’بھارتی ہیلی کاپٹر ایل او سی پارنہیں‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستانی وزارت خارجہ کی ترجمان تسلیمہ اسلم نے بھارت کی طرف سے ہیلی کاپٹروں کے ذریعے امداد قبول کرنے کے معاملے کے بارے میں کہا ہے کہ اس میں کچھ نزاکتیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ زلزلے سے کشمیر میں بڑے پیمانے پر لوگ متاثر ہوئے ہیں اور یہ ایک افسوسناک سانحہ ہے جسے سیاسی تناظر میں رکھنا بدقسمتی ہوگی۔ دریں اثناء پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے وزیر اعظم سردار سکندر حیات خان نے سنیچر کو بی بی سی ہندی سروس کے ایک پروگرام میں کہا ہے کہ حکومت پاکستان کو سرحد کھولنے میں کوئی مسئلہ نہیں ہوگا اور اگر کوئی عناصر ایسے ہیں جو اس کے حق میں نہیں ہیں توان سے بات کی جاسکتی ہے۔
سرحدیں کھولنے کے بارے میں سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ انسانی سانحہ کو سرحدوں کا پابند نہیں ہونا چاہیے۔ اس سوال کے جواب میں کہ بھارت اس سلسلے میں کیا پہل کر سکتا ہے راؤ اندرجیت سنگھ نے کہا کہ بھارت نے پاکستانی حکومت کو ہر قسم کی مدد کے لیے کھلی پیشکش کی ہے۔ پاکستانی وزارت خارجہ کی ترجمان تسلیمہ اسلم نے کا کہنا تھا کہ پاکستان نے بھارت کی امداد قبول کرنے سے انکار نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے بھارت کو اپنی ضروریات سے آگاہ کیا ہے اور اس کو مدد مل بھی رہی جس کے لیے پاکستان بھارت کا مشکور ہے۔ لائن آف کنٹرول پار کرنے کی اجازت کے بارے میں انہوں نے کہا کہ وہ کشمیر کا ایک انتہائی مشکل علاقہ ہے اور ایسا نہیں ہے کہ راستہ کھل جانے سے لوگ آرام سے آ جا سکیں گے۔ ’یہ کہنا آسان ہے لیکن حقیقت میں مشکل ہے‘۔ ترجمان سے پوچھا گیا کہ بھارت کے لیے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے کچھ علاقے میں امداد پہنچانا آسان ہوگا کیونکہ وہ قریب ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس بارے میں بہت کچھ کہا جا رہا ہے لیکن اس معاملے کو تناطر میں رکھنا چاہیے اور ہیلی کاپٹروں کو ایل او سی پار کرنے کی اجازت دینے میں کچھ نزاکتیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت پاکستان کی ذمہ داری ہے کہ وہ متاثرین کی مدد کرے اور حکومت اور لوگ اس سلسلے میں کوشش کر رہے ہیں اور انہیں عالمی برادری کی مدد بھی حاصل ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||