پاکستان میں اکتوبر کی آٹھ تاریخ کو سات عشاریہ آٹھ اور اس کے بعد چھ عشاریہ چار کی شدت سے آنے والے دو زلزلوں میں جتنی توانائی خارج ہوئی ہے وہ ایک میگا ٹن کے ساٹھ ہزار ایٹم بموں کے دھماکوں کے برابر تھی۔ کراچی یونیورسٹی کے جیالوجسٹ ڈاکٹر نیئر ضیغم نے بی بی سی اردو سروس کو بتایا کہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر اور شمالی علاقوں میں اتنے شدید زلزلے کی وجہ زمین کی سطح سے صرف دس سے بیس کلو میٹر کی گہرائی پر توانائی کی بڑی مقدار کا اخراج تھا۔ انہوں نے کہا کہ اتنے شدید زلزلے نے ایک ڈگری سکوائر کے علاقے میں دوسری فالٹ لائنز کو بھی متحرک کر دیا ہے اور ماضی میں غیر متحرک یا سوئی ہوئی فالٹ لائنز بھی زلزلوں کو باعث بن رہی ہے۔ ڈاکٹر نیئر نے کہا کہ پندرہ تاریخ تک اس علاقے میں پچہتر زلزلے ریکارڈ کیے گئے جن کو سائنسی اصطلاح میں ’آفٹر شاک‘ یا جھٹکے کہنا ٹھیک نہیں بلکے یہ علیحدہ علیحدہ زلزلے تھے۔ انہوں نے کہا کہ اب تک ماہرین کا خیال یہی تھا کہ یہ بڑے زلزلے کے بعد آنے والے جھٹکے ہیں لیکن اس زلزلوں کا جائزہ لینے کے بعد معلوم ہوا ہے کہ یہ الگ الگ زلزلے تھے اور کسی ایک جگہ نہیں آ رہے۔ انہوں نے کہ ہمالیہ پہاڑیوں کے ’تھرسٹ سسٹم‘ میں ارتعاش پیدا ہوگیا ہے۔ |