BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 15 October, 2005, 23:03 GMT 04:03 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’بھارتی ہیلی کاپٹر ایل او سی پارنہیں‘
ہیلی کاپٹروں کی طرف نظریں
کشمیر میں متاثرین امداد لے کر آنے والے امریکی ہیلی کاپٹروں کی طرف دیکھ رہے ہیں

پاکستانی وزارت خارجہ کی ترجمان تسلیمہ اسلم نے بھارت کی طرف سے ہیلی کاپٹروں کے ذریعے امداد قبول کرنے کے معاملے کے بارے میں کہا ہے کہ اس میں کچھ نزاکتیں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ زلزلے سے کشمیر میں بڑے پیمانے پر لوگ متاثر ہوئے ہیں اور یہ ایک افسوسناک سانحہ ہے جسے سیاسی تناظر میں رکھنا بدقسمتی ہوگی۔

دریں اثناء پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے وزیر اعظم سردار سکندر حیات خان نے سنیچر کو بی بی سی ہندی سروس کے ایک پروگرام میں کہا ہے کہ حکومت پاکستان کو سرحد کھولنے میں کوئی مسئلہ نہیں ہوگا اور اگر کوئی عناصر ایسے ہیں جو اس کے حق میں نہیں ہیں توان سے بات کی جاسکتی ہے۔

بھارت کے مشکور ہیں
 پاکستان نے بھارت کو اپنی ضروریات سے آگاہ کیا ہے اور اس کو مدد مل بھی رہی جس کے لیے پاکستان بھارت کا مشکور ہے۔
تسلیمہ اسلم
بھارت کے وزیر مملکت برائے خارجہ امور راؤ اندرجیت سنگھ نے سردار سکندر حیات کے بیان کے بعد اپنے رد عمل میں کہا تھا کہ اس سانحہ کے بعد لائن آف کنٹرول کے اطراف رہنے والوں کو ایک دوسرے کی مدد کی اجازت ہونی چاہیے۔

سرحدیں کھولنے کے بارے میں سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ انسانی سانحہ کو سرحدوں کا پابند نہیں ہونا چاہیے۔

اس سوال کے جواب میں کہ بھارت اس سلسلے میں کیا پہل کر سکتا ہے راؤ اندرجیت سنگھ نے کہا کہ بھارت نے پاکستانی حکومت کو ہر قسم کی مدد کے لیے کھلی پیشکش کی ہے۔

پاکستانی وزارت خارجہ کی ترجمان تسلیمہ اسلم نے کا کہنا تھا کہ پاکستان نے بھارت کی امداد قبول کرنے سے انکار نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے بھارت کو اپنی ضروریات سے آگاہ کیا ہے اور اس کو مدد مل بھی رہی جس کے لیے پاکستان بھارت کا مشکور ہے۔

لائن آف کنٹرول پار کرنے کی اجازت کے بارے میں انہوں نے کہا کہ وہ کشمیر کا ایک انتہائی مشکل علاقہ ہے اور ایسا نہیں ہے کہ راستہ کھل جانے سے لوگ آرام سے آ جا سکیں گے۔ ’یہ کہنا آسان ہے لیکن حقیقت میں مشکل ہے‘۔

ترجمان سے پوچھا گیا کہ بھارت کے لیے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے کچھ علاقے میں امداد پہنچانا آسان ہوگا کیونکہ وہ قریب ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس بارے میں بہت کچھ کہا جا رہا ہے لیکن اس معاملے کو تناطر میں رکھنا چاہیے اور ہیلی کاپٹروں کو ایل او سی پار کرنے کی اجازت دینے میں کچھ نزاکتیں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حکومت پاکستان کی ذمہ داری ہے کہ وہ متاثرین کی مدد کرے اور حکومت اور لوگ اس سلسلے میں کوشش کر رہے ہیں اور انہیں عالمی برادری کی مدد بھی حاصل ہے۔

66کچھ بھی نہ بچ سکا
تنگدار میں زلزلے سے تباہی: سنجیو شری واستو
66جو بھی سکول گیا
’جو بھی اس دن سکول آیا واپس نہیں گیا‘
66جھٹکے پہ جھٹکا
زلزلے کے بعد کیا ہو رہا ہے: علی احمد خان کاکالم
66بےسہاروں کا مستقبل
سہمے ہوئے بچے انتہائی کرب سے گزر رہے ہیں
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد