 | | | ہمارے پاس بہت قابل لوگ ہیں جو پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کو دوبارہ بسانے میں مدد دے سکتے ہیں |
بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں حکمران اتحاد میں شریک پی ڈی پی کی سربراہ محبوبہ مفتی نے کہا کہ وہ ایل او سی کھولنے کی پیشکش کا خیر مقدم کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مشکل وقت میں کشمیریوں کو ملنے دیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ وہ توپہلے ہی زور دے رہی تھیں کہ سیاست کو ایک طرف رکھ کے کشمیر کے لوگوں کو ملنے دیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں اس وقت مصیبت کی گھڑی ہے اور 'ہمیں موقع ملنا چاہیے کہ ہم ان کی مدد کر سکیں'۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے ٹنگڈار کے دورے کے دوران ایل او سی کے پار زلزلے سے متاثر ہونے والا ایک ایسا گاؤں دیکھا جو پچاس فٹ کی دوری پر ہے لیکن وہاں جایا نہیں جا سکتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اس گاؤں میں اس وقت تک کوئی امداد نہیں پہنچی تھی۔ ان سے پوچھا گیا کہ سرینگر مظفر آباد سڑک کے بارے میں بھارتی فوج کا کہنا ہے کہ اسے سفر کے قابل بنانے میں دو مہینے لگ سکتے ہیں۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ اس کے علاوہ ٹیٹوال اور کیرن سے بھی راستہ ہے۔ انہوں نے کہ ایل او سی کے پار تعمیر نو کا کام ایک عرصے تک چلے گا یہ کوئی دنوں کی بات نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر کے اس حصے کے انجنیر، ڈاکٹر وغیرہ اس کام اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ صدر جنرل مشرف کی طرف سے سیاسی رہنماؤں کو ایل او سی کے پار آنے جانے کی اجازت کے بارے محبوبہ مفتی نے کہا کہ ان کے پاس انتہائی قابل ڈاکٹر، ٹھیکیدار اور انجنیر ہیں اور سیاسی رہنما ہیں جو اس پار کے کشمیر کو دوبارہ بسانے میں اہم مدد کر سکتے ہیں۔ |