'لائن آف کنٹرول نرم ہونی چاہیے' | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے وزیر اعظم سردار سکندر حیات نے کہا ہے کہ زلزلے سے متاثرین کی امداد کے لیے لائن آف کنٹرول میں نرمی پیدا کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ بی بی سی ہندی سروس کے پروگرام ' آپ کی بات بی بی سی کے ساتھ' میں بات کرتے ہوئے کہا کہ حکومت پاکستان کو سرحد کھولنے میں کوئی مسئلہ نہیں ہوگا اور اگر کوئی عناصر ایسے ہیں جو اس کے حق میں نہیں ہیں توان سے بات کی جاسکتی ہے۔ بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں حکمران جماعت پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی چیرپرسن محبوبہ مفتی نے بھی اس پروگرام میں حصہ لیا۔ محبوبہ مفتی کو مخاطب کرتے ہوئے سکندر حیات نے کہا کہ وہ اس بارے میں حکومت پاکستان کو قائل کرنے کی ذمہ داری لیتے ہیں اور محبوبہ مفتی سرحد کی دوسری جانب کی ذمہ داری لیں۔ سکندر حیات نے کہا کہ ان کی خواہش ہے کہ زلزلے میں بھاری جانی نقصان کے سانحے کے بعد دونوں طرف سے ایک دوسرے کے لیے ہمدردی اور محبت بڑھنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ لائن آف کنٹرول کی ایک بین الاقوامی حیثیت ہے اور یہ کہنا کہ اس وقت لائن آف کنٹرول کو مکمل طور پر ختم کر دیا جائے غلط ہوگا اور یہ بین الاقوامی قو انین کی خلاف ورزی ہو گی۔تا ہم سرحد کو نرم کیا جا سکتا ہے۔ بھارتی وزیر اعظم منموہن کی امدادی کاموں میں تعاون کی پیشکش کے بارے میں بات کرتے ہوئے سردار سکندر حیات نے کہا کہ انہوں نے منموہن سنگھ کا شکریہ ادا کیا ہے اور وہ اس پیشکش کو خوش آمدید کہتے ہیں۔ انہوں نے تجویز کیا کہ متاثرہ علاقے کے جن گاؤں میں بھارت کے لیے امدادی کاروائیاں کرنا آسان ہے ان میں بھارت کو آنے کی اجازت ہونا چاہیے اور بھارت کے زیر انتظام جن علاقوں میں پاکستان کے لیے پہنچنا آسان ہے وہاں پاکستان کو کام کرنا چاہیے۔ وزیر اعظم سردار سکند حیات نے کہا کہ سرحد کھولنا حکومت پاکستان یا آزاد کشمیر حکومت کے لیے مسئلہ نہیں ہے کیونکہ اقوام متحدہ کی قراردادیں بھی کشمیریوں کو یہ حق دیتی ہیں کہ وہ سرحد کے آر پار آزادانہ آ جا سکیں۔ بی بی سی کے ایک سامع کے اس سوال کے جواب میں کہ کیا پاکستان نے بھارتی پیشکش قبول نہ کر کے امن کی جانب پیش رفت کو پیچھے دھکیل دیا ہے، سکندر حیات نے کہا کہ ماضی کو بھلانا چاہیے۔ انہوں نہ کہا کہ وہ واجپائی صاحب کی اس بات سے اتفاق کرتے ہیں دوست بدلے جا سکتے ہیں پڑوسی نہیں بدلے جا سکتے۔ اس سانحے کا تقاضا ہے کہ ہم ماضی کو بھلا کر لوگوں کو بچائیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||