الائی میں بھی لوگ حکومت پر برہم | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ سرحد کا دور افتادہ علاقہ الائی آٹھ اکتوبر کو آنے والے قیامت خیز زلزلے میں سب سے زیادہ متاثرہ ہونے والے علاقوں میں شامل ہے لیکن بارہ دن گزر جانے کے باوجود اس علاقے کے لوگوں کو کوئی خاطر خواہ امداد میسر نہیں آسکی ہے۔ بٹ گرام سے انتہائی دشوار گزار پہاڑی راستے پر کوئی دو گھنٹے کی مسافت پر واقع الائی گاؤں کا رابط، سڑک تباہ ہوجانے کے باعث ملک کے باقی حصوں سے منقطع ہو گیا ہے۔ بٹ گرام سے الائی کے درمیان واقع دیہات میں مکانات زلزلے سے یاتو مکمل طور پر تباہ ہو گئِے ہیں یا ان کو شدید نقصان پہنچا ہے اور رہنے کے قابل نہیں رہے اور بے شمار لوگ عارضی پناہ گاہوں میں سر چھپانے پر مجبور ہیں۔ اس راستے کے دونوں طرف پہاڑی ڈھلوانوں
بٹ گرام سے الائی بازار تک کا راستہ صرف فقیرآباد تک ہی کھلا تھا۔ آگے زمین کے کٹاؤ کی وجہ سے سفر جاری رکھنا ممکن نہیں تھا۔ لوگ گاڑیوں سے اتر کر پہاڑ کو عبور کر کے دوسری جانب کھڑی گاڑیوں میں بیٹھ کر سفر مکمل کرتے ہیں۔ سفر کا یہ مشکل پیدل حصہ ایک گھنٹے کا ہے۔ لوگ خیمے اور امدائی سامان اٹھائے پیدل پہاڑ پرچڑھتے ہیں۔ لوگ ٹنوں ملبہ ہٹانے میں مصروف بلڈوزروں کا انتظار نہیں کر سکتے۔ راستہ کھلے نہ کھلے وہ وقت ضائع نہیں کرسکتے۔ وقت ہی تو کلیدی چیز ہے اس وقت۔ قراقرم شاہراہ سے الائی کی جانب کا راستہ ایک تو سڑک پر جاری تعمیری کام سے اور دوسرا مسلسل زمینی کٹاؤ کی وجہ سے پتھروں سے اٹا پڑا ہے۔ سڑک پر جگہ جگہ جینز کی پتلون شرٹ میں ملبوس بچے اس پسماندہ علاقے سے واقف لوگوں کے لیے حیرت کا باعث ہیں۔ کچھ بچے اپنے سائز سے بڑے یا چھوٹے کپٹروں میں دکھائی دیتے ہیں۔ مقامی لوگوں کے مطابق اس پسماندہ اور غریب علاقوں کے ان بچوں کو یہ لباس امداد کے طور پر ملے ہیں۔ یہ بچے ہر آتی ہوئی گاڑی کے پیچھے 'سامان دو، سامان اگر ہے تو دو' کہتے دوڑ پڑتے ہیں۔ لوگ گاڑیوں کا راستہ روک روک کر امدادی سامان کے ٹرکوں کے بارے میں دریافت کرتے ہیں۔ کئی جگہ پر سڑک کے کنارے نوجوانوں
اس علاقے کے لوگ ابھی تک امداد کی آس لگائے بیٹھے ہیں۔ لگڑی کے زرین گل بھی خیمے کی ضرورت پوری کرنے کی آس میں سڑک کنارے بیٹھے تھے۔ اسی گاوں کے شیرین زادہ نے بتایا کہ زلزلے میں ان کے دو بچے ہلاک ہوگئے ہیں اور ان کا مکان تباہ ہو گیا ہے۔ اس نے ایک فوجی کی جاری کی جانے والے پرچی دکھائی جس پر اسے ایک خیمے، کمبل اور آٹے کا حقدار قرار دیا۔ فقیرآباد کے لوگ امداد نہ ملنے پر سیخ پا تھے۔ ان کے نمائندہ گل جان نے کہا کہ وہ بٹ گرام اور الائی کے درمیان میں ہیں۔ امداد یا تو ہیلی کاپٹروں کے ذریعے الائی لائی اور تقسیم کی جاتی ہے یا پھر بٹ گرام میں ہیں بانٹ دی جاتی ہے اور ان کے ہاتھ کچھ نہیں آتا۔ 'پشاور سے ڈاکٹروں کا ایک گروپ نو روز بعد پہلی مرتبہ ان کے گاؤں پہنچا اور زخمیوں کو امداد دی۔' زلزلے کے کئی روز بعد الائی پہنچنے والے ایک فوجی ہیلی کاپٹر نے مقامی آبادی کو کافی بپھرا ہوا پایا۔ اس ہیلی پر سوار ایک ٹی وی ٹیم کو اسی وجہ سے نیچنے اترنے میں خطرہ محسوس ہوا اور انہوں نے صرف فضائی فلم پر ہی گزارا کیا۔ ہر کونے میں امداد پہنچانا حکومت اور امدادی تنظیموں کے لئے یقیناً ایک بڑا چیلنج ہے۔ تاخیر کا ایک ایک دن اس غصے میں اضافہ پیدا کر رہا ہے۔ الائی میں یہ لاوا بظاہر کافی پک چکا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||