| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں زلزلے کے باعث ہزاروں خاندان پاکستان کے مختلف شہروں میں منتقل ہوگئے ہیں۔ یہ خاندان یا تو اپنے طور پر رہ رہے ہیں یا حکومت کی طرف سے قائم چند خیمہ بستیوں میں رہائش پذیر ہیں یا وہ اسلام آباد میں کیپٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے تعمیر کیے گئے فلیٹس میں رہتے ہیں ۔یہ فلیٹس اسلام آباد میں آبپارہ میں واقع ہیں ۔ ایسے ہی ایک مقام پر بہت سارے بچے ڈھیر میں کپڑے تلاش کر رہے تھے۔ ایک بچی نے کہا کہ اس کو کچھ نہیں ملا۔ ایک بچا ہنستےہوئے بولا کہ اس کو ایک جیکٹ مل گئی لیکن وہ اسکو چھوٹی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کو یہ کپڑے پسند نہیں ہیں اور یہ سارے بچے کھلکھلاتے ہوئے بیک آواز بولے کہ یہ لنڈا بازار ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ' کشمیری اس مشکل حالات میں بھی اس سے کئی بہتر چیزیں عطیے میں دے سکتے ہیں'۔ لگ بھگ تین سو فلیٹس میں کچھ دنوں سے مقیم چھ سات سو خاندان خاصی مشکل زندگی گذار رہے ہیں۔ایک فلیٹ میں مقیم مظفرآباد کی خاتون نبیلہ حبیب کا کہنا ہے کہ 'ہم تین خاندان دو کمروں کے فلیٹ میں رہتے ہیں اور گزر اوقات کر رہے ہیں'۔ 'یہ زندگی نہیں ہے۔ کہاں اپنا گھر اور گھر کا آرام اور کہاں یہ'۔ انہوں نے جذباتی ہو کر کہا کہ ان کے پرانے گھر کا سٹور ان کمروں سے بہتر تپا جس میں وہ اب سوتے ہیں۔ 'ہم دوسروں کے محتاج ہوگئے ہیں کہ وہ کھانا لائیں گے اور ہم کھائیں گے جب ہمیں شاپر میں پیک کرکے کھانا دیا جاتا ہے تو بہت دکھ ہوتا ہے پہلے ہم روتے ہیں پھر ہم کھاتے ہیں۔ 'ہماری عزت نفس مجروع ہورہی ہے ۔ہمیں ساری رات نیند نہیں آتی ہے ہمیں کوئی سکون نہیں ہے'۔ انہوں نے کہا کہ 'ہمیں پیر کے روز بچوں کے کچھ چیزیں خریدنے بازار جانا ہوا تو ہم کو وہاں دوکانیں دیکھ کر اس لیے رونا آرہا تھا کہ ہم بھی کبھی ایسی ہی دوکانوں کے مالک تھے'۔ نبیلہ کا کہنا کہ یہاں کے لوگوں نے ہماری بہت مدد کی لیکن ساتھ ہی ان کا کہنا تھا کہ 'ہم اپنے شہر میں عزت سے اور ٹھاٹھ سے رہتے تھے لیکن ہم یہاں چوروں کی طرح رہ رہے ہیں'۔ ان فلیٹس میں رہنے والے بےگھر کشمیری اپنے اور اپنے بچوں کے مستقبل کے بارے میں فکر مند ہیں ۔ آصفہ جو پیشے سے ایک استاد کا کہنا ہے کہ 'ہمارے بچے اچھے اسکولوں میں پڑتے تھے لیکن یہاں ہمارے بچوں کو کوئی سہولت نہیں ہے۔ ہمارے بچوں کا مستقبل کیا ہے، میں خود گریڈ سولہ کی ملازم ہوں ہمارا مستقبل کیا ہے ہماری بہنوں کا کیا مستقبل ہے ۔ کچھ سمجھ نہیں آرہا ہے ہم سوالیہ نشان بن گئے ہیں۔' آصفہ تین بچوں کی ماہ ہیں اور ان کا تعلق بھی مظفرآباد سے ہے ۔ان کا کہنا تھا کہ' کب تک ہم اپنے بچوں کو خشک بسکٹ اور ٹھنڈا دودھ دیں گے ہمارے بچے بیمار ہوجائیں گے جو آدھے بچے بچ گئے ان کو تو نہ ماریں'۔ 'ہم کو ہمیشہ کے لیے یہاں نہیں رہنا ہے۔ ہمارے گھر انشااللہ بن جائیں گے اور ہم واپس جائیں گے'۔ آصفہ نے جن کا تعلق مظفرآباد سے ہے کہا کہ 'ہمیں ان فلیٹس کو کیا کرنا ہے۔ ہمارے اپنے گھر ڈھائی کنال پر تھے۔ ہمارے بچے ان فلیٹس میں بہت تنگ ہیں وہ یہاں باتھ روم میں نہیں جاتے ہیں وہ کہتے ہیں گندے ہیں۔ کیا کریں کیسے رہیں بہت مشکل ہے گزارہ کرنا'۔ پروفیسر عبدالمجید کا تعلق بھی مظفرآباد سے ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ 'ہمیں ان فلیٹس میں بجلی، پانی اور گیس میسر نہیں ہے جبکہ یہاں تینوں کے کنکشن پہلے سے ہی موجود ہیں'۔ ان کا کہنا تھا کہ 'ہمارے پاس کوئی حکومتی اہلکار نہیں آیا البتہ ان کا کہنا تھا کہ ہمارے لوگوں نے قومی اسمبلی کے سپیکر سے ملاقات کرکے انہیں اپنی مشکلات سے آگاہ کیا تھا اور انھوں نے یہ یقین دہانی کرائی تھی کہ وہ ہمارے مسائل حل کریں گے لیکن ابھی تک کچھ نہیں ہوا'۔ حکومت نے زلزلے سے متاثرہ علاقے میں امدادی کام شروع کیا ہے لیکن یہ اندازہ نہیں لگایا جا سکتا کہ یہ خاندان کتنے عرصے تک مشکلات کا شکار رہیں گے اور کب ان کی معمول کی زندگی بحال ہوگی۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||