BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 19 October, 2005, 08:01 GMT 13:01 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
زلزلہ زدگان کےلیے بلا معاوضہ فلم

فلمی اداکارائیں
اس قافلے میں اداکارہ میرا کے علاوہ شان، صائمہ، ریشم، شیبا بٹ ہدایت کار اور فلم ساز سید نور، جمشید ظفر، الطاف حسین اور دوسرے بھی موجود رہے

پاکستان کے فلمی ستاروں نےمنگل کو پنجاب کے صنعتی شہر سیالکوٹ سے بارہ لاکھ روپے کا چندہ اکٹھا کیا اور رات گئے واپس پہنچنے پر ایک ایسی فلم بنانے کا اعلان کیا ہے جس میں ہیرو سے لیکر چائے لانے والے چپراسی تک کوئی معاوضہ نہیں لے گا اور فلم کی رقم آفت زدگان کو عطیہ کر دی جائے گی۔

پیر کو روانگی کے وقت سب شان اور میرا کا انتظار کرتے رہے جودیر سے آئے اور ان کی وجہ سے فلمی ستاروں سے بھری بس مقررہ وقت سے تین گھنٹے تاخیر سے سیالکوٹ پہنچی لیکن یہ کسر نکالنے کے لیے فلمی ستارے مختلف ٹیموں میں بٹ کر چندہ مانگتے رہے۔

زلزلے سے متاثرہ خواتین
خواتین کو ضروری اشیاء اور فوری طبی امداد کی ضرورت ہے

فلمی ستاروں نے منگل کا سارا دن سیالکوٹ کے کارخانوں، کاروباری اداروں اور امیر سرمایہ داروں کے گھروں پر دستک دینے اور زلزے کے آفت زدگان کے لیے امداد کی اپیلیں کرنے میں گزارا۔

یہ فلمی اداکار اور اداکارائیں جہاں جاتے لوگ ان کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے اکٹھے ہوجاتے اور خوبصورت ہیر وئنیں جس صنعتکار کو امداد کے لیے کہتی اس سے انکار نہ ہوپاتا لیکن سارے دن کی چندہ مہم نے سب کو تھکا دیا۔

یہ قافلہ منگل کی رات گیارہ بجے لاہور ایورنیو سٹوڈیو واپس پہنچا تو بس سے اترتی ہوئی ادارکارہ میرا نے کہا کہ انہوں نے سارا دن لوگوں کے گھروں اور کاروباری مراکز پر جاکر ان سے حسب توفیق چندہ دینے کی استدعا کی۔

اس قافلے میں اداکارہ میرا کے علاوہ شان، صائمہ، ریشم، شیبا بٹ ہدایت کار اور فلم ساز سید نور، جمشید ظفر، الطاف حسین اور دوسرے بھی موجود رہے۔

ہدایت کار او فلم ساز مبشر لقمان کے مطابق لوگوں کی پذیرائی حیران کر دینے والی رہی۔

پاکستان کے فلم سازوں اور اداکاروں نے خود اپنے پاس سے بھی دس لاکھ روپے جمع کیے ہیں جن میں شان کے ایک لاکھ روپے اور ریشم کے پچیس ہزار روپے کے عطیات شامل ہیں لیکن آل پاکستان فلم پروڈیوسر ایسو سی ایشن کے نائب چیئرمین جمشید ظفر کہتے ہیں کہ اس دس لاکھ کے علاوہ ریشم نے مزید پانچ لاکھ روپے اور میرانےایک لاکھ روپے دینے کا اعلان کیا ہے ۔

 فلمی صنعت کے لوگوں نے شہر شہر چندہ اکٹھا کرنے کے علاوہ بیرون ملک کلچرل شو کرنے کا منصوبہ بھی بنا رکھا ہے۔ جس کی ساری آمدن عطیہ کر دی جائے گی۔

فلم ساز جمیشد ظفر نے بتایا کہ اس فلم کی کہانی کے لیے کہانی نویسوں کا ایک گروپ مصروف ہے یہ ایک مکمل کمرشل فلم ہوگی جس میں کام کرنے والے اداکار ، فلم ساز،سٹوڈیو مالک اور ٹیکنشن سمیت کوئی شخص اپنے کام کا معاوضہ نہیں لے گا اوردیگر روزانہ اخراجات کے لیے بھی آپس میں چندہ اکٹھا کیا جائے گا۔

فلمی صنعت کے لوگوں نے شہر شہر چندہ اکٹھا کرنے کے علاوہ بیرون ملک کلچرل شو کرنے کا منصوبہ بھی بنا رکھا ہے۔ جس کی ساری آمدن عطیہ کر دی جائے گی۔

فلمی ستاروں کی خواہش ہے کہ ان کے جمع کردہ عطیات سے آفت زدگان کے لیے رہائشی کالونی بنائی جائے۔

66بیماری،چوری کاخطرہ
مظفر آباد: بیماریوں سے بچاؤ کے لیے سپرے
66زلزلے کے بعد بارش
متاثرین کی مشکلات میں مزید اضافہ: تصاویر میں
66خیموں کی ضرورت
کاغان کے رہائشیوں کو خمیوں کی اشد ضرورت۔
66ڈاکٹر کی ڈائری
زلزلے کے بعد ہر جگہ پر ایک ہی کہانی ہے
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد