیبت کے اس وقت میں ہمیں زمین کے جھگڑوں کو بھول جانا چاہیے تھا۔' میں سمجھتی ہوں کہ یہ ایک ایسا موقع تھا کہ جب ہم سرحد کی دونوں اطراف کشمیریوں کی بحالی کے لیے مشترکہ کام کر سکتے تھے۔ جب مسئلہ کشمیر کے حل کی بات ہوتی ہے تو مشترکہ کنٹرول کی بات کی جاتی ہے تو کیوں نہ اس کا آغاز مشترکہ امدادی کارائیوں سے کیا جاتا۔'

محبوبہ مفتی نے کہا کہ ایک دوسرے کے گاؤں کو اپنایا یا اڈاپٹ کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چونکہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر بری طرح متاثر ہوا ہے اس لیے ہماری خواہش ہے کہ ہم وہاں کئی دیہاتوں کو اڈاپٹ کریں اور ان کی تعمیر نو کریں۔

اسی طرح اگر پاکستان ہمارے ہاں گاؤں اڈاپٹ کرنا چاتا ہے تو اسے بھی اس کی اجازت ہونا چاہیے۔'ہمارے لیے ایک دوسرے کے کام آنے اور قربتیں بڑھانے کا اس سے زیادہ اچھا کوئی موقع نہیں ہو سکتا۔'

ا

گذشتہ دوسالوں میں پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات میں بہتری آئی ہے: محبوبہ مفتی
یک سامع کے سوال کے جواب میں کہ کیا پاکستان سرحد کھولنے سے عسکریت پسندوں کو بھارت میں داخل نہیں کر دے گا محبوبہ مفتی نے کہا کہ پچھلے دوسالوں میں دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات میں بہتری آئی ہے اس لیے اس بات کا امکان نہیں ہے۔

محبوبہ مفتی کا خیال تھا کہ واجپائی کے دورہ پاکستان سے اب تک صورت حال بہت بدل چکی ہے اور پوری دنیا میں بندوق کی بجائے مذاکرات کی بات ہو رہی ہے۔

انہوں نے کہا پچھلے دو ڈھائی سال میں دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات میں بہتری کے بعد ہمیں ایک دوسرے پر یقین کرنا ہوگا اس کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے۔ بس سروس اور واہگہ بارڈر کھلنے جیسے اقدامات ہو چکے ہیں۔ اس کے علاوہ کرکٹ سیریز کے دوران میں بھی لوگوں نے ماحول کو بدلا ہوا پایا۔

پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی سربراہ نے مزید کہا کہ ہر حکومت کو لوگوں کی رائے کے سامنے جھکنا ہوتا ہے اور خاص طور پر اس سانحے کے موقع پر اگر لوگ یہ خدشے ظاہر کرتے رہے کہ پاکستان سے دہشتگرد آ جائیں گے تو یہ انسانیت اور کشمیریوں کے ساتھ ظلم ہو گا۔

پروگرام کے دوران محبوبہ مفتی نے سرادر سکندر حیات سے کہا کہ وہ پاکستان کی حکومت سے بات کریں جبکہ وہ جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ سے بات کرنے کی کوشش کریں گی۔

محبوبہ مفتی کا کہنا تھا کہ کہیں نہ کہیں کوئی رکاوٹ ہے جس کی وجہ سے دونوں اطراف کے کشمیری ایک دوسرے کے قریب آتے آتے دور ہو جاتے ہیں۔ اگرسرحد کے دونوں طرف رہنے والے کشمیری اس سانحے کے بعد بھی نہیں مل پائے تو کیا قیامت میں ملیں گے؟

'اگر دونوں اطراف کی حکومتیں مسئلہ کشمیر کا حل چاہتی ہیں تو اس دعوے کو ثابت کرنے کے لیے اس سے بہتر موقع اور کوئی نہیں ہو سکتا۔'

محبوبہ مفتی کا کہنا تھا کہ اس سرحد کی وجہ سے کشمیری لاکھوں جانیں گنوا چکے ہیں۔

پروگرام کے دوران پاکستان کی سابق وزیر اعظم بے نظیر نے کہا کہ تباہ کن زلزلے کے بعد اس بات کی ضرورت بڑھ گئی ہے کہ سرحدیں نرم کر دی جائیں اور دونوں ملکوں کو اس موقع سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔

ایک سوال کے جواب میں محبوبہ مفتی نے کہا کہ کسی بھی مسئلے کا حل آسمان سے نہیں آتا بلکہ زمین پر ڈھونڈھنا پڑتا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد